
ممتا بنرجی / آئی اے این ایس
مغربی بنگال میں رواں سال اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ انتخابات سے عین قبل بہار حکومت کے ایک فیصلے نے بنگال کی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ دراصل بہار میں عوامی مقامات پر گوشت و مچھلی کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ترنمول کانگریس نے اس فیصلہ پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ترنمول کانگریس کا کہنا ہے کہ بی جے پی لوگوں کے کھانے پینے کی پسند پر کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔ اگر بنگال میں بی جے پی کی حکومت بنی تو یہاں بھی گوشت و مچھلی کی خرید و فروخت پر پابندی لگا دی جائے گی۔
Published: undefined
ترنمول کانگریس کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت پہلے مندر کے آس پاس کے بازار، پھر کھلے مقامات، اور اب تعلیمی و مذہبی اداروں کے ساتھ ساتھ بھیڑ بھاڑ والے علاقوں کے قریب گوشت و مچھلی کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کر رہی ہے۔ پارٹی نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’ہم جو دیکھ رہے ہیں وہ گوشت و مچھلی کے استعمال پر ملک گیر پابندی ہے۔‘‘
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ بہار کے نائب وزیر اعلیٰ اور بی جے پی لیڈر وجے کمار سنہا نے عوامی مقامات پر گوشت و مچھلی پر عائد کردہ پابندی کو صفائی کے لیے اٹھایا گیا قدم بتایا ہے۔ وجے کمار سنہا نے چند روز قبل کہا تھا کہ مذہبی و تعلیمی اداروں کے قریب مچھلی و گوشت کی فروخت پر پابندی لگائی جائے گی، تاکہ عوامی صحت اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھی جا سکے اور بچوں میں پُرتشدد رجحانات کو روکا جا سکے۔
Published: undefined
وجے سنہا کے فیصلہ کو حکومت کی ملک گیر پالیسی قرار دیتے ہوئے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ ’’اگر آپ بی جے پی کو ووٹ دیں گے تو وہ ہمیں بازار میں مچھلی و گوشت بیچنے نہیں دیں گے۔ مجھے سبزی خوروں سے کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن بنگال میں مچھلی و گوشت کی فروخت پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔‘‘ ٹی ایم سی نے الزام عائد کیا کہ مچھلی اور چاول کھانے والے بنگالیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے ہمیشہ ان کی تنگ نظر اور قدامت پسند تشریحات کو چیلنج کیا ہے۔ ہم نے ان کے گھٹن بھرے دائرے سے باہر نکل کر پھلنے پھولنے کی ہمت دکھائی ہے۔ جسے بی جے پی سمجھ نہیں پاتی، اسے مٹانے کی کوشش کرتی ہے۔ اگر لوگ بی جے پی پر بھروسہ کریں گے تو یہی ہوگا۔ مچھلی و گوشت پر پابندی لگے گی، ہماری تھالیوں پر نگرانی رکھی جائے گی، اور آخرکار بنگالیوں کا وجود ختم ہو جائے گا۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined