قومی خبریں

بابری مسجد مقدمہ: جمعیۃ کے وکیل راجیو دھون کو دھمکی، توہین عدالت کی پٹیشن داخل

مقدمہ کی سماعت کے سولہویں دن ہندو فریقوں کی بحث مکمل ہو گئی، اس کے بعد جمعیۃ علماء ہند کی نمائندگی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ راجیو دھون نے عدالت کو بتایا کہ وہ پیر کے دن سے اپنی بحث کا آغاز کریں گے۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا 

نئی دہلی: بابری مسجد ملکیت مقدمہ کی سماعت کے سولہویں دن تمام ہندو فریقوں کی بحث مکمل ہو گئی۔ اس کے بعد جمعیۃ علماء ہند کی نمائندگی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ راجیو دھون نے عدالت کو بتایا کہ وہ پیر کے دن سے اپنی بحث کا آغاز کریں گے۔

Published: undefined

رام جنم بھومی سمیتی کی نمائندگی کرنے والے وکیل پی این مشرا نے جمعہ کے روز اپنی نا مکمل بحث کا آغاز کرتے ہو ئے مسجد کی شرعی حیثیت پر روشنی ڈالتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ امام ابو حنیفہ کے مطابق اگر دن میں دو مرتبہ نماز ادا نہیں کی گئی تو وہ جگہ مسجد کا درجہ نہیں رکھتی اور قبروں سے گھری ہوئی جگہ پر بھی مسجد نہیں بنائی جاسکتی ہے، جس کا ذکر الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ میں بھی کیا گیا ہے۔

Published: undefined

پی این مشرا نے مزید بتایا کہ مندروں میں گھنٹہ (بیل) کی اہمیت ہوتی ہے اور بغیر بیل کے مندر نہیں ہوسکتا ہے۔ اس پر جسٹس بوبڑے نے دریافت کیا آیا کسی بھی گواہ کی گواہی میں بیل یعنی کے گھنٹے کا ذکر ہے؟ جواب میں پی این مشرا نے بتایا کہ 1949 میں قبضہ کے وقت بیل ملی تھی۔ اس پر جسٹس اشوک بھوشن نے کہا کہ بیل کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ پی این مشرا نے عدالت کو بتایا کہ متنازعہ جگہ پر وضو کرنے کی کوئی سہولت نہیں تھی اور بغیر وضو کیئے نماز ادا نہیں کی جاسکتی ہے۔ جس پر جسٹس اشوک بھوشن نے کہا کہ آپ نے ہی اس سے پہلے کہا تھا کہ دھول سے بھی وضو یعنی کے تیمم کیا جا سکتا ہے۔

Published: undefined

اس کے بعد پی این مشرا کی بحث کا اختتام ہوا اور آل انڈیا ہندو مہا سبھا کی جانب سے ایڈوکیٹ ہری شنکر جین نے بحث شروع کی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ 1855سے قبل اس جگہ نماز ادا نہیں کی جاتی تھی نیز یہ ایک ہندو مندر تھا جس پر غیر قانونی طریقہ سے قبضہ کیا گیا تھا، ائیر پورٹ پر بھی نماز پڑھنے کی سہولت ہوتی ہے تو کیا مسلمان اس کا قبضہ حاصل کرسکتا ہے؟

Published: undefined

انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں ہندو قانون کا سہارا لینا چاہے کیونکہ بابر نے ہندوستان پر قبضہ کیا تھا۔ اسی درمیان جسٹس بوبڑے نے دریافت کیا کہ ہندو مہا سبھا کی نمائندگی کون کررہا ہے جس پر ایڈوکیٹ جین نے کہا کہ ہندو مہاسبھا میں اندورنی اختلاف ہے جس کی وجہ سے دو اپیلیں داخل کی گئیں ہیں۔

Published: undefined

گذشتہ کئی دنوں سے جاری ایڈوکیٹ پی این مشر ا کی بحث کا نچوڑ یہ تھا کہ مسجد غیر شرعی طریقہ سے بنائی گئی تھی، انہوں نے اس بات پر زور نہیں دیا کہ مسجد مندر منہدم کرکے بنائی گئی جو اس بات کا خلاصہ کرتا ہے کہ ہندو فریقوں میں ہی تضاد ہے کہ آیا مسجد مندر توڑ کر بنائی گئی یا مسجد غیر شرعی طریقہ سے بنائی گئی۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ بابری مسجد کی ملکیت کے تنازعہ کو لیکر سپریم کورٹ آف انڈیا میں زیر سماعت لیڈ میٹرسول پٹیشن نمبر 10866-10867/2010 پر بحث کے دوران جمعیۃ علماء ہندکی جانب سے سینئر وکیل ڈاکٹر راجیودھون کی معاونت کے لیئے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول کے علاوہ ایڈوکیٹ کنور آدتیہ سنگھ، ایڈوکیٹ تانیا شری، ایڈوکیٹ آکرتی چوبے، ایڈوکیٹ قراۃ العین، ایڈوکیٹ سدھی پاڈیا، ایڈوکیٹ ایشا مہر و دیگر بھی موجود تھے۔

Published: undefined

لنچ کے بعد جیسے ہی عدالتی کاروائی شروع ہوئی شیعہ وقف بورڈ کی نمائندگی کرنے والے ایڈوکیٹ ایم سی دھینگرا نے عدالت سے کہا کہ وہ ہندو فریق کا سپورٹ کرنا چاہتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے انہیں بیٹھ جانے کو کہا اور کہا کہ ان کے دلائل کی سماعت بعد میں کی جائے گی۔ ایڈوکیٹ جین کے دلائل کی سماعت کے بعد شیعہ وقف بورڈ کے وکیل دھینگرا نے عدالت کو بتایا کہ اس مسجد میں شیعہ اور سنی دونوں نماز ادا کرتے تھے لیکن شیعہ فرقہ میں تراویح نماز کا تصور نہیں ہے لہذا سنی امام کا انتخاب کیا گیا تھا۔

Published: undefined

عدالت نے جب دریافت کیا کہ تراویح نماز کیا ہوتی ہے تو جمعیۃ علماء ہند کے وکیل آن ریکارڈ اعجاز مقبول نے عدالت کو بتایا کہ تروایح وہ نماز ہے جو دن کی آخری نماز یعنی کے عشاء کی نماز کے بعد بیس رکعت رمضان المبارک میں ادا کی جاتی ہے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ آج 70 سال بعد نچلی عدالت کے فیصلہ کے خلاف اپیل داخل کر رہے ہو جس پر اب سماعت نہیں ہوسکتی کیوں کہ اپیل داخل کرنے میں دیری ہوچکی ہے۔ شیعہ وقف بورڈ نے 1946 کے فیصلہ کے خلاف اپیل داخل کی ہے جس پر سماعت ہونا باقی ہے لیکن آج چیف جسٹس نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اس معاملہ میں شیعہ وقف بورڈ کے دلائل کی سماعت نہیں کریں گے، جو ہندو فریق کی کو مدد کرنا چاہتے ہیں۔

Published: undefined

اسی درمیان آج جمعیۃ علماء ہند کے آن ریکارڈ ایڈوکیٹ اعجازمقبول نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں ایک عرضداشت داخل کرتے ہوئے عدالت کی توجہ سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیو دھون کو پروفیسر شنموگم کی جانب سے ملنے والی دھمکی کی جانب مبذول کراتے ہوئے اس کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی درخواست کی۔ پروفیسر این شنموگم کا تعلق چنئی سے ہے اور وہ ریٹائرڈ ایجوکیشن آفیسر (حکومت ہند) بھی رہ چکے ہیں۔ پروفیسر شنموگم نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ڈاکٹر راجیو دھون کو بابری مسجد مقدمہ سے دستبردار ہوجا نا چاہئے ورنہ انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتاہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا کی طرف سے اس خصوصی پٹیشن پر جلدسماعت ممکن ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined