قومی خبریں

بابا رام دیو نے بھی ملک کے تعلیمی نظام پر کیا تشویش کا اظہار، خاص طور پر طلبا تحریک کا کیا ذکر

بابا رام دیو نے الزام لگایا کہ ’’سرکاری ملازمتوں میں 99 فیصد تک گھپلہ ہوتا ہے۔ وہ اپنی ذات، طبقے، برادری اور نظریے سے تعلق رکھنے والوں کو ملازمت دیتے ہیں اور باقی کو دھکے مار کر باہر کر دیتے ہیں۔‘‘

رام دیو / تصویر سوشل میڈیا
رام دیو / تصویر سوشل میڈیا 

یوگ گرو بابا رام دیو نے جین-زی تحریک کے حوالے سے بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ملک میں ہر طرف ہنگامہ برپا ہے۔ چھوٹے چھوٹے اسکول اور کالجوں سے بچے نکل رہے ہیں۔ وہاں ٹیچرس، کتابیں، بجلی، پانی اور بیت الخلا جیسی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ج’’جہاں سب کچھ موجود ہے، وہاں پڑھائی میں نقل ہوتی ہے اور پرچہ لیک ہو جاتا ہے۔‘‘ یوم آزادی کے موقع پر ہریدوار میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ تعلیمی نظام اور سرکاری بھرتی کے عمل پر سنگین سوالات اٹھائے۔ انہوں نے بجلی، اساتذہ کی کمی، سرکاری ملازمتوں کے انٹرویوز میں بدعنوانی سمیت کئی مسائل کا ذکر کیا۔

یوگ گرو بابا رام دیو نے کہا کہ ’’ملک میں ہر طرف ہنگامہ ہے۔ بچے کہہ رہے ہیں کہ ہمارے یہاں ٹیچر نہیں ہیں، بجلی نہیں ہے، پانی نہیں ہے، بیت الخلا نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’کہیں نقل ہو جاتی ہے، کہیں پرچہ لیک ہو جاتا ہے، تو کہیں سرکاری ملازمتوں کے انٹرویوز میں 99 فیصد گھپلے ہوتے ہیں۔‘‘ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’سدھر جاؤ، ورنہ مزید تحریکیں ہو سکتی ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ملک میں گھپلے بھی بہت ہیں۔ بابا رام دیو نے الزام لگایا کہ ’’سرکاری ملازمتوں میں انٹرویو کے دوران 90 سے 99 فیصد تک گھپلہ ہوتا ہے۔ وہ اپنی ذات، طبقے، برادری اور نظریے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ملازمت دیتے ہیں اور باقی لوگوں کو دھکے مار کر باہر کر دیتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ سب توہین آمیز اور جمہوریت کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’ایک طرف ہم ’ستیہ میو جیتے‘ کی بات کر رہے ہیں۔ دوسری طرف پہلے سے طے کرکے لاکھوں، کروڑوں روپے لے کر ملازمتیں بانٹی جا رہی ہیں۔ اگر ملک میں مسلسل تحریکیں ہی چلتی رہیں، تو یہ ملک کیسے چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب سرکاری ملازمتوں میں 50 لاکھ سے لے کر ایک کروڑ روپے لے کر تقرری کا کھیل چل رہا ہے۔‘‘ بابا رام دیو نے کہا کہ ’’ویسے تو تحریک کے نام پر وہ انتشار کی حمایت نہیں کرتے اور نہ ہی اسے برداشت کرتے ہیں، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ملک میں گھپلے بھی بہت ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ان گھپلوں کو ٹھیک کر لو، کہیں ایسا نہ ہو کہ بابا رام دیو کو دوبارہ تحریک چلانی پڑے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’آج ملک میں نفرت اور عداوت کا ایسا ماحول بن گیا ہے کہ ملک کی پارلیمنٹ میں اقتدار اور اپوزیشن پاکستان اور ہندوستان کی طرح ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔