
لکھنؤ: بابر مسجد۔رام مندرمتنازع اراضی ملکیت کے معاملے سپریم کورٹ کی جانب سے آنے والے ممکنہ فیصلے کے پیش نظر ریاست میں سیکورٹی سخت کردگئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نظم ونسق کا برقرار رکھنے کے لئے ریاستی حکومت کے مطالبے پر سنٹرل پارلیمنٹری فورسز کی 40 کمپنیاں یو پی کے لئے روانہ کردی گئی ہیں۔ ساتھ ہی مختلف اضلاع میں ڈرون کیمروں سے بھی نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ ایودھیا میں چپے چپے پر ڈرون کیمرے کی نظر ہے۔
Published: 06 Nov 2019, 10:16 PM IST
ریاست میں نظم ونسق میں کسی بھی چوک سے بچنے کے لئے انتظامیہ نے پہلے سے ہی افسران کے تمام چھٹیاں منسوخ کردی ہیں اور ریاست کے تمام 75 اضلاع میں سی آر پی سی کی دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔ تمام سیاسی پارٹیاں اور مذہبی تنظیمیوں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فیصلے کے بعد سماجی ہم آہنگی کو برقرار کررکھیں اور کسی بھی صورت مشتعل نہ ہوں۔تمام سیاسی جماعتیوں اور مذہبی تنظیموں نے اس بات کا تیقن دیا ہے کہ وہ عدالت عظمی کی جانب سے آنے والے ہر فیصلے کو قبول کریں گے۔خواہ ہو بابری مسجد کے حق میں ہو یا رام مندر کے۔
Published: 06 Nov 2019, 10:16 PM IST
ان تمام کے درمیان سنٹر نے پارلیمانٹری فورسز کی 40 کمپنیاں ریاست میں بھیج دی ہیں۔ وزارت داخلہ نے پیر کو اترپردیش کے لئے پارلیمنٹری فورسز کی 40 کمپنیوں کی اجازت دی ہے۔ جو کہ ریاست میں 18 نومبر تک قیام کریں گی۔ ذرائع کے مطابق پارلیمنٹری فورسز کی 15 کمپنیاں فورا یو پی میں بھیج دیا گیاہے جن میں تین۔تین کمپنیاں بی ایس ایف،آر اے ایف ،سی آئی ایس ایف،آئی ٹی بی پی اور ایس ایس بی کی شامل ہیں۔ جبکہ سنٹرل آرمڈ پولیس فورس (سی اے پی ایف) کی دیگر 15 ٹکڑیاں یو پی 11 نومبر کو پہنچیں گی اور 18 نومبر تک قیام کریں گی۔
Published: 06 Nov 2019, 10:16 PM IST
اس کے علاوہ مرکز نے ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کی 10 کمپنیوں کو 18 نومبر تک کے لئے یو پی بھیجنے کی اجازت دی ہے۔مجموعی طور سے 40 کمپنیوں میں آر اے ایف کی 16، سی آئی ایس ایف، آئی ٹی بی پی، ایس ایس بی اور بی ایس ایف کی 6،6 کمپنیاں18 نومبر تک یوپی میں تعینات کی جائیں گی۔ذرائع سے موصول اطلاع کے مطابق ان پارلیمنٹری فورسز کو 12 نہایت ہی حساس مقامات پر تعینات کیا جائےگا۔
Published: 06 Nov 2019, 10:16 PM IST
وارانسی اور ایودھیا کےعلاوہ ایودھیا فیصلے کے پیش نظر امن وامان کو برقرار رکھنے کے لئے پارلیمنٹری فورسز کو کانپور،علی گڑھ، لکھنؤ،ا عظم گڑھ اور دیگر مقامات پر تعیینات کیا جائےگا۔ مقامی انتظامیہ کو سیکورٹی اہلکار کی تعیناتی کے انتظامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
Published: 06 Nov 2019, 10:16 PM IST
ایودھیا کے ڈی ایم انج کمار جھا کے حوالے سے موصول اطلاع کے مطابق ضلع میں سخت سیکورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ وہیں ایس ایس پی آشیش تیواری نے کہا کہ وہ کسی بھی قسم کے دہشت گردانہ حملے، فرقہ وارانہ فساد اور دیگر کسی بھی قسم کے ناگہانی حادثے سے نپٹنے کی پوری تیاری کرلی ہے۔
Published: 06 Nov 2019, 10:16 PM IST
انتظامیہ نے سیکورٹی کے چار سطحی منصوبے کو ترتیب دیا ہے۔پولیس نے ریاست کے اضلاع میں 1600 مقامات پر 16000 والنٹرئرس کو تعیانت کیا ہے جو کہ عوام سے پرامن رہنے اور حوصلہ رکھنے کی اپیل کریں گے۔ ساتھ ہی اتنی ہی تعداد میں ڈیجیٹل والنٹیرئس بھی سوشل میڈیا پر اپنی اچکتی نگاہ رکھیں گے۔انتظامیہ نے والنٹرئس کے متعدد وہاٹس ایپ گروپ بھی بنائے ہیں تاکہ وہ اپنے پیغامات کو موصول کرسکیں۔
Published: 06 Nov 2019, 10:16 PM IST
انتظامیہ نے سرخ، پیلے، ہرے اور نیلے نام سے سیکورٹی کے چار زمرے بنائے ہیں۔ جس کے تحت سرخ اور پیلے زمرے والے حلقوں میں سنٹرل پیرا ملٹری فورسز کو تعینات کیا جائےگا۔جبکہ ہرے اور نیلے زمروں والے حلقوں کو سول پولیس تعینات رہے گی۔
سیکورٹی فورسز کے قیام کے لئے 700 سرکاری اسکول، 50 یو پی بورڈ سے منسلک اسکول اور 25 سی بی ایس سی اسکولوں کی خدمات حاصل کرلی گئی ہیں۔
Published: 06 Nov 2019, 10:16 PM IST
وہیں دوسری جانب کانگریس نے اپنے تمام لیڈروں کو ایودھیا فیصلے پر کسی بھی قسم کے تبصرے سے بچنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ اتر پردیش کانگریس مشاورتی کمیٹی کے ساتھ میٹنگ میں جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے تمام لیڈروں کو سخت ہدایت جاری کی ہے کہ عدالت کے فیصلے پر کسی بھی قسم کے تبصرہ کرنے سے پہلے پارٹی کے موقف کا انتظار کریں۔
Published: 06 Nov 2019, 10:16 PM IST
اترپردیش شیعہ سنٹرل وقف بورڈ نے تمام متولیوں کوسپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت کسی بھی قسم کے پروگرام یا احتجاج کے لئے وقف پراپرٹی کواستعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کی ہدایت دی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ 17 نومبر سے قبل ہی رام جنم بھومی۔ بابری مسجد متنازع اراضی ملکیت کے معاملے میں اپنا فیصلہ سنا سکتا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے پر پورے ملک کی نظریں ہیں۔
Published: 06 Nov 2019, 10:16 PM IST
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 06 Nov 2019, 10:16 PM IST
تصویر: سوشل میڈیا