قومی خبریں

اس سال ہندوستان میں عیسائیوں پر ہوئے 247 حملے، اتر پردیش سرفہرست

جب سے مرکز میں مودی حکومت آئی ہے، عیسائیوں پر حملوں کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے۔ اس معاملے میں اتر پردیش سرفہرست ہے جہاں سیکورٹی مانگنے والے پادریوں پر ہی مذہبی جذبات بھڑکانے کا معاملہ درج ہو رہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

ملک میں عیسائیوں پر حملوں کے واقعات میں اضافہ درج کیا گیا ہے۔ اس سال یعنی 2019 کے ستمبر تک ملک میں عیسائیوں پر 247 حملے ہوئے اور صرف 28 معاملوں میں ہی ایف آئی آر درج ہوئی۔ یہ انکشاف الائنس ڈیفنڈنگ فریڈم نے کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف ستمبر ماہ میں ہی عیسائیوں پر 29 حملے ہوئے۔ اس طرح گزشتہ پانچ سال کے دوران ہوئے حملوں میں اس سال ہوئے حملوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی ہے۔ ستمبر میں ہوئے سبھی معاملوں کی رپورٹ پولس میں درج کرائی گئی ہے۔

Published: 31 Oct 2019, 4:43 PM IST

اس کے علاوہ ایک اور انکشاف جو اس رپورٹ میں ہوا ہے اس کے مطابق عیسائیوں پر حملوں کے معاملے میں اتر پردیش سرفہرست ہے۔ یہاں ستمبر تک کل 60 معاملے سامنے آئے ہیں۔ اس کے بعد دوسرا نمبر تمل ناڈو کا ہے جہاں 47 حملوں کی جانکاری ملی ہے۔ ان دونوں ریاستوں کے بعد چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، کرناٹک اور مہاراشٹر کا نمبر ہے جہاں بالترتیب 25، 21 اور 18 معاملے سامنے آئے۔

Published: 31 Oct 2019, 4:43 PM IST

اعداد و شمار پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ 2014 کے بعد سے عیسائیوں پر حملوں کے واقعات میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ 2014 میں کل 147 معاملے سامنے آئے تھے جب کہ 2019 میں یہ تعداد 247 ہو گئی ہے۔ 2015 میں عیسائی طبقہ پر حملے کے 177 معاملے رپورٹ ہوئے تھے، لیکن 2016 میں یہ تعداد 208، 2017 میں 240 اور 2018 میں 292 تک پہنچ گئی۔

Published: 31 Oct 2019, 4:43 PM IST

غور طلب ہے کہ اسی ماہ نیپال سرحد سے ملحق اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری ضلع میں ہندوتوا گروپوں نے اتوار کو چرچ میں گھس کر دعائیہ جلسہ میں ہنگامہ کیا اور پادری کو گھسیٹ کر تھانے لے گئے۔ پولس نے بھی پادری پر دفعہ 153(اے)، 295 اے، (1)505 کے تھت معاملہ درج کیا، جب کہ دوسرے پادریوں کو چرچ میں دعائیہ جلسہ کرنے سے پہلے اجازت لینے کی ہدایت دی۔

Published: 31 Oct 2019, 4:43 PM IST

تعزیرات ہند کی دفعہ 153(اے) کسی دو گروپ کے درمیان مذہبی، نسلی، جائے پیدائش کو لے کر ماحول خراب کرنے کے لیے لگائی جاتی ہے۔ 295 اے قصداً شرارت کرنے، کسی طبقہ یا ذات کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے یا مذہبی اعتماد کی بے عزتی کرنے کے لیے لگائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دفعہ (1)505 کسی دو گروپ کے درمیان تکرار پیدا کرنے کے مقصد سے کوئی رپروٹ یا مضمون شائع کرانے کے لیے ہوتی ہے۔

Published: 31 Oct 2019, 4:43 PM IST

رپورٹ ہے کہ جب ہندوتوا شورش پسندوں نے چرچ پر حملہ کیا اور پادری کے گھر کو گھیر لیا تو پادری نے سیکورٹی کے لیے پولس کو خبر دی تھی، لیکن پولس نے الٹے پادری کے خلاف ہی کئی دفعات میں معاملہ درج کر انھیں جیل بھیج دیا۔

Published: 31 Oct 2019, 4:43 PM IST

دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق رکن اے سی مائیکل نے بتایا کہ ’’گزشتہ سال وزیر اعظم نریندر مودی کے انتخابی حلقہ وارانسی کے نزدیک جون پور میں رات دو بجے پولس اچانک ایک پادری کے گھر پہنچی اور انھیں گرفتار کر لیا گیا۔ یہ کارروائی ہفتہ کے روز کی گئی، تاکہ اتوار کو ہونے والے چرچ کے دعائیہ جلسہ میں خلل پیدا ہو۔ اگلے دن جب لوگ چرچ میں دعا کے لیے جا رہے تھے تو ایک بھیڑ نے ان لوگوں کو گھیر کر واپس بھیج دیا۔‘‘ انھوں نے بتایا کہ اس ضلع میں تقریباً 500 عیسائی رہتے ہیں۔ مائیکل نے موب لنچنگ کو غیر ضمانتی جرم بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

Published: 31 Oct 2019, 4:43 PM IST

دراصل اتر پردیش میں جب سے یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت آئی ہے، تب سے حالات مزید خراب ہوئے ہیں۔ 2018 میں اتر پردیش میں عیسائیوں پر حملے کے 108 معاملے سامنے آئے۔ ان سبھی حملوں کی جانکاری میپ وائلنس ڈاٹ ان (https://mapviolence.in) نامی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ یہ ویب سائٹ عیسائیوں پر ہونے والے حملوں کے اعداد و شمار پر نظر رکھتی ہے۔

Published: 31 Oct 2019, 4:43 PM IST

اے. سی. مائیکل کا کہنا ہے کہ ’’پولس والے کہتے ہیں کہ ان پر اوبر سے دباؤ ہے۔ لیکن پولس کو دباؤ میں آنے کی جگہ معاملوں کی گہرائی سے جانچ کر کے کارروائی کرنی چاہیے۔ دراصل حکومت قصداً ایسی بات پھیلا رہی ہے کہ عیسائی طبقہ مذہب تبدیل کراتا ہے۔‘‘ مائیکل نے سوال کیا کہ اگر ایسا ہی ہوتا تو گزشتہ 70 سال میں عیسائیوں کی تعداد کم کیوں ہوتی؟ انھوں نے بتایا کہ ملک کی 7 ریاستوں میں مذہب تبدیلی مخالف قانون نافذ ہے، لیکن آج تک ایک بھی پادری کو اس معاملے میں سزا نہیں ہوئی ہے، کیونکہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں پیش کیا جا سکا۔ انھوں نے کہا کہ ان ساتوں ریاستوں میں مذہب تبدیل کرنے سے پہلے ضلع مجسٹریٹ کی اجازت لینا لازمی ہے، جو کہ آئین کے خلاف ہے۔

Published: 31 Oct 2019, 4:43 PM IST

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 31 Oct 2019, 4:43 PM IST