قومی خبریں

گوہاٹی میں احتجاج کے دوران آسام کانگریس صدر گورو گوگوئی حراست میں، گیانیش کمار کی گرفتاری کا مطالبہ

گوہاٹی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے دوران آسام کانگریس صدر گورو گوگوئی سمیت کئی رہنماؤں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ مظاہرین انتخابی عمل اور ایس آئی آر پر سوال اٹھا رہے تھے

<div class="paragraphs"><p>گورو گوگوئی کو حراست میں لیتی ہوئی پولیس / تصویر بشکریہ ایکس</p></div>

گورو گوگوئی کو حراست میں لیتی ہوئی پولیس / تصویر بشکریہ ایکس

 

گوہاٹی: آسام کانگریس کے صدر اور رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی سمیت پارٹی کے کئی سینئر رہنماؤں کو جمعہ کو گوہاٹی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس نے حراست میں لے لیا۔ کانگریس رہنما انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) اور انتخابی عمل سے متعلق اپنے اعتراضات کے اظہار کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔

پولیس کے مطابق گورو گوگوئی اور دیگر کانگریس رہنماؤں نے پارٹی کے ریاستی ہیڈکوارٹر راجیو بھون سے مارچ شروع کیا تھا۔ مظاہرین چیف الیکٹورل افسر کے دفتر کی جانب بڑھ رہے تھے، جہاں انہوں نے گیانیش کمار کا علامتی پتلا جلانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ پولیس نے راجیو بھون کے قریب بیریکیڈ لگا کر مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔

پولیس کے مطابق گوگوئی اور دیگر رہنماؤں نے بیریکیڈ عبور کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا اور چوتھی آسام پولیس بٹالین لے جایا گیا۔ حراست میں لیے جانے والوں میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری منوج چوہان، سیوا دل کے صدر دیپ بیان اور آسام پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری ادت بھانو داس سمیت متعدد کارکن بھی شامل تھے۔

احتجاج کے دوران گورو گوگوئی نے کانگریس کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں کہا کہ پارٹی کا احتجاج جمہوری اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس الیکشن کمیشن کے دفتر تک پہنچ کر انتخابی عمل اور جمہوریت سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کرنا چاہتی تھی، لیکن پولیس نے انہیں روک کر حراست میں لے لیا۔

حراست میں لیے گئے کانگریس کارکنان نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور بی جے پی کے خلاف نعرے بھی لگائے۔ مظاہرین نے گیانیش کمار کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ کانگریس کے ترجمان بیدبرتا بورا نے پولیس کی کارروائی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے رہنماؤں کو حراست میں لیے جانے پر اعتراض کیا۔

یہ احتجاج الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کو لے کر جاری سیاسی تنازع کے درمیان ہوا۔ کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتیں ایس آئی آر کے طریقہ کار اور انتخابی فہرستوں میں تبدیلیوں کو لے کر سوال اٹھا رہی ہیں۔

اس تنازع نے اس وقت مزید شدت اختیار کی جب ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران ایس آئی آر سے متعلق بعض فیصلوں پر کم از کم 14 مرتبہ اعتراضات درج کرائے تھے۔ رپورٹ میں ووٹروں کے نام حذف کرنے اور انتخابی فہرست کے ڈیٹا سے متعلق معاملات کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔

تاہم الیکشن کمیشن نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس آئی آر سے متعلق فیصلے تینوں الیکشن کمشنروں کی منظوری اور اتفاق رائے سے کیے گئے ہیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل سے متعلق اس کے فیصلے اجتماعی طور پر لیے گئے اور مقررہ قانونی طریقہ کار کے مطابق ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔