قومی خبریں

چھتیس گڑھ کے اسکول میں طلبا کے درمیان آسارام کی کتابیں ہوئیں تقسیم، شکایت کے بعد پرنسپل ہٹائے گئے

ایک طالب علم کے والد نے الزام لگایا کہ آسارام کے پیروکار جب پرنسپل کی موجودگی میں اسکول پہنچے تو انھوں نے ’سنسکار سریتا‘، ’ورت نیم‘ اور ’وسودیو کٹمبکم‘ جیسے کتابچے تقسیم کیے۔

<div class="paragraphs"><p>آسارام باپو، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

آسارام باپو، تصویر آئی اے این ایس

 

چھتیس گڑھ کے ضلع بلرامپور کے ایک سرکاری اسکول میں مبینہ طور پر عصمت دری کے مجرم آسارام باپو سے متعلق کتابچے طلبا میں تقسیم کیے جانے کا واقعہ سرخیوں میں ہے۔ اس عمل کے بعد اسکول کے پرنسپل کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ حکام نے اس سلسلے میں جمعرات کو تفصیلی جانکاری دی۔ والدین کا دعویٰ ہے کہ 26 اکتوبر کو رگھوناتھ پور گاؤں کے سوامی آتمانند سرکاری انگلش میڈیم اسکول آف ایکسیلنس میں مڈل اسکول کے طلبا کے درمیان یہ کتابچے تقسیم کیے گئے تھے۔

بلرامپور کے ضلع ایجوکیشن افسر (ڈی ای او) نریندر نراپورے نے پی ٹی آئی-بھاشا کو بتایا کہ معاملہ سامنے آنے کے بعد بلاک تعلیمی افسر (بی ای او) کو تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر پرنسپل مہیش پرجاپتی کو اسکول سے ہٹا کر ان کے دفتر سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

والدین کے مطابق انہیں ان کتابچوں کے بارے میں اس وقت معلوم ہوا جب ان کے بچے انہیں گھر لے کر آئے۔ اس پر انہوں نے ناراضگی ظاہر کی اور محکمہ تعلیم میں شکایت درج کرائی۔ ایک طالب علم کے والد نے الزام لگایا کہ آسارام کے پیروکار جب پرنسپل کی موجودگی میں اسکول پہنچے تو اس وقت ’سنسکار سریتا‘، ’ورت نیم‘ اور ’وسودیو کٹمبکم‘ جیسے کتابچے تقسیم کیے گئے۔

ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے لوگوں نے کہا کہ یہ مواد آسارام باپو کی تشہیر کرتا ہے یا ان کے پیروکاروں کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔ ان سے متعلق کوئی بھی مواد تقسیم نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ وہ سنگین جرائم کے الزامات میں جیل میں بند ہیں اور ان کے آشرموں کو حکومت ضبط کر چکی ہے۔ اس کے باوجود ان سے متعلق کتابیں طلبا میں تقسیم کی گئیں۔ ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں اور پرنسپل کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ فی الحال محکمہ تعلیم پورے معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ اس تحقیقات میں یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ کتابچے کس کے حکم پر تقسیم کیے گئے، اسکول میں بیرونی لوگوں کو داخلہ کیسے ملا اور اس معاملے میں پرنسپل کا کیا کردار تھا۔