
نابالغ کے ساتھ عصمت دری کے معاملے میں آسارام کو سپریم کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ’’ابھی ہم آسارام کو ضمانت نہیں دے سکتے۔ ہمیں پہلے راجستھان حکومت کا موقف سننا ہوگا۔ آسارام ایک بااثر شخصیت ہیں، ضمانت پر سماعت کرتے ہوئے ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا۔‘‘ ساتھ ہی عدالت نے راجستھان حکومت کو اس معاملے میں نوٹس جاری کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس ناگو کی بنچ آسارام کی عرضی پر سماعت کر رہی تھی، جس نے سزا معطل کرنے سے انکار کر دیا۔ بنچ نے ہدایت دی کہ عرضی گزار کو جیل میں فراہم کی جا رہی طبی سہولیات جاری رکھی جائیں۔
Published: undefined
عدالت نے کہا کہ ضمانت دینے پر تبھی غور کیا جائے گا جب صحت سے متعلق کوئی سنگین صورتحال پیش آ جائے۔ جسٹس سندریش نے کہا کہ ’’ہم سزا معطل کرنے پر غور نہیں کر رہے ہیں۔ اگر کوئی سنگین ایمرجنسی صورتحال پیش آ جائے، جیسے کہ جان کو خطرہ تبھی ہم اس پر غور کریں گے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے ریاست سے اس پر توجہ دینے کو کہا۔ ریاستی وکیل نے بنچ کو بتایا کہ انہیں 2 جون کو اسپتال لے جایا گیا تھا اور ان کی صحت مکمل طور پر ٹھیک ہے۔
Published: undefined
آسارام کی جانب سے پیش ہوئے وکیل داما شیشادری نائیڈو نے بتایا کہ ان کی عمر 80 سال سے زائد ہے اور وہ کئی امراض میں مبتلا ہیں۔ نائیڈو نے دعویٰ کیا کہ عرضی گزار ’سوشل میڈیا ٹرائل‘ کا شکار ہے۔ متاثرہ کے وکیل نے اس دلیل کی تردید کی اور بتایا کہ اس معاملے میں نابالغ متاثرہ بھی شامل ہے۔ واضح رہے کہ آسارام نے 2013 میں ایک نابالغ کے ساتھ عصمت دری کے معاملے میں قصوروار ٹھہرائے جانے اور عمرقید کی سزا مقرر کرنے والے راجستھان ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آسارام نے خراب صحت کا حوالہ دیتے ہوئے عبوری ضمانت کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ راجستھان ہائی کورٹ نے رواں سال مئی میں دیے گئے اپنے فیصلے میں شریک ملزمان کو بری کرتے ہوئے آسارام کو اجتماعی عصمت دری اور ’پاکسو‘ ایکٹ کی کچھ دفعات سے بری کر دی تھا۔ لیکن عصمت دری کے معاملے میں جرم ثابت ہونے کے لیے پختہ ثبوت ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے نچلی عدالت سے ملی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا تھا۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined