قومی خبریں

ای ڈی کی حراست میں اروند کیجریوال کی جان کو خطرہ، عآپ لیڈر آتشی سنگھ کا بڑا دعویٰ

دہلی حکومت کی وزیر آتشی سنگھ نے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی سیکورٹی کو لے کر تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کو جواب دینا ہوگا کہ اروند کیجریوال کی حفاظت کی ذمہ داری کس کی ہوگی۔

<div class="paragraphs"><p>دہلی حکومت کی وزیر آتشی /&nbsp; تصویر: آئی اے این ایس</p></div>

دہلی حکومت کی وزیر آتشی /  تصویر: آئی اے این ایس

 

دہلی حکومت کی وزیر خزانہ آتشی سنگھ نے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی سیکورٹی کو لے کر تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کیا ہے پہلی بار ملک کی راجدھانی میں ایک موجودہ وزیر اعلی اروند کیجریوال کو گرفتار کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کیجریوال کے پاس زیڈ پلس سیکورٹی ہے۔ اب وہ مرکزی حکومت کی ای ڈی کی تحویل میں ہیں۔ ہمیں ان کی حفاظت کی فکر ہے۔

Published: undefined

آتشی سنگھ نے اس سے قبل ایک پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ہم نے دہلی کے وزیر اعلی کی گرفتاری کو رد کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ ہم نے سپریم کورٹ سے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی ای ڈی کے ذریعہ گرفتاری کے خلاف فوری سماعت کا مطالبہ کیا ہے۔ دہلی حکومت کے وزیر آتشی سنگھ نے پوچھا ہے کہ کیا اروند کیجریوال کو مرکزی حکومت کی ای ڈی اپنی تحویل میں تحفظ دے رہی ہے؟ ای ڈی کی حراست میں اروند کیجریوال کو کیا سیکورٹی مل رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو جواب دینا ہوگا کہ اروند کیجریوال کی حفاظت کے لیے کون ذمہ دار ہوگا؟

Published: undefined

آتشی سنگھ کے مطابق اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران کو ایک ایک کر کے گرفتار کیا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے آئندہ لوک سبھا انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ایم مودی کو پورے ملک کو جواب دینا ہوگا۔ اروند کیجریوال ایک سوچ ہے۔ یہ پہلی بار ہوا ہے جب کسی موجودہ وزیر اعلیٰ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی چال ہے۔ اس معاملے میں ابھی تک کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں۔ پی ایم مودی کیجریوال کو کچلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کو کچلنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined