
فائل تصویر آئی اے این ایس
سپریم کورٹ نے تلنگانہ ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کو برقرار رکھنے کا حکم صادر کیا ہے۔ یہ معاملہ سوشل میڈیا پر اپنی بات رکھے جانے سے متعلق تھا، جس میں عدالت عظمیٰ نے تلنگانہ ہائی کورٹ کی گائیڈلائنز کو ہی برقرار رکھا۔ اس میں واضح کیا گیا کہ سوشل میڈیا پوسٹ پر براہ راست گرفتاری نہیں ہوگی۔ سپریم کورٹ نے اہم فیصلے میں پولیس کو سوشل میڈیا پر سخت، قابل اعتراض، تنقیدی سیاسی خطاب پر بغیر کسی تحقیقات اور شکایت کنندہ کے الزام کی قانونی حیثیت کی جانچ کیے مقدمہ درج کرنے سے روک دیا ہے۔
Published: undefined
سپریم کورٹ کے اس حکم سے ان لوگوں کو بڑی راحت مل سکتی ہے جو سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعہ حکومت یا حکمراں جماعت پر تنقید کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ اس حکم سے سوشل میڈیا پوسٹ کرنے والوں کو پریشان کرنے کی موجودہ روایت ختم ہو سکتی ہے۔ گائیڈلائنز میں کہا گیا ہے کہ پولیس کو معاملہ درج کرنے سے قبل یہ تصدیق کرنا ہوگا کہ شکایت کنندہ قانون کے مطابق متاثرہ شخص کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایف آئی آر درج کرنے سے قبل ابتدائی تحقیقات کرنی ہوگی۔ پولیس مجرمانہ قانون تبھی عائد کر سکتی ہے جب تقریر تشدد بھڑکانے یا امن عامہ کے لیے خطرہ ہو۔
Published: undefined
واضح رہے کہ اس سے قبل تلنگانہ ہائی کورٹ نے ریاست کی کانگریس حکومت اور وزیر اعلیٰ پر تنقید کرنے کے معاملے میں درج مجرمانہ معاملوں کو منسوخ کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ سوشل میڈیا پوسٹ واضح طور پر سیاسی تنقید اور طنز پر مبنی تھیں۔ یہ ہتک عزت یا پھر عوامی پریشانی کی وجہ نہیں ہے۔ آرٹیکل 19(1)(اے) کی جانب سے یہ مکمل طور سے محفوظ ہے۔
Published: undefined
عدالت نے کہا کہ دشمنی کو فروغ دینے، جان بوجھ کر توہین، عوامی پریشانی، امن عامہ کو خطرہ یا غداری کا کوئی بھی معاملہ تب تک درج نہیں کیا جائے گا جب تک تشدد، نفرت، یا عوامی بدامنی کو بھڑکانے والے ابتدائی ثبوت موجود نہ ہوں۔ ہائی کورٹ کے حکم کی جانچ کرنے اور قوانین کو دیکھنے کے بعد سپریم کورٹ نے کہا کہ ہائی کورٹ نے جو کیا ہے ہم اس کی تعریف کرتے ہیں۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ سینیئر ایڈووکیٹ سدھارتھ لوتھرا نے عدالت کو قوانین کی جانچ کرنے کی ضرورت پر زور دینے کی کوشش کی، کیونکہ اس کے وسیع تر اثرات مرتب ہوں گے، عدالت نے کہا کہ ان میں کوئی کمی نہیں ہے۔ گائیڈلائنز میں کہا گیا ہے کہ آٹومیٹک یا میکینیکل گرفتاریاں ناقابل قبول ہیں، اور مجرمانہ طریقہ کار کے استعمال میں تناسب کے اصول پر عمل کیا جانا چاہیے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined