قومی خبریں

’کیا کسی اور حادثے کا انتظار کر رہے ہیں؟‘ دہلی ہائی کورٹ نے ریلوے کو لگائی پھٹکار

عدالت نے سوال کیا کہ ’’افسر تنے ’لارواہ‘ کیوں ہیں اور کیا وہ کسی دوسری واردات کا انتظار کر رہے ہیں کیونکہ اس معاملے میں حلف نامہ ابھی تک داخل نہیں کیا گیا ہے، جو 26 مارچ 2025 تک داخل کیا جانا تھا‘‘

<div class="paragraphs"><p>نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر بھگدڑ کا منظر / یو این آئی</p></div>

نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر بھگدڑ کا منظر / یو این آئی

 
PREM SINGH

دہلی ہائی کورٹ نے ریلوے کی جانب سے گزشتہ سال نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر بھگدڑ سے متعلق معاملے میں حلف نامہ داخل نہ کرنے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ عدالت نے ریلوے کو وارننگ دیتے کہا کہ وہ اس معاملے کو ہلکے میں نہ لے اور ضروری کارروائی کرے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر اس وقت بھگدڑ مچ گئی تھی جب مسافر مہا کمبھ کے دوران پریاگ راج جانے والی ٹرینوں میں سوار ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔

Published: undefined

اس معاملے پر سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے اور جسٹس تیجس کاریا کی بنچ نے سوال کیا کہ افسراتنے’لاپرواہ‘ کیوں ہیں اور کیا وہ کسی دوسری واردات کے ہونے کا انتظار کر رہے ہیں کیوں کہ اس معاملے میں حلف نامہ ابھی تک داخل نہیں کیا گیا ہے۔ حلف نامہ 26 مارچ 2025 تک داخل کیا جانا تھا۔

Published: undefined

ہائی کورٹ بنچ نے ریلوے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو ہلکے میں نہ لیں، ہم نے آپ سے حلف نامہ داخل کرنے کو کہا تھا۔ آپ نے کیا کیا؟ جس وقت یہ درخواست دائر کی گئی تھی، اس وقت کے دباؤ سے نکلنے کے لیے ملک کے اعلیٰ ترین لاء افسر کی جانب سے ریلوے کا ایک بیان جاری کیا گیا تھا۔ اب، ایک سال گزرچکا ہے اورآپ وہ حلف نامہ داخل نہیں کرپائے ہیں۔ اس سے کیا اشارہ ملتا ہے؟ ہمیں یہ بات پسند نہیں آئی۔

Published: undefined

عدالت نے یہ ریمارک سماجی تنظیم ’ارتھ ودھی‘ کی جانب سے دائر مفاد عامہ کی عرضی کی سماعت کے دوران کیا۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 15 فروری 2025 کی رات کو پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے نے ’ بدترین بدانتظامی‘ اور انتظامیہ کی ناکامی کو بے نقاب کیا ہے۔ اس بھگدڑ کے نتیجے میں 18 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہو گئے تھے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined