
کانگریس سمیت حزب اختلاف کی 7 سیاسی جماعتوں نے راجیہ سبھا کے چیئر میں کو جن 5 نکات پر مواخذہ کی تجویز پیش کی ہے وہ ہیں:
سپریم کورٹ نے مواخذہ کے عمل پر میڈیا میں چل رہیں خبروں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ہم سبھی میڈیا میں ایسی خبروں کو دیکھ کر پریشان ہیں اور یہ افسوس ناک ہے۔ کورٹ نے کہا کہ سیاسی رہنما جس طرح عدلیہ کے خلاف بیانبازی کر رہے ہیں وہ تشویش ناک ہے۔ سپریم کورٹ نے اس تعلق سے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال سے تعاون مانگا ہے۔ اس معاملہ پر اب 7 مئی کو سماعت ہوگی۔ تاہم، عدالت عظمیٰ نے اس معاملہ میں رپورٹنگ پر پابندی عائد کرنے سے انکار کر دیا۔
کانگریس کے رہنما کپل سبل نے میڈیا سے خطاب کے دران کہا، ’’چیف جسٹس کے دفتر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جب سپریم کورٹ کے کئی جج یہ مانتے ہیں کہ عدلیہ کی آزادی خطرے میں ہے تو کیا اب بھی ملک کو خاموش تماشائی بنے رہنا چاہئے!‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہمارے پاس مواخذہ لانے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔‘‘
چیف جسٹس دیپک مشرا کے خلاف مواخذہ لانے کی تیاری کے بیچ کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے جج لویا معاملہ سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنے رد عمل کو ظاہر کیا۔ انہوں نے ٹوئٹ کر کے کہا، ’’جج لویا کے خاندان نے کہا کہ اب کوئی امید نہیں بچی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سب کچھ پہلے سے طے تھا۔ میں جج لویا کے خاندان سے کہنا چاہتا ہوں کہ ابھی امید باقی ہے۔ کیوں کہ ملک کے لاکھوں لوگ اس معاملہ کی حقیقت جاننا چاہتے ہیں۔ ملک جج لویا کو بھولنے نہیں دیگا۔‘‘
کانگریس کے رہنما کپل سبل نے کہا کہ جب سے دیپک مشرا چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں، انہوں نے کچھ ایسے فیصلے لئے جن پر ساوال کھڑے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں سپریم کورٹ کے 4 ججوں نے پریس کانفرنس کی تھی۔ سبل نے کہا کہ آئین کے تحت اگر کوئی جج غلط رویہ اختیار کرتا ہے تو پارلیمنٹ کو حق ہے کہ اس کی جانچ کرے۔ انہوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ آگے ایسا دن کبھی دیکھنا نہ پڑے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا کے خلاف حزب اختلاف نے مواخذہ کی تجویز نائب صدر کو سونپ دی ہے۔ کانگریس کی قیادت میں حزب اختلاف کی 7 جماعتوں نے راجیہ سبھا کے چیئرمین وینکیا نائیڈو سے ملاقات کر کے انہیں سے تجویز سونپی۔ قبل ازیں کانگریس کے سینئر رہنما غلام نبی آزاد کی قیادت میں حزب اختلاف نے میٹنگ کی تھی۔
چیف جسٹس دیپک مشرا کے خلاف مواخذہ لانے کے سلسلہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے رہنما غلام نبی آزاد نے کہا، ’’ہم لوگ یہ تجویز ایک ہفتہ پہلے پیش کرنا چاہتے تھے لیکن نائب صدر کے پاس وقت نہیں تھا۔’’ آزاد نے کہا کہ 71 ارکان پارلیمنٹ نے تجویز پر دستخط کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 7 سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مل کر راجیہ سبھا کے چیئر مین کو ہم نے مواخذہ کی تجویز سونپ دی ہے۔ آزاد نے کہا کہ یہ تجویز 5 نکات کی بنیاد پر پیش کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا کے خلاف حزب اختلاف مواخذہ لانے کی تیاری میں مصروف ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق جسٹس لویا کی موت سے وابستہ معاملہ میں سپریم کورٹ کے آزادانہ تحقیقات سے انکار کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے اس کی طرف قدم بڑھا دئیے ہیں۔ جمعہ کو اپوزیشن جماعتوں نے کانگریس کے رہنما غلام نبی آزاد کی قیادت میں ایک اجلاس کیا۔ اس کے بعد تمام رہنما نائب صدر وینکیا نائیڈو سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
حزب اختلاف کی جماعتوں کے ساتھ میٹنگ کے بعد غلام نبی آزاد نے کہا کہ ’’ہم مواخذہ کی تجویز پیش کرنے کے لئے نائب صدر کے پاس جا رہے ہیں۔ ہمیں کانگریس، سی پی آئی، سی پی ایم، این سی پی، بی ایس پی، مسلم لیگ اور سماجوادی پارٹی سمیت کل سات پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے۔
ذرائع کے مطابق 50 سے زائد ارکان پارلیمنٹ کے دستخط کے ساتھ مواخذہ کی تجویز تیار ہے۔ اور اسے راجیہ سبھا کے چیئرمین کے ساتھ ملاقات میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ نائب صدر جمہوریہ وینکیا نائیڈو اس تعلق اسے ایک کمیٹی تشکیل دے سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ جسٹس لویا کی موت کی آزادانہ جانچ کرانے کی عرضیاں سپریم کورٹ نے جمعرات کو مسترد کر دی تھیں۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ایسی عرضیاں عدالت کا وقت برباد کرتی ہیں۔ فیصلہ دینے والوں میں چیف جسٹس دیپک مشرا بھی شامل تھے۔ اس فیصلے پر کانگریس نے کہا تھا کہ ’’یہ تاریخ کا ایک مایوس کن دن ہے۔ اس فیصلہ کے بعد جسٹس لویا کی موت سے وابستہ کئی سوالوں کے جواب نہیں ملے ۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 20 Apr 2018, 12:43 PM IST