
راجیہ سبھا میں ’اینٹی پیپر لیک بل‘ پیش کرنے کے بعد اپنی بات رکھتے ہوئے مرکزی وزیر جتیندر سنگھ، ویڈیو گریب
لوک سبھا میں منظوری کے بعد راجیہ سبھا میں ’اینٹی پیپر لیک بل‘ یعنی ’پبلک اگزامنیشن (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026‘ پیش کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے یہ بل پیش کیا اور بحث کا آغاز کرتے ہوئے کچھ اہم باتیں ایوانِ بالا میں رکھیں۔ انھوں نے بل پیش کرتے ہوئے کانگریس کی حکومت میں ہوئے پیپر لیک کا ذکر کرنا شروع کر دیا اور اپزیشن پارٹیوں کی حکومت کے وقت ریاستوں میں ہوئے پیپر لیک معاملے کا بھی شمار کرایا۔ جب وہ پیپر لیک کے پرانے معاملوں کا ذکر کر رہے تھے تو اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین پارلیمنٹ نے سخت اعتراض ظاہر کیا۔
بہرحال، اینٹی پیپر لیک بل پر راجیہ سبھا میں بحث کے لیے 7 گھنٹے مقرر کیے گئے ہیں۔ راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھاکرشنن نے ایوان کو اس سلسلے میں جانکاری دی اور ساتھ ہی کہا کہ ضرورت پڑنے پر بحث کے لیے وقت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ لوک سبھا میں اس بل پر 10 گھنٹے بحث ہوئی تھی، اور اس کے بعد ہنگامہ کے درمیان بحث کو صوتی ووٹوں سے منظوری مل گئی تھی۔
راجیہ سبھا میں اینٹی پیپر لیک بل پر بحث کے دوران اپوزیشن کی طرف سے حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے کے ساتھ ہی کانگریس کی طرف سے مکل واسنک اپنی بات رکھیں گے۔ سماجوادی پارٹی کی طرف سے رام گوپال یادو، عآپ کی طرف سے سنجے سنگھ، ترنمول کانگریس کی طرف سے ساگریکا گھوش یا راجیو کمار بولیں گے۔ اپوزیشن کی حکمت عملی ہے کہ اس بل پر بحث کے دوران کم از کم ہنگامہ ہو تاکہ اپنی بات اچھی طرح رکھ سکیں۔ اپنی تقریروں میں اپوزیشن کے مقررین طلبا پر لاٹھی چارج اور پیلیٹ گن استعمال کیے جانے کا ذکر کریں گے اور اس معاملہ میں وزیر داخلہ کے بیان کا بھی مطالبہ کریں گے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔