پارلیمنٹ احاطہ میں مظاہرہ کرتے ہوئے کانگریس اراکین پارلیمنٹ، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia
پارلیمنٹ میں مانسون اجلاس ایک بار پھر ہنگامہ خیز ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں دہلی میں مظاہرین طلبا کے خلاف پولیس اہلکاروں کی بربریت کو زوردار انداز میں اٹھا رہی ہیں۔ آج پارلیمنٹ احاطہ میں کانگریس اور دیگر انڈیا بلاک کی پارٹیوں کے لیڈران ’امت شاہ جواب دو، لاٹھی کا حساب دو‘ نعرہ لگاتے ہوئے نظر آئے۔ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے طلبا پر ہوئی لاٹھی چارج کے خلاف مظاہرہ کیا اور مودی حکومت سے کہا کہ اسے طلبا پر کیے گئے مظالم کا حساب دینا ہوگا۔
مظاہرین طلبا کے خلاف کارروائی کا معاملہ آج لوک سبھا و راجیہ سبھا میں بھی اٹھایا گیا، جس کی وجہ سے دونوں ایوانوں کی کارروائی شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد اسے 12 بجے تک کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔ راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے نے ایوان بالا کی کارروائی شروع ہونے کے بعد اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ’’ایسا ہندوستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا، جب طلبا کو پیٹا اور گھسیٹا گیا ہو۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’طلبا پر حملہ کے لیے امت شاہ ذمہ دار ہیں۔‘‘ اس بیان پر برسراقتدار طبقہ کے لوگوں نے سخت اعتراض کیا اور ایوان میں ہنگامہ شروع ہو گیا۔
دوسری طرف راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کر بہار میں طلبا پر اے کے-47 سے فائرنگ کیے جانے کی خبر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’طلبا کے خلاف پورا کا پورا سسٹم ہی جانلیوا ہے۔ خبر آ رہی ہے کہ بہار میں مظاہرہ کر رہے طلبا پر اے کے-47 سے گولیاں چلائی گئی ہیں اور سینکڑوں طلبا کو گرفتار کر کے ان پر ایف آئی آر کی جا رہی ہے۔‘‘ پی ایم مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’مودی جی، کہاں گیا آپ کا وعدہ کہ طلبا پر کوئی ایف آئی آر نہیں کی جائے گی اور انھیں رِہا کر دیا جائے گا؟ الٹا ان پر خطرناک حملے اور بربریت کی جا رہی ہے۔‘‘
راہل گاندھی نے مختلف ریاستوں میں طلبا کو ظلم کا نشانہ بنائے جانے کا ذکر بھی اپنی پوسٹ میں کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’دہلی میں طلبا پر پیلیٹ گن چلی اور بہار میں اے کے-47۔ اتر پردیش، مغربی بنگال، بہار ہو یا دہلی… ہر جگہ پیٹرن ایک ہی ہے۔ پہلے بھی کہا ہے، یہ حکومت جھوٹی ہے۔ اصلاح ان کے بس کا نہیں ہے۔ اپنی باتوں سے پلٹ جائے گی اور ہر ترکیب سے طلبا کی آواز دبائے گی۔‘‘ اس سوشل میڈیا پوسٹ میں انھوں نے ایک بار پھر وزیر اعظم مودی سے طلبا پر ہوئی کارروائی کے لیے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’مودی جی، ملک کے طلبا سے معافی مانگیے، اور جنھوں نے طلبا پر حملہ کیا ہے، انھیں کچلا ہے، اُن پر کارروائی کیجیے، طلبا پر نہیں۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔