
تصویر/آئی اے این ایس
ملک کی سب سے بڑی صنعتی تنظیم کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) نے اتوار کو ایران جنگ کے بحران سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صنعتوں کے لیے مزید مالیاتی اور زری رعایتوں کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی تنظیم نے حکومت کی جانب سے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اب تک اٹھائے گئے اقدامات کی تعریف بھی کی۔
Published: undefined
سی آئی آئی کے ڈائریکٹر جنرل چندرجیت بنرجی نے کہا کہ ’’حکومت اور آر بی آئی نے بروقت ردعمل، وضاحت اور ہم آہنگی کے ساتھ کام کیا ہے۔ ابتدائی اقدامات سے مارکیٹ کے اعتماد کو بحال کرنے میں مدد ملی ہے اور یہ ثابت ہوا ہے کہ کہ ہندوستان کا پالیسی ڈھانچہ بیرونی جھٹکوں کے خلاف حساس اور لچکدار، دونوں ہے۔‘‘
Published: undefined
بنرجی نے مزید کہا کہ ’’ماضی کے بحرانوں کے دوران ہندوستان کے تجربات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مربوط مالیاتی اور زری اقدامات سے معیشت کی لچک کو کافی حد تک مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے پالیسی سازی کے اگلے مرحلے میں ٹارگیٹڈ لیکویڈیٹی سپورٹ، قرض کی سہولیات، تجارتی لاگت کے انتظام اور غیر ملکی کرنسی کے استحکام پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔‘‘
Published: undefined
سی آئی آئی نے وزارت خزانہ سے کورونا وبا کے دوران نافذ کردہ ایمرجنسی کریڈٹ گارنٹی اسکیم (ای سی ایل جی ایس) کی طرح ایک محدود مدت کی جنگ سے متعلق ایمرجنسی کریڈٹ گارنٹی اسکیم (سی ایل ای سی ایل جی ایس) شروع کرنے کی درخواست کی ہے۔ تاکہ حکومت کی ضمانت کے ذریعہ متاثرہ اداروں کو اضافی ورکنگ کیپیٹل فراہم کیا جا سکے، خاص طور سے ایم ایس ایم ای، برآمد کنندگان اور گیس پر منحصر شعبوں کی مدد کرنا ہے۔
Published: undefined
سی آئی آئی نے مزید کہا کہ وزارت خزانہ، آر بی آئی کے تعاون سے، مرکزی اور ریاستی سرکاری اداروں کے ٹھیکوں کی تکمیل کی مدت کو بغیر کسی لیکویڈیٹڈ ڈیمیج کلاز کے 3 سے 4 ماہ تک بڑھا کر صنعتوں، خاص طور پر ایم ایس ایم ای کو فوری طور پر معاہداتی اور آپریشنل ریلیف فراہم کر سکتا ہے۔ ساتھ ہی لیکویڈیٹی کی کمی دور کرنے کے لیے پرفارمنس بینک گارنٹی اور سیکورٹی ڈپازٹ کی شرائط کو کم سے کم سطح تک لایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ رکاوٹ کے دوران بڑھتی ہوئی ان پٹ لاگت کو سنبھالنے میں مدد کے لیے بجلی کے نرخوں میں عارضی ریلیف بھی دیا جا سکتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined