
الہ آباد ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس
گریٹر نوئیڈا میں یمنا ایکسپریس وے پر سلیپر بس میں آگ لگنے کی وجہ سے 9 مسافروں کی دردناک موت ہو گئی تھی۔ اس حادثے کے سبب لوگوں میں غم و غصے کا ماحول ہے، اور اس معاملے کو الہ آباد ہائی کورٹ نے سنجیدگی سے لیا ہے۔ حادثے سے متعلق میڈیا رپورٹس کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے ہائی کورٹ نے ریاست میں چلنے والی سلیپر بسوں کی سیکورٹی اور نگرانی کے حوالے سے ریاستی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 13 اکتوبر کو ہوگی۔ جسٹس سوربھ شیام شمشیری کی سنگل بنچ نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے پرنسپل سکریٹری، پولیس ڈائریکٹر جنرل اور ایڈیشنل چیف سکریٹری ٹرانسپورٹ سمیت متعلقہ افسران کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے طلب کیا۔ عدالت نے حادثے کی وجوہات، حادثے کے بعد اٹھائے گئے اقدامات اور ریاست میں مسافروں کی سیکورٹی کے موجودہ انتظامات سے متعلق افسران سے معلومات طلب کی۔
سماعت کے دوران عدالت نے مختلف خبروں کا بھی حوالہ دیا۔ ان رپورٹس میں حادثے کے دوران مسافروں میں افراتفری اور مبینہ طور پر مدد ملنے میں ہوئی تاخیر جیسی باتوں کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔ عدالت نے ملک میں گزشتہ 3 برسوں کے دوران بسوں میں آگ لگنے کے واقعات سے متعلق اعداد و شمار کا بھی نوٹس لیا۔ ہائی کورٹ نے سلیپر بسوں کی حفاظتی جانچ کے حوالے سے خصوصی ہدایات دی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ رات کے وقت چلنے والی سلیپر بسوں کا اچانک اور مؤثر معائنہ کیا جائے۔ بسوں میں فائر فائٹنگ آلات، ہنگامی حفاظتی انتظامات اور دیگر مقررہ معیار کی جانچ میں کسی طرح کی لاپروائی نہیں ہونی چاہیے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ حفاظتی معیار کی خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی صرف ڈرائیور یا کنڈکٹر تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ بس آپریٹر اور لائسنس ہولڈر کی ذمہ داری بھی طے کی جانی چاہیے۔ سنگین بے ضابطگی پائے جانے پر لائسنس منسوخ کرنے یا دیگر قانونی کارروائی پر بھی غور کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو اگلی سماعت تک تفصیلی حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس میں گزشتہ 3 برسوں میں جاری کیے گئے سلیپر بس پرمٹ، حفاظتی جانچ، بسوں میں غیر قانونی تبدیلی، تجارتی پارسل کی نقل و حمل، ریاست کی سرحدوں پر چیکنگ کے انتظامات اور حادثات کے معاملات میں کی گئی کارروائی کی معلومات شامل کرنی ہوں گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔