قومی خبریں

نیٹ احتجاج پر سمراٹ حکومت جھکی، احتجاج کرنے والوں کے خلاف مقدمات واپس لینے کا حکم

حکومت نے کہا ہے کہ 26 جولائی کی شام 6 بجے سے پہلے احتجاج کے دوران افراد کے خلاف درج تمام ایف آئی آر، شکایات یا شوکاز نوٹسز کو واپس لینے کے لیے فوری طور پر قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

نیٹ پیپر لیک پر ہونے والے احتجاج کے بعد بہار حکومت نے اس معاملے میں درج تمام مقدمات واپس لینے کا حکم جاری کیا ہے۔ جیل میں بند افراد کو رہا کیا جائے گا۔ مزید برآں، یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ان معاملات میں آئندہ کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔یہ حکم پیر کی شام  یعنی27 جولائی کو جاری کیا گیا۔

جاری کردہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ نیٹ یو جی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے سلسلے میں جاری احتجاج کی روشنی میں، بہار حکومت یقین دلایا ہے کہ وہ بہار کے کسی بھی حصے میں ان مظاہروں میں ملوث افراد کے خلاف 26 جولائی کی شام 6:00 بجے تک کوئی تعزیری یا منفی قانونی کارروائی نہیں کرے گی۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ 26 جولائی کی شام 6 بجے سے پہلے احتجاج کے دوران افراد کے خلاف درج تمام ایف آئی آر، شکایات یا شوکاز نوٹسز کو واپس لینے کے لیے فوری طور پر قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔ 26 جولائی کی شام 6:00 بجے سے پہلے درج مقدمات میں گرفتار اور حراست میں لیے گئے تمام افراد کو فوری رہا کر دیا جائے گا۔

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 26 جولائی کو شام 6 بجے سے پہلے درج مقدمات میں نامزد افراد کے خلاف کوئی براہ راست یا بالواسطہ کارروائی نہیں کی جائے گی، یہاں تک کہ مستقبل میں بھی۔ حکومت کے جاری کردہ اس حکم سے طلبہ کو راحت ملی ہے۔

واضح رہے کہ نیٹ پیپر لیک پر ہونے والے احتجاج کے بعد بہار میں تقریباً 355 لوگوں کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار پولیس ہیڈ کوارٹر نے جاری کیے ہیں۔ جن شکتی جنتا دل (جے جے ڈی) کے رہنما اور لالو پرساد یادو کے بیٹے تیج پرتاپ یادو بھی احتجاج میں حصہ لینے کے جرم میں جیل میں ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔