قومی خبریں

الکا لامبا کا بی جے پی پر بڑا حملہ: 44 عوامی نمائندوں پر سنگین الزامات، تصاویر کے ساتھ پیش کی پوری تفصیل

کانگریس رہنما الکا لامبا نے پریس کانفرنس میں بی جے پی کے 44 ایم ایل اے و ایم پی پر خواتین سے متعلق جرائم کے الزامات عائد کیے، مختلف کیسز، نام اور تصاویر کے ذریعے حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھایا

<div class="paragraphs"><p>الکا لامبا / تصویر پریس ریلیز</p></div>

الکا لامبا / تصویر پریس ریلیز

 

الکا لامبا نے پریس کانفرنس کے آغاز میں ایک ایسی تصویر دکھائی جس میں وزیر اعظم نریندر مودی ایک بین الاقوامی سطح پر متنازعہ شخصیت جیفری ایپسٹین کے ساتھ نظر آ رہے ہیں۔ لامبا نے اس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد سے روابط پر سوال اٹھنا فطری ہے، خاص طور پر جب خواتین سے متعلق جرائم کی بات ہو رہی ہو۔

Published: undefined

’مودی کا اصلی پریوار‘ کے عنوان سے پیش کیے گئے گرافک میں کلدیپ سنگھ سینگر، برج بھوشن سنگھ اور دیگر بی جے پی سے جڑے افراد کی تصاویر کے ساتھ ’ریپ‘ اور ’جنسی استحصال‘ جیسے الزامات درج تھے۔ لامبا نے کہا کہ یہ صرف چند نام نہیں بلکہ ایک لمبی فہرست ہے جو 44 عوامی نمائندوں تک پہنچتی ہے۔

Published: undefined

پریس کانفرنس کے دوران لامبا نے واضح کیا کہ گوا، مہاراشٹر، اترکھنڈ اور دیگر ریاستوں میں سامنے آئے کیسز کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ الگ الگ واقعات نہیں بلکہ ایک ایسا پیٹرن ہے جہاں طاقتور افراد کے خلاف کارروائی سست یا متاثر نظر آتی ہے۔

Published: undefined

گرافک میں شامل برج بھوشن شرن سنگھ اور کلدیپ سینگر جیسے ناموں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان پر پہلے بھی سنگین الزامات لگ چکے ہیں، مگر اس کے باوجود سیاسی سرپرستی جاری رہی، جس سے انصاف کے نظام پر سوال کھڑے ہوتے ہیں۔

Published: undefined

ایک اور تصویر کے ذریعے انہوں نے بی جے پی قیادت کے اندرونی تعلقات کو نشانہ بنایا اور کہا کہ جب اعلیٰ سطح پر قربت ہوتی ہے تو اس کا اثر کارروائی پر بھی پڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ کئی معاملات میں سخت قدم نظر نہیں آتے۔

Published: undefined

الکا لامبا نے کہا کہ خواتین کے خلاف جرائم پر زیرو ٹالرینس ہونا چاہیے، مگر حقیقت میں بی جے پی حکومت ایسے معاملات میں سنجیدہ نظر نہیں آتی اور اکثر خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔

Published: undefined

سخت لہجے میں انہوں نے سوال اٹھایا کہ بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی کے بیانات پر پارٹی کیوں خاموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپنی ہی پارٹی کے اندر سے ایسے الزامات آ رہے ہیں تو ان کی تحقیقات کیوں نہیں ہو رہی۔

Published: undefined

ایک علامتی تصویر کا حوالہ دیتے ہوئے لامبا نے کہا کہ بعض افراد کو نہ صرف سیاسی تحفظ حاصل ہے بلکہ انہیں سماجی طور پر بھی عزت دی جاتی ہے، چاہے ان پر کتنے ہی سنگین الزامات کیوں نہ ہوں۔

Published: undefined

گوا کے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بی جے پی کونسلر سشانت نائک کے بیٹے سہم نائک پر 20 سے 30 نابالغ لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات کا حوالہ دیا اور کہا کہ تین سال تک یہ معاملہ دبایا گیا۔

Published: undefined

اتراکھنڈ کے انکیتا بھنڈاری کیس کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں بھی بڑے نام سامنے آئے، مگر سی بی آئی جانچ کو آگے نہیں بڑھنے دیا جا رہا، جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔

Published: undefined

ہریانہ کے سابق وزیر کھیل سندیپ سنگھ کے خلاف خاتون کوچ کے الزامات کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں فوری کارروائی ہونی چاہیے تھی، مگر سیاسی دباؤ کے باعث تاخیر ہوئی۔

Published: undefined

مہاراشٹر کے اشوک کھرات کیس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 58 خواتین کے استحصال اور ویڈیو بنانے جیسے الزامات کے باوجود ابتدا میں سخت کارروائی نہیں ہوئی، بلکہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہی معاملہ آگے بڑھا۔

Published: undefined

سوشل میڈیا پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مدھو پورنیما کشور کے بیان کو بھی شامل کیا، جس میں انہوں نے مودی سے دوری کی وجہ بیان کی تھی، اور کہا کہ ایسے بیانات بھی کئی سوالات کو جنم دیتے ہیں۔

Published: undefined

کپِل مشرا کے پرانے بیان کا ذکر کرتے ہوئے لامبا نے کہا کہ انہوں نے خود اسمبلی میں مودی سے متعلق سنجیدہ دعوے کیے تھے اور اس سے جڑی سی ڈی سپریم کورٹ کو بھی دی گئی تھی، مگر اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

Published: undefined

آخر میں لامبا نے وارانسی کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال میں خواتین کے خلاف 1686 کیسز درج ہوئے، اور ہر 15 دن میں ایک عصمت دری کا واقعہ سامنے آ رہا ہے، جو حکومت کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined