
لال قلعہ کی فائل تصویر
اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ سال نومبر میں دہلی کے لال قلعہ پر جو دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا، اسے القاعدہ نے کروایا تھا۔ اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گردانہ حملہ کے لیے ’القاعدہ اِن دی انڈین سب کانٹیننٹ‘ (اے کیو آئی ایس) کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک بکھرے ہوئے گروپ سے تبدیل ہو کر ایک علاقائی دہشت گرد تنظیم کے طور پر ابھرا ہے۔ اس نے بہت تیزی سے لاجسٹکس اور مالیاتی نیٹورک قائم کیے۔ ساتھ ہی بڑے گروپ کے بجائے مرکزیت سے گریز پر توجہ دی اور چھوٹے اور بکھرے ہوئے سیلز یعنی گروپوں کی شکل میں کام کیا۔ اب اقوام متحدہ کی رپورٹ میں دہلی کے لال قلعہ پر نومبر 2025 میں ہوئے حملہ کے لیے باضابطہ طور پر اے کیو آئی ایس کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ اے کیو آئی ایس بنگلہ دیش میں بھی اپنے سیلز بنانے کی کوششیں کر رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ دہلی کے لال قلعہ بم دھماکہ کی تحقیقات قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کر رہی ہے۔ مئی میں این آئی اے کی جانب سے داخل کی گئی چارج شیٹ میں بھی یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ القاعدہ سے وابستہ ایک شاخ کے ایک ملزم نے ’ٹیرر انجینئرنگ‘ کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا غلط استعمال کیا تھا۔ اس وقت کہا گیا تھا کہ ملزمین نے راکٹ امپرووائزڈ ایکسپلوسیو ڈیوائس (آئی ای ڈی) تیار کیے تھے اور جموں و کشمیر کے اننت ناگ ضلع کے قاضی گنڈ جنگل میں اس کی ٹیسٹنگ بھی کی گئی تھی۔
این آئی اے کی جانب سے رواں سال 14 مئی کو بم دھماکہ کے معاملے میں 7,500 صفحات پر مشتمل طویل چارج شیٹ داخل کی گئی۔ گزشتہ سال 10 نومبر کو دہلی میں ہوئے زبردست آئی ای ڈی کار دھماکہ کے سلسلے میں داخل اس چارج شیٹ میں بتایا گیا کہ ملزمین نے آئی ای ڈی بنانے اور استعمال کرنے کے لیے انتہائی باریک بینی سے ’لیبارٹری گریڈ‘ طریقہ اپنایا تھا۔ چارج شیٹ میں نامزد ملزمین میں سے ایک ’انصار غزوات الہند‘ (اے جی یو ایچ) کے عبوری دہشت گرد ماڈیول کا ’اِن ہاؤس انجینئر‘ نکلا اور یہ ماڈیول اے کیو آئی ایس سے وابستہ ہے۔ وزارت داخلہ اے کیو آئی ایس اور اس کی تمام شاخوں کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکی ہے۔ چارج شیٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملزم یاسر بلال وانی نے اس واقعہ کو انجام دینے کے لیے ’تکنیکی مدد‘ فراہم کرنے کے ارادے سے 25-2024 کے دوران 2 سے 3 بار ہریانہ کے فرید آباد میں الفلاح یونیورسٹی کیمپس کا دورہ کیا اور کچھ عرصہ وہاں رہا بھی۔
تحقیقات میں یہ سامنے آنے کے بعد کہ یونیورسٹی میں کام کرنے والے 3 ڈاکٹر بھی مبینہ طور پر دھماکہ میں ملوث تھے، یونیورسٹی کا کردار بھی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی تحقیقات کے دائرے میں آ گیا۔ ڈاکٹر عدیل احمد راتھر نے یاسر کی ملاقات ڈاکٹر عمر ان نبی سے کرائی تھی۔ ڈاکٹر عمر ان نبی اس معاملے کا ایک اور اہم ملزم ہے اور اسی نے دھماکہ خیز مواد سے بھری کار چلائی تھی۔ چارج شیٹ کے مطابق اس دھماکہ میں 11 افراد ہلاک ہوئے جبکہ کئی دیگر زخمی ہو گئے تھے۔
این آئی اے کی تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ عدیل نے یاسر کو آئی ای ڈی بنانے کا سامان، مثلاً این پی کے کھاد کی شکل میں پوٹاشیم نائٹریٹ اور پسی ہوئی چینی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ڈاکٹر عمر پر الزام ہے کہ انہوں نے امپرووائزڈ راکٹ آئی ای ڈی پر تحقیق کی اور اس بارے میں مزید معلومات فراہم کیں۔ ساتھ ہی چارج شیٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یاسر نے یوٹیوب اور چیٹ جی پی ٹی کا بھی استعمال کیا اور اس کے ذریعہ یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ ’راکٹ کیسے بنایا جائے اور اس میں مکسچر کا کتنا تناسب ہونا چاہیے‘۔ اس سے ’ٹیرر انجینئرنگ‘ کے لیے ڈیجیٹل اور اے آئی پلیٹ فارم کے مبینہ غلط استعمال کی معلومات سامنے آئی تھیں۔ یاسر نے ڈاکٹر عمر، ڈاکٹر مزمل شکیل اور دیگر شریک ملزمین کے ساتھ مل کر راکٹ آئی ای ڈی تیار کیے اور قاضی گنڈ جا کر وہاں کے جنگل میں ان کا تجربہ بھی کیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔