قومی خبریں

دہلی کی آلودگی میں معمولی بہتری کے لیے اجئے ماکن نے ’اندر دیوتا‘ کا ادا کیا شکریہ، لیکن حالات اب بھی تشویش ناک

اجئے ماکن نے زور دیا کہ دہلی میں فضائی آلودگی ایک سنجیدہ عوامی صحت کا مسئلہ بن چکا ہے اور اس کے حل کے لیے طویل مدتی اور مؤثر پالیسیوں کی ضرورت ہے۔

اجے ماکن / ٹوئٹر
اجے ماکن / ٹوئٹر 

راجدھانی دہلی میں آلودگی معاملہ پر کانگریس رکن پارلیمنٹ اور پارٹی کے خزانچی اجئے ماکن لگاتار آواز اٹھا رہے ہیں۔ فضائی آلودگی میں پیر (16 مارچ) کو کچھ حد تک کمی ضرور دیکھی گئی، لیکن صورت حال اب بھی تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ اس بارے میں اجئے ماکن نے تازہ اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے کہا کہ موسم کی عارضی بہتری کے باوجود شہر کی ہوا عالمی معیار سے کئی گنا زیادہ آلودہ ہے۔

Published: undefined

اجے ماکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ 16 مارچ کو دہلی کی ہوا میں قدرے بہتری دیکھی گئی، جس کا بڑا سبب ہلکی بارش، نسبتاً تیز ہوا اور فضا کی بہتر ملاوٹ رہی۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اس بہتری کا سہرا ’اندر دیوتا‘ یعنی بارش کے دیوتا کے سر جاتا ہے۔

Published: undefined

اجے ماکن کے مطابق سنٹرل پالیوشن کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کے 43 مانیٹرنگ اسٹیشنوں میں سے تمام 43 اسٹیشنوں پر فضائی آلودگی کی سطح عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی مقررہ حد سے زیادہ رہی، جبکہ 19 اسٹیشن ایسے تھے جہاں آلودگی کی مقدار ہندوستان کے قومی معیار یعنی نیشنل امبیئنٹ ایئر کوالٹی اسٹینڈرڈس (این اے اے کیو ایس) سے بھی زیادہ درج کی گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق دہلی کے مختلف علاقوں میں پی ایم 2.5 کی سطح خاصی بلند رہی۔ شادی پور میں یہ 141 مائیکروگرام فی مکعب میٹر، این ایس آئی ٹی دوارکا میں 130 اور چاندنی چوک میں 91 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی۔

Published: undefined

ماکن نے مزید بتایا کہ باؤنڈری لیئر ہائٹ (بی ایل ایچ) یعنی وہ فضائی سطح جس میں آلودگی پھیلتی ہے، آج 1381 میٹر ریکارڈ کی گئی، جو معمول سے تقریباً 244 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح ہوا کی رفتار 2.6 میٹر فی سیکنڈ رہی جو معمول سے تقریباً 24 فیصد زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ شہر میں ہلکی بارش بھی ہوئی جس سے آلودگی میں عارضی کمی آئی۔ انہوں نے جدید مشین لرننگ پر مبنی ’ڈی ویدرنگ’ تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر موسم کی مدد نہ ملتی تو دہلی میں پی ایم 2.5 کی مقدار تقریباً 94 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ہوتی۔ یعنی موسمی حالات نے تقریباً 34 مائیکروگرام فی مکعب میٹر آلودگی کم کرنے میں کردار ادا کیا۔ شہر کا مجموعی اوسط پی ایم 2.5 تقریباً 60 مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہا، جو عالمی ادارۂ صحت کی مقررہ حد سے تقریباً 4 گنا زیادہ ہے۔

Published: undefined

اجئے ماکن نے اس صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا دہلی کے لوگ ہمیشہ صرف موسم یا ’اندر دیوتا‘ کے رحم و کرم پر ہی رہیں گے، یا حکومت آلودگی کو مستقل طور پر کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات بھی کرے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ دہلی میں فضائی آلودگی ایک سنجیدہ عوامی صحت کا مسئلہ بن چکا ہے اور اس کے حل کے لیے طویل مدتی اور مؤثر پالیسیوں کی ضرورت ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined