قومی خبریں

موسمی اثرات الگ کرنے پر بھی دہلی کی حقیقی آلودگی گزشتہ سال سے زیادہ، حکومت ناکام: اجے ماکن

اجے ماکن نے کہا کہ دہلی میں کم بارش اور تیز ہواؤں سے آلودگی بڑھی، تاہم موسمی اثرات الگ کرنے پر بھی حقیقی آلودگی گزشتہ سال سے زیادہ ہے۔ انہوں نے حکومت کو ناکام قرار دیتے ہوئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا

<div class="paragraphs"><p>اجے ماکن / تصویر: قومی آواز، ویپن</p></div>

اجے ماکن / تصویر: قومی آواز، ویپن

 

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اجے ماکن نے دہلی میں فضائی آلودگی کے مسئلے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اس مرتبہ کم بارش اور تیز ہواؤں جیسے موسمی عوامل نے آلودگی کی صورتحال کو متاثر کیا، لیکن ان اثرات کو الگ کرکے دیکھا جائے تو شہر کی حقیقی آلودگی گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے، جو حکومتی پالیسیوں کی ناکامی کی نشاندہی کرتی ہے۔

Published: undefined

اجے ماکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ویڈیو پیغام اور تحریری بیان میں کہا کہ 28 جون صبح 10 بجے سے 29 جون صبح 10 بجے تک کے اعداد و شمار کا تجزیہ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کے فضائی معیار کے اشاریے (اے کیو آئی) کی بنیاد پر کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران 5.7 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی، جبکہ اس بار بارش صفر ملی میٹر رہی۔ بارش نہ ہونے کے باعث فضائی آلودگی کے ذرات دھل نہیں سکے، جس سے آلودگی میں اضافہ ہوا۔

Published: undefined

انہوں نے مزید کہا کہ ہوا کی رفتار بھی گزشتہ سال کے 5.8 کلومیٹر فی گھنٹہ کے مقابلے میں بڑھ کر 8.9 کلومیٹر فی گھنٹہ ہو گئی، جس کے باعث سڑکوں اور تعمیراتی مقامات سے گرد و غبار زیادہ مقدار میں فضا میں پھیل گیا اور پی ایم 10 کی سطح میں اضافہ ہوا۔

اجے ماکن کے مطابق موسمی عوامل کا اثر الگ کرنے پر پی ایم 10 کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں 16 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی، جبکہ فضائی معیار کا اشاریہ بھی 12 پوائنٹس زیادہ رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے اور اس کا سبب صرف موسم نہیں بلکہ فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کی ناکامی بھی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ فضائی صورتحال دمے اور دل کے مریضوں، بچوں اور بزرگوں کے لیے صحت کے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔

Published: undefined

اجے ماکن نے حکومت سے تین مطالبات بھی کیے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی سرگرمیوں اور سڑکوں کی دھول جیسے پی ایم 10 کے بڑے ذرائع کے خلاف فوری سخت کارروائی کی جائے۔ اس کے علاوہ این ایس آئی ٹی دوارکا، جہاں فضائی معیار سب سے زیادہ خراب بتایا گیا، وہاں مقامی آلودگی کے ذرائع پر فوری قابو پایا جائے اور صحت سے متعلق انتباہ جاری کیا جائے۔ انہوں نے کمیشن برائے فضائی معیار کے انتظام (سی اے کیو ایم) اور دہلی آلودگی کنٹرول کمیٹی (ڈی پی سی سی) کی جوابدہی طے کرنے اور غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔

اجے ماکن نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ’سانس لینا بنیادی حق ہے، سہولت نہیں‘ اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہلی کے شہریوں کو صاف ہوا فراہم کرنے کے لیے مؤثر اور فوری اقدامات کیے جائیں۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined