
طیارہ، تصویر آئی اے این ایس
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے درمیان گلوبل ٹریڈ اور تیل سپلائی میں آئے رخنہ نے ہندوستان کی فکر میں اضافہ کر دیا ہے۔ خصوصاً ایئرلائنز اور درآمدات و برآمدات سے جڑی کمپنیوں پر بڑھتے دباؤ کو دیکھتے ہوئے ہندوستان کی وفاقی کابینہ نے تقریباً 18 ہزار کروڑ روپے پر مشتمل ایک خصوصی قرض گارنٹی منصوبہ کو منظوری دی ہے۔ اس ’حفاظتی ڈھال‘ کا مقصد بحران زدہ کاروباروں کو اضافی لکویڈیٹی فراہم کرنا، ملازمت کو بچانا اور معاشی ترقی کی رفتار کو بنائے رکھنا ہے۔
Published: undefined
ایران کے ساتھ بڑھتی جنگ کے خطرات اور اسٹریٹجک طور سے اہم آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے درمیان حکومت ہند نے کارپوریٹ اور ہوابازی سیکٹر کو یہ بڑی راحت دی ہے۔ وزیر اعظم کی صدارت میں منگل کے روز ہوئی کابینہ میٹنگ میں تقریباً 18 ہزار کروڑ روپے کا پونجی الاٹ کرنے کے ساتھ ایک نئے قرض گارنٹی منصوبہ کو ہری جھنڈی دکھائی ہے۔
Published: undefined
حکومت کے ذریعہ جاری آفیشیل بیان کے مطابق یہ منصوبہ ان مقروضوں اور کمپنیوں کے لیے ہے جن کا آپریشن جنگ کے سبب متاثر ہوا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت سرکاری بینکوں اور مالیاتی اداروں کو خود مختار گارنٹی فراہم کرے گی، جس سے وہ بغیر کسی اضافی جوکھم کے متاثر کمپنیوں کو قرض دے سکیں گے۔ اس پیش قدمی کا اہم مقصد ایئرلائنز کے آپریشن کو برقرار رکھنا ہے، جو موجودہ وقت میں بدلے گئے راستوں اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے سبب شدید نقصان برداشت کر رہی ہیں۔
Published: undefined
یہ ایمرجنسی قرض گارنٹی منصوبہ کافی حد تک اس ماڈل پر مبنی ہے جسے کووڈ-19 وبا کے دوران ایم ایس ایم ای کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔ مارچ 2023 تک کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ حکومت نے اس وقت 2.42 ٹریلین روپے کی گارنٹی دی تھی، جس سے لاکھوں کاروباروں کو ڈوبنے سے بچایا گیا تھا۔ اب اسی طرز پر ایران جنگ کے اثرات کو کم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined