
احمد آباد ایئر انڈیا طیارہ حادثہ / آئی اے این ایس
ایئر انڈیا نے گزشتہ سال احمد آباد میں پیش آئے طیارہ حادثہ کے متاثرین کے خاندانوں کو 8,000 پاؤنڈ (تقریباً 10 لاکھ روپے) سے 16,000 پاؤنڈ (تقریباً 20 لاکھ روپے) تک اضافی معاوضہ دینے کی پیشکش کی ہے۔ اس کے لیے متاثرہ کنبوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ ایئرلائن اور طیارہ ساز کمپنی کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہ کریں۔ یہ اطلاع برطانوی اخبار ’دی انڈیپنڈنٹ‘ نے دی ہے۔ حادثہ کے بعد ایئر انڈیا نے شروعاتی معاوضہ کے طور پر متوفی کے کنبوں کو تقریباً 25 لاکھ روپے (20,215 پاؤنڈ) دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے علاوہ ایئرلائن کے مالک ٹاٹا گروپ نے مزید 1 کروڑ روپے (80,850 پاؤنڈ) دینے کا وعدہ کیا تھا۔
Published: undefined
واضح رہے کہ 12 جون کو احمد آباد سے لندن جا رہی بوئنگ 8-787 ڈریم لائنر پرواز بھرنے کے چند ہی منٹ بعد حادثہ کا شکار ہو گیا تھا۔ طیارے میں 242 افراد سوار تھے۔ صرف ایک مسافر وشوکمار رمیش زندہ بچ پائے، جبکہ زمین پر موجود 19 افراد کی بھی موت ہوئی۔ حادثہ کی سرکاری جانچ ابھی جاری ہے۔ ایئر انڈیا اور بوئنگ کے خلاف کئی مقدمات چل رہے ہیں۔ ان مقدمات میں طیارے کی سیکورٹی میں کوتاہی اور ذمہ داری طے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ متوفیوں میں 53 برطانوی شہری تھے، اس لیے کچھ مقدمات برطانیہ میں بھی دائر کیے گئے ہیں۔
Published: undefined
اب 130 متاثرہ خاندانوں کے لیے کیس لڑ رہی قانونی ٹیم نے بتایا کہ ایئر انڈیا انہیں حتمی اضافی معاوضہ دے رہا ہے۔ اس کے لیے انہیں ایک دستاویز پر دستخط کرنا ہوگا اور مستقبل میں کسی بھی دعوے کا حق چھوڑنا ہوگا۔ دستاویز میں لکھا ہے کہ معاوضہ لینے کے بعد یہ حق ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ کچھ خاندانوں کو تقریباً 8,000 پاؤنڈ اور کچھ کو دوگنی رقم یعنی 16,000 پاؤنڈ کی پیشکش کی گئی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ غیر منصفانہ ہے کیونکہ جانچ ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے اور ذمہ داری طے نہیں ہوئی۔ اس حادثہ میں کئی لوگ زخمی بھی ہوئے تھے، جن کا علاج بھی جاری ہے۔ ان خاندانوں پر دباؤ ڈال کر ان سے اپنے حقوق چھوڑنے کے لیے کہنا درست نہیں ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ لندن میں کئی خاندانوں نے ذاتی چوٹ کے مقدمات دائر کیے ہیں۔ امریکہ میں 4 متوفی مسافروں کے خاندانوں نے بوئنگ اور ہنی ویل کے خلاف مقدمہ کیا ہے۔ اس میں الزام لگایا گیا ہے کہ حادثہ کی وجہ خراب فیول سوئچ تھے۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق حادثہ کے 3 سیکنڈ بعد انجن کے فیول کٹ آف سوئچ غلطی سے بند ہو گئے تھے، جس سے طیارہ فوراً تھرسٹ کھونے لگا اور حادثہ پیش آیا۔
Published: undefined
دوسری طرف ایئر انڈیا کا کہنا ہے کہ معاوضہ کی رقم مناسب اور شفاف ہے۔ ایئرلائن نے یہ بھی کہا ہے کہ سیکورٹی ان کی ترجیح ہے اور حادثہ کے بعد انہوں نے گہری جانچ، تربیت اور آپریشنل اصلاحات کی ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined