قومی خبریں

امیگریشن میں لاپرواہی پر ایئر انڈیا کا ملازم معطل، بغیر جانچ اٹلی روانہ ہو گئے تھے 3 مسافر

3 اطالوی مسافر 4 ستمبر کی رات تقریباً 12:50 بجے امرتسر سے ایئر انڈیا کی پرواز اے آئی-1115 سے دہلی پہنچے تھے۔ پھر 1:45 بجے وہ لفتھانسا کی پرواز میں سوار ہو کر میونخ چلے گئے۔

<div class="paragraphs"><p>ایئر پورٹ علامتی تصویر/ سوشل میڈیا</p></div>

ایئر پورٹ علامتی تصویر/ سوشل میڈیا

 

شہری ہوا بازی کے وزیر رام موہن نائیڈو نے ایئر انڈیا کے ’ہَب اینڈ اسپوک‘ امیگریشن عمل میں لاپرواہی پر سخت کارروائی کی ہے۔ غلطی سامنے آنے کے بعد ایئر انڈیا کے ایک ملازم کو معطل کر دیا ہے۔ تحقیقات میں پایا گیا کہ ملازم نے مسافروں کو طے شدہ راستے سے نہیں جانے دیا، جس کی وجہ سے ایئرپورٹ کی سیکورٹی میں غفلت ہوئی۔ رام موہن نائیڈو نے واضح طور پر کہا کہ ایئرپورٹ کی سیکورٹی سے کسی بھی طرح کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ یہ پورا معاملہ 3 اطالوی شہریوں سے متعلق ہے۔ تینوں 4 ستمبر کو امرتسر سے دہلی آئے اور بغیر کسی امیگریشن جانچ کے دہلی ایئرپورٹ سے میونخ چلے گئے۔ اس کے بعد مرکزی شہری ہوا بازی کی وزارت (ایم او سی اے) نے 12 ستمبر کو ایئر انڈیا کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا تھا۔ ساتھ ہی 14 ستمبر کو داخلہ سکریٹری گووند موہن کی صدارت میں میٹنگ بلائی گئی تھی۔

رپورٹس کے مطابق 3 اطالوی مسافر 4 ستمبر کی رات تقریباً 12:50 بجے امرتسر سے ایئر انڈیا کی پرواز اے آئی-1115 سے دہلی پہنچے تھے۔ پھر 1:45 بجے وہ لفتھانسا کی پرواز میں سوار ہو کر میونخ چلے گئے۔ تینوں ہَب اینڈ اسپوک ماڈل کے تحت سفر کر رہے تھے۔ اس کے تحت گھریلو اور بین الاقوامی سفر کی بنیاد پر الگ الگ عمل سے گزرنا ہوتا ہے۔ لیکن اس معاملے میں طے شدہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے مسافر ضروری امیگریشن جانچ کے بغیر ہی بین الاقوامی روانگی کے علاقے (انٹرنیشنل ڈیپارچر ایریا) تک پہنچ گئے اور پرواز میں سوار ہو گئے۔ دوسری جانب وزارت شہری ہوا بازی کا کہنا ہے کہ واقعہ کے بعد کنیکٹنگ بین الاقوامی مسافروں سے متعلق آپریشنل طریقہ کار کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس میں ہب اینڈ اسپوک ماڈل کے تحت نافذ انتظامات کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔

وزارت کا کہنا ہے طے شدہ قواعد کے مطابق مسافروں کو صرف ڈی (گھریلو) آئی (بین الاقوامی) کیٹیگری کے بورڈنگ پاس جاری کیے جانے تھے۔ دہلی پہنچنے پر گھریلو اور بین الاقوامی مسافروں کو الگ الگ رکھا جان چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ صرف آئی کیٹیگر کے بورڈنگ پاس والے مسافروں کو ہی ’انٹرنیشنل ٹو انٹرنیشنل ٹرانسفر ڈیسک‘ تک پہنچنا چاہیے تھا، پھر بھی ڈی کیٹیگری کے بورڈنگ پاس والے مسافر وہاں پہنچ گئے۔ ’ہب اینڈ اسپوک‘ ایئرپورٹ پر 24 گھنٹے کے لیے ایک نوڈل افسر تعینات کیا جانا چاہیے تھا۔ یہ یقینی بنانے کے لیے کہ کوئی بھی مسافر ضروری رسمی کارروائی مکمل کیے بغیر بین الاقوامی روانگی والے علاقے میں نہ پہنچے۔ چوبیس گھنٹے نگرانی کرنے والی ٹیم کی بھی ضرورت تھے، اس معاملے میں نگرانی کا سسٹم بھی ناکام رہا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔