تصویر سوشل میڈیا
ہندوستان میں اِس وقت ’اے آئی سمٹ‘ کی دھوم ہے، لیکن ایک نئے تنازعہ نے عالمی سطح پر ہندوستان کی شبیہ کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ گلگوٹیا یونیورسٹی کے ذریعہ چین اور جنوبی کوریا کے سامان کو ہندوستانی ایجاد بتائے جانے کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ اس معاملہ نے طول پکڑ لیا ہے اور گلگوٹیا یونیورسٹی کو معافی تک مانگنی پڑ گئی ہے۔ ہنگامہ بڑھتا دیکھ کر گلگوٹیا یونیورسٹی کا اسٹال بھی ’بھارت منڈپم‘ سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اس درمیان کانگریس لگاتار مودی حکومت پر حملہ کر رہی ہے۔ کانگریس لیڈران مرکزی وزیر اشونی ویشنو کے ذریعہ چینی سامان کو ہندوستانی ایجاد بتائی جانے والی سوشل میڈیا پوسٹ پر طنز بھی کر رہے ہیں اور پوری دنیا میں ہندوستان کا بن رہے مذاق پر افسوس بھی ظاہر کر رہے ہیں۔
Published: undefined
اس معاملہ میں کانگریس نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر کئی پوسٹس بھی کی ہیں۔ ایک ویڈیو پوسٹ میں کانگریس نے کہا ہے کہ ’’دہلی میں اے آئی سمٹ ہو رہا ہے۔ لیکن وہاں جو ہو رہا ہے، لوگ کہہ رہے ہیں، اس سے بہتر ہوتا ہی نہیں۔ مذاق بنا رکھا ہے۔ چین کے روبوٹ اپنے بتا کر چپکائے جا رہے ہیں۔ ایک نہیں، کئی اسٹالوں میں ایسا ہو رہا ہے۔‘‘ طنزیہ انداز میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ’’پتہ چلا اے آئی سمٹ ہے، تو چین سے مال خریدا، اور اپنا بتا کر لگا دیا۔ چین کی میڈیا نے یہ بات پکڑ بھی لی، اور اس کا مذاق بھی اڑا دیا۔ نقصان کس کا ہوا؟ ملک کی شبیہ کا۔‘‘
Published: undefined
اس ویڈیو میں حیرت ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’مودی حکومت کے وزیر بھی اس فرضی واڑے کو مکمل سپورٹ کر رہے ہیں۔ کہہ رہے ہیں کہ دیکھو، کیا مست بنایا ہے ہم نے! پکڑے جانے پر ٹوئٹ ڈیلیٹ، اور ہو گئی بات ختم۔ ہے نہ وزیر محترم! نہیں بات ختم نہیں ہوئی۔‘‘ آگے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ’’یہ مودی حکومت کا فرضی واڑہ ماڈل ہے، جس کی وجہ سے ساری دنیا میں ملک کو شرمسار ہونا پڑتا ہے۔ اور یہ ہوتا کیوں ہے؟ جب خود وزیر اعظم ہی ’ہمارے یہاں بچہ پیدا ہوتا ہے، تو وہ اے آئی بھی بولتا ہے، آئی بھی بولتا ہے۔ اے آئی مطلب امریکن-انڈین‘... اس طرح کی فضول بات کریں گے، تو ان کے مرید بھی تو یہی سب سیکھیں گے۔‘‘
Published: undefined
اس ویڈیو میں اینکر کے ذریعہ کانگریس نے مودی حکومت کو یہ پیغام دیا ہے کہ بہتر اے آئی کو مضبوط بنانے کے لیے ڈاٹا چاہیے۔ ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا ڈاٹا بیس ہے۔ ہم سچ میں اے آئی میں ورلڈ لیڈر ہو سکتے ہیں، لیکن ایسے ’آئی، اے آئی‘ کرنے سے تو نہیں ہو پائے گا۔‘‘ ویڈیو کے آخر میں اینکر کہتا ہے ’’نریندر مودی نے عالمی اسٹیج پر ہندوستان کا مذاق بنا دیا ہے۔ شرم ان کو مگر نہیں آتی۔‘‘
Published: undefined
ایک دیگر ویڈیو میں بھی کانگریس نے دوسرے ممالک کے سامان کو گلگوٹیا یونیورسٹی کے ذریعہ ہندوستانی سامان بتائے جانے پر مودی حکومت کو ہی کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ اس ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ ’’مودی حکومت نے اے آئی کو لے کر عالمی اسٹیج پر ہندوستان کا مذاق بنا دیا ہے۔ اے آئی سمٹ میں چین کے بنائے روبوٹ کو، جنوبی کوریا کے بنائے ساکر ڈرون کو اپنا بتا کر دکھایا جا رہا ہے۔‘‘ اس ویڈیو میں چین کے ذریعہ ہندوستان کا مذاق بنائے جانے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ’’چین اس بات کا مذاق اڑا رہا ہے۔ سب سے شرمناک تو یہ ہے کہ مودی حکومت میں وزیر اشونی ویشنو چین کے روبوٹ کو ہندوستان کی ایجاد بتا رہے ہیں، اس پر ٹوئٹ کر رہے ہیں، اپنی ہی پیٹھ تھپتھپا رہے ہیں۔ ان لوگوں نے ملک کی شبیہ کا بہت نقصان کیا ہے۔‘‘
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ کانگریس ترجمان راگنی نایک نے آج ایک پریس کانفرنس میں بھی اے آئی سمٹ تنازعہ کا ذکر کیا۔ انھوں نے میڈیا اہلکاروں سے کہا کہ ’’اے آئی سمٹ میں ہر طرف لوگ پریشان ہیں۔ (بھارت منڈپم کے) اندر موجود لوگ بھی پریشان ہیں اور باہر (سڑک پر چلنے والے) کے لوگ بھی پریشان ہیں۔ لیکن وہاں مودی جی کی الگ الگ زاویہ والی ویڈیو بن گئی، اس لیے وہ بہت خوش ہیں۔‘‘ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’’مودی جی کے ایک وزیر نے چین کے روبوٹ والی ویڈیو ’بھارت کی شان‘ بتاتے ہوئے پوسٹ بھی کر دی تھی۔ اس وجہ سے بہت فضیحت بھی ہوئی ہے۔ یہ اے آئی سمٹ ایک فلاپ شو ثابت ہوا ہے۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز
تصویر: پریس ریلیز