
آئی اے این ایس
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 اور 26 فروری کو طے شدہ اسرائیل کے سرکاری دورے سے قبل کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیانات کے ذریعے حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھائے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے غزہ کی موجودہ صورتحال اور فلسطین کے حق میں ہندوستان کے تاریخی مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم سے واضح اور دو ٹوک موقف اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔
Published: undefined
جے رام رمیش نے اپنی پوسٹ میں یاد دلایا کہ بیس مئی 1960 کو پنڈت جواہر لال نہرو غزہ گئے تھے اور وہاں اقوام متحدہ کی ہنگامی فورس میں تعینات ہندوستانی دستے سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ 29 نومبر 1981 کو ہندوستان نے فلسطین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا تھا، جبکہ 18 نومبر 1988 کو فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔
Published: undefined
جے رام رمیش کے مطابق وہ ایک الگ دور تھا، جبکہ موجودہ وقت میں وزیر اعظم مودی اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ اپنی قربت کو نمایاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی قیادت پر غزہ کو ملبے میں بدلنے اور مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جب دنیا تنقید کر رہی ہے تو ہندوستان کو اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔
Published: undefined
پرینکا گاندھی نے اپنی پوسٹ میں امید ظاہر کی کہ وزیر اعظم مودی اسرائیل کی پارلیمنٹ کنیسٹ سے خطاب کے دوران غزہ میں معصوم مردوں، عورتوں اور بچوں کی ہلاکتوں کا ذکر کریں گے اور انصاف کا مطالبہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک آزاد قوم کی حیثیت سے ہندوستان کی تاریخ حق اور انصاف کے ساتھ کھڑے ہونے کی رہی ہے اور اسی روایت کو برقرار رکھا جانا چاہئے۔
Published: undefined
یاد رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی 25 اور 26 فروری کو اسرائیل کے سرکاری دورے پر رہیں گے۔ یہ دورہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کی دعوت پر ہو رہا ہے۔ اس سے قبل سن 2017 میں نریندر مودی اسرائیل جانے والے پہلے ہندوستانی وزیر اعظم بنے تھے۔ موجودہ دورے کو دونوں ملکوں کے تعلقات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اپوزیشن جماعتیں غزہ کی صورتحال کے پیش نظر حکومت کے مؤقف پر سوال اٹھا رہی ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined