قومی خبریں

13 سال تک انتظار اور پھر تنوی کی موت، ایمس نے سرجری نہ کرنے کی بتائی وجہ

تنوی کے والد مکیش کمار نے کہا کہ ’’میں گزشتہ 14 سال سے دہلی میں دوڑ بھاگ کر رہا ہوں۔ مجھے انصاف چاہیے اور ڈاکٹر کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ مجھے صرف بہانے یا رسمی کارروائیاں نہیں چاہیے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>دہلی ایمس، تصویر بشکریہ&nbsp;<a href="https://x.com/airnewsalerts">@airnewsalerts</a></p></div>

دہلی ایمس، تصویر بشکریہ @airnewsalerts

 

راجستھان کے کوٹا کی رہنے والی 16 سالہ تنوی نے منگل (یکم ستمبر) کی صبح 13 سال تک سرجری کے انتظار کے بعد دم توڑ دیا۔ اس واقعہ سے اہل خانہ صدمے میں ہے اور انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ معاملے کو بڑھتا دیکھ ایمس انتظامیہ نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے جو تنوی کی موت کی تحقیقات کرے گی۔ خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ کے مطابق کوٹا کی رہنے والی تنوی کی منگل کی صبح موت ہو گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ ایمس دہلی میں دل کی سرجری کے لیے 13 سال سے انتظار کر رہی تھی۔ اسے 2012 سے پیدائشی طور پر دل کی بیماری تھی۔ اس کے والدین بار بار ایمس کا چکر لگاتے رہے اور ہر بار کسی نہ کسی وجہ سے اس کی سرجری کی تاریخ ٹال دی جاتی رہی۔

اہل خانہ نے مرکزی وزارت صحت سے بھی درخواست کی تھی لیکن اس کے باوجود سرجری نہیں ہو پائی تھی۔ تنوی کے والد مکیش کمار نے کہا کہ ’’میں گزشتہ 14 سال سے دہلی میں دوڑ بھاگ کر رہا ہوں۔ مجھے انصاف چاہیے اور ڈاکٹر کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ مجھے صرف بہانے یا رسمی کارروائیاں نہیں چاہیے۔ میں صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم نریندر مودی سے خاص گزارش کرتا ہوں کہ 3 بار شکایت کرنے کے باوجود میری بیٹی کو بچایا نہیں جا سکا۔‘‘

دوسری جانب ایمس نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ ایمس نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر 2 صفحات پر مشتمل ایک بیان شیئر کیا ہے۔ اس کے مطابق 10 اکتوبر 2012 کو ایمس کے کارڈیولوجی او پی ڈی میں تنوی کی سب سے پہلے جانچ ہوئی تھی۔ اس جانچ میں تنوی کو وینٹریکولر سیپٹل ڈیفیکٹ (وی ایس ڈی) اور پلمونری ایٹریسیا پایا گیا۔ یہ پیدائشی بیماری ہوتی ہے، جس میں دل سے پھیپھڑوں تک خون کے بہاؤ میں دشواری پیش آتی ہے۔ 2013 میں سرجری کے لیے دلی کی جانچ کی گئی۔ اس کے لیے سی ٹی انجیوگرافی، کنونشنل انجیوگرافی اور کارڈیک کیتھیٹرائزیشن جیسی جدید جانچ تکنیکوں کا استعمال کر تنوی کے دل کی بناوٹ اور سرجری کے امکانات پر کام ہوا۔

ایمس کے مطابق جانچ مکمل ہونے کے بعد 2017 میں دل کی بناوٹ اور بیماری کی پیچیدگی کو دیکھتے ہوئے یہ طے ہوا کہ تنوی کی سرجری ممکن نہیں ہے۔ اہل خانہ کو مشورہ دیا گیا کہ وہ تنوی کی باقاعدہ جانچ کروائیں اور دوا سے علاج جاری رکھیں۔ اس کے بعد تنوی باقاعدہ چیک اپ کے لیے ایمس کے رابطے میں رہی۔ اس کے بعد رواں سال 24 اگست کو تنوی کو ہارٹ-لنگ ٹرانسپلانٹ کے امکان کی جانچ کے لیے داخل کیا گیا تھا۔ تنوی کے اہل خانہ نے سرجری کے امکان کے حوالے سے دیگر رائے بھی لی۔ گزشتہ سال اہل خانہ نے کارڈیوتھوراسک اینڈ ویسکولر سرجری (سی ٹی وی ایس) کے شعبہ کے سربراہ سے رائے لی تھی۔ سی ٹی وی ایس نے بھی نے دوا سے علاج کا مشورہ دیا تھا۔ اس کے بعد تنوی کے اہل خانہ نے ایک اور سینئر کارڈیوتھوراسک سرجن سے رائے لی تھی تب انہوں نے بھی دوا سے علاج جاری رکھنے کا مشورہ دیا تھا۔

ایمس نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ تنوی کی حالت بگڑنے پر اسے اگست 2026 میں ایمس لایا گیا۔ 24 اگست کو بھرتی کر اس کی مکمل جانچ کی گئی، جس میں اس کی بیماری کی سنگین صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہارٹ-لنگ ٹرانسپلانٹیشن کا امکان کتنا ہے اس کی بھی جانچ کی گئی۔ اس کے بعد یکم ستمبر کو تنوی کی موت ہو گئی۔ ایمس نے اپنے بیان میں مریض کی حفاظت، شفافیت، ثبوتوں پر مبنی کلینکیل فیصلے لینے اور جوابدہی کے تئیں اپنے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ پوسٹ مارٹم کے بعد جو بھی تحقیقات میں سامنے آئے گی اس کے مطابق قدم اٹھایا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔