
آئی اے این ایس
کھٹمنڈو: ہندوستان میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے پر ہونے والے حالیہ طلبہ احتجاج کی گونج ابھی تھمی بھی نہیں تھی کہ پڑوسی ملک نیپال میں بھی اسی نوعیت کا بحران سامنے آ گیا۔ تریبھون یونیورسٹی کے ماسٹر آف بزنس اسٹڈیز (ایم بی ایس) کے پہلے سمسٹر کا سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے بعد نوجوان بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں، جس سے وزیر اعظم بالین شاہ کی حکومت ایک نئے سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔
یہ مارچ 2026 میں بالین شاہ کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد دوسرا بڑا موقع ہے جب جین زی (Gen-Z) نسل نے حکومت کے خلاف احتجاج کا راستہ اختیار کیا ہے۔ اس سے قبل 2025 میں نوجوانوں کی وسیع احتجاجی تحریک نے نیپال کی سیاست میں ہلچل مچا دی تھی اور حکومت کی تبدیلی کی راہ ہموار ہوئی تھی۔ اسی وجہ سے موجودہ احتجاج کو محض ایک امتحانی بے ضابطگی نہیں بلکہ نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے عدم اطمینان کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
نیپال پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ ایم بی ایس کے پہلے سمسٹر کے سوالیہ پرچے کے لیک ہونے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار ملزم کی شناخت سندیپ سنگھ کے نام سے ہوئی ہے، جو طلبہ میں ’سُلب سر‘ کے نام سے معروف ہے۔
دی کھٹمنڈو پوسٹ کے مطابق 24 جولائی کو امتحان شروع ہونے کے صرف پانچ منٹ بعد سوالیہ پرچہ ایک واٹس ایپ گروپ میں شیئر کر دیا گیا۔ بعد میں اسی گروپ میں امتحانی سوالات کے ہاتھ سے لکھے گئے جوابات بھی گردش کرتے رہے، جس سے یونیورسٹی کے امتحانی نظام کی شفافیت اور سکیورٹی پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے دورانِ تفتیش دعویٰ کیا کہ اس نے صرف وہی سوالیہ پرچہ آگے بھیجا تھا جو پہلے ہی سوشل میڈیا اور دیگر واٹس ایپ گروپس میں گردش کر رہا تھا۔ تاہم اس کے خلاف امتحانی رازداری کی خلاف ورزی کے تحت مقدمہ درج کر کے تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کے مطابق اب تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ اسے اس عمل سے مالی فائدہ پہنچا ہو۔
یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب ایک طالب علم نے واٹس ایپ گروپ کی گفتگو کے اسکرین شاٹس سوشل میڈیا پر شیئر کیے۔ ان تصاویر میں امتحان کے دوران سوالات اور ان کے جوابات پر گفتگو دیکھی جا سکتی ہے۔ گروپ میں ایک ہزار سے زائد ارکان شامل تھے، جبکہ امتحان کے دوران درجنوں طلبہ سرگرم تھے۔
وزیر تعلیم سسمت پوکھریل نے کہا کہ اطلاع ملتے ہی وزارتِ تعلیم نے وزارتِ داخلہ اور پولیس کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا، جس کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ پرچہ یونیورسٹی کے کسی ملازم نے نہیں بلکہ ایک استاد نے لیک کیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بحران ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ہندوستان میں بھی پیپر لیک کے معاملے پر طلبہ کی تحریک اور اس کے سیاسی اثرات پر بحث جاری ہے۔ ایسے میں نیپال میں نوجوانوں کا سڑکوں پر آنا اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ پورے خطے میں امتحانی نظام کی شفافیت، احتساب اور نوجوانوں کے اعتماد کا مسئلہ حکومتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ بالین شاہ حکومت نے سخت کارروائی اور شفاف تحقیقات کا یقین دلایا ہے، تاہم آنے والے دنوں میں یہ معاملہ نیپال کی سیاست کا اہم موضوع بن سکتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔