رام مندر، تصویر سوشل میڈیا
آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے شعبۂ اقلیتی امور کے میڈیا انچارج اور تلنگانہ کے انچارج عدنان اشرف نے رام مندر میں مبینہ چندہ چوری کے معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی نگرانی میں آزادانہ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شری رام مندر صرف اینٹوں اور پتھروں کی عمارت نہیں بلکہ کروڑوں عقیدت مندوں کی آستھا اور عقیدت کی علامت ہے، اس لیے اگر مندر میں عطیات یا چڑھاوے کے حوالے سے کسی قسم کی بے ضابطگی یا چوری کے الزامات سامنے آئے ہیں تو اس کی مکمل اور شفاف جانچ ہونی چاہیے۔
عدنان اشرف نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ اس معاملے میں عوام کو جواب دیا جانا چاہیے، کیونکہ ملک بھر کے لاکھوں افراد نے اپنی محنت کی کمائی، زیورات اور دیگر قیمتی اشیا رام مندر کی تعمیر کے لیے عطیہ کی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام کے اعتماد سے جمع ہونے والے عطیات کے استعمال پر سوالات اٹھ رہے ہیں تو ذمہ دار افراد کا تعین کرنا اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینا ضروری ہے۔
انہوں نے مرکزی حکومت اور بی جے پی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور اسے نظر انداز کرنے یا سیاسی رنگ دینے کے بجائے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔ عدنان اشرف نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں غیر جانبدارانہ عدالتی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ تمام حقائق سامنے آسکیں اور عوام کا اعتماد بحال ہو۔
کانگریس رہنما نے اداکار انوپم کھیر کے حالیہ بیان پر بھی اعتراض کیا۔ انوپم کھیر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر کسی گھر میں چوری ہو جائے تو الزام چور پر لگایا جاتا ہے، گھر پر نہیں، اسی طرح اگر مندر میں چڑھاوے کی چوری ہوئی ہے تو پورے مندر کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ مندر میں دیا جانے والا چندہ کسی رشوت کے طور پر نہیں دیا جاتا۔
عدنان اشرف نے انوپم کھیر کے ان بیانات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوام حقیقت سے واقف ہے اور ایسے بیانات سے لوگوں کو گمراہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ایک معروف فلمی شخصیت کی جانب سے اس نوعیت کا مؤقف اختیار کرنا افسوسناک ہے، کیونکہ اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اصل معاملے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ غریب عوام، کسانوں، مزدوروں، خواتین اور دیگر عقیدت مندوں نے اپنی استطاعت کے مطابق رام مندر کی تعمیر کے لیے عطیات دیے تھے، اس لیے ان عطیات کے تحفظ اور استعمال کے بارے میں مکمل شفافیت ہونی چاہیے۔ عدنان اشرف نے زور دے کر کہا کہ اگر تحقیقات میں کسی بھی فرد کی ذمہ داری ثابت ہوتی ہے تو اس کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے تاکہ عوام کے اعتماد اور مذہبی جذبات کا احترام برقرار رہ سکے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔