
Thakur Prem Singh
دہلی میں فضائی آلودگی کا اثر اب بچوں کی صحت پر بھی واضح طور پر نظر آنے لگا ہے۔ 6 نومبر کو سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سی جے آئی سوریہ کانت کی سربراہی والی سہ رکنی بنچ نے کہا کہ پٹاخوں سے ہونے والی آلودگی کو روکنا صرف عدالت کے احکامات اور پولیس کی تعیناتی سے ممکن نہیں ہے۔ اس کے لیے لوگوں کی شراکت داری ضروری ہے۔ عدالت نے حکومت اور مقامی اداروں سے کونسلروں کے ذریعہ لوگوں میں بیداری لانے کی اپیل کی۔
مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کی 2012 کی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا تھا کہ دہلی کے 43.5 فیصد اسکول جانے والے بچوں کے پھیپھڑوں کی صلاحیت معمول سے کم پائی گئی تھی۔ اس کے مقابلے میں دہلی سے باہر کے بچوں میں یہ شرح 25.7 فیصد تھی۔ اس تحقیق کا نام ’اسٹڈی آن ایمبیئنٹ ایئر کوالٹی، ریسپائریٹری سمپٹمز اینڈ لنگ فنکشن آف چلڈرن اِن دہلی‘ ہے۔ اس میں 9 سے 17 سال کی عمر کے بچوں کے پھیپھڑوں کی جانچ کی گئی تھی۔ دہلی کے 5671 بچوں اور دیگر علاقوں کے 2245 بچوں نے اس تحقیق میں حصہ لیا تھا۔
دہلی میں 20.3 فیصد بچوں کے پھیپھڑوں میں ہوا لینے کی صلاحیت سے متعلق مسئلہ، 13.6 فیصد میں سانس کی نالیوں سے متعلق خرابی اور 9.6 فیصد بچوں میں دونوں طرح کی دشواریاں پائی گئیں۔ دہلی میں 51 فیصد لڑکیوں اور 39.8 فیصد لڑکوں کے پھیپھڑوں کی صلاحیت کم پائی گئی۔ سنگین مسائل سے دوچار بچوں کی شرح دہلی میں 7.3 فیصد تھی، جبکہ دیگر علاقوں میں یہ 2.2 فیصد تھی۔ تحقیق کے مطابق دہلی میں مانسون کے دوران پھیپھڑوں کی صلاحیت میں کمی والے بچوں کی شرح 39.9 فیصد تھی، جبکہ سردیوں اور گرمیوں میں یہ بڑھ کر 52.7 فیصد ہو گئی تھی۔
دہلی-این سی آر میں پٹاخوں پر پابندی لگانے کے لیے کئی بار احکامات جاری کیے جا چکے ہیں۔ 2018 میں سپریم کورٹ نے روایتی پٹاخوں کی فروخت پر پابندی عائد کرتے ہوئے گرین پٹاخوں کے استعمال کی اجازت دی تھی۔ اس کے باوجود پابندی پر عمل درآمد کرانا انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ 2 نومبر 2026 کو سپریم کورٹ نے کہا کہ 2024 میں دہلی-این سی آر میں پٹاخوں پر مکمل پابندی عائد کیے جانے کے باوجود ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) میں کوئی خاص بہتری نہیں دیکھی گئی۔
پٹاخوں سے ہونے والی آلودگی کم کرنے کے لیے سی ایس آئی آر-نیری نے گرین پٹاخے تیار کیے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ گرین پٹاخے مکمل طور پر محفوظ یا آلودگی سے پاک ہیں۔ ان سے بھی ہوا میں آلودہ مادے خارج ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کا استعمال بھی مقررہ ضوابط اور اوقات کے مطابق ہی ہونا چاہیے۔ پٹاخوں پر پابندی کے نفاذ میں سب سے بڑی مشکل بازاروں میں ہونے والی بے ضابطگیاں ہیں۔ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سینئر وکیل اور اس معاملے میں عدالت کی معاون امیکس کیوری اپراجیتا سنگھ نے بتایا کہ بعض دکاندار دکانوں کے باہر گرین پٹاخوں کے ڈبے رکھتے ہیں، لیکن اندر خفیہ طور پر عام پٹاخے فروخت کرتے ہیں۔
دہلی میں آلودگی کا مسئلہ پورے سال برقرار رہتا ہے، البتہ سردیوں میں اس کے اثرات زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ صرف پٹاخے نہیں ہیں، بلکہ گاڑیوں کا دھواں، کارخانوں سے نکلنے والا دھواں، تعمیراتی کاموں کے سبب اڑنے والی دھول، کچرا جلانا اور پرالی کا دھواں بھی اس کے اہم اسباب ہیں۔ فروری 2026 میں کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ (سی اے کیو ایم) نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر تیار کی گئی ماہرین کی رپورٹ پر تبادلۂ خیال کیا تھا۔ اس رپورٹ میں 2015 سے 2025 تک آلودگی سے متعلق مطالعات کا تجزیہ کیا گیا تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گرمیوں میں دھول آلودگی کی سب سے بڑی وجہ بن جاتی ہے۔ اس دوران آلودگی میں دھول کا حصہ 27 فیصد، گاڑیوں کا 19 فیصد اور سیکنڈری پارٹیکلز کا 17 فیصد تھا۔ سیکنڈری پارٹیکلز ایسے باریک ذرات ہوتے ہیں، جو گاڑیوں، کارخانوں اور دیگر ذرائع سے خارج ہونے والی گیسوں میں ہوا کے اندر کیمیائی تبدیلیوں کے نتیجے میں بنتے ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ دہلی میں آلودگی پر قابو پانے کے لیے پٹاخوں پر کنٹرول کے ساتھ گاڑیوں، صنعتوں، تعمیراتی کاموں اور کچرا جلانے کے خلاف بھی کارروائی کرنی ہوگی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔