قومی خبریں

ابھیشیک بنرجی کی اوم برلا سے ملاقات، ٹی ایم سی کے باغی ارکان پارلیمان کو نااہل قرار دینے کا مطالبہ

ابھیشیک بنرجی نے اوم برلا سے ملاقات کر کے پارٹی کے 20 باغی ارکان پارلیمان کو نااہل قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے اور باغیوں کو مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے

<div class="paragraphs"><p>تصویر ویڈیو گریب</p></div>

تصویر ویڈیو گریب

 

ترنمول کانگریس کے جنرل سکریٹری اور پارٹی کے لوک سبھا لیڈر ابھیشیک بنرجی نے جمعہ کو لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کرکے پارٹی کے 20 باغی ارکان پارلیمان کو نااہل قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس سلسلے میں الگ الگ 20 عرضیاں اسپیکر کو پیش کرتے ہوئے آئین کی دسویں جدول اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں کارروائی کی اپیل کی۔

ابھیشیک بنرجی نے ملاقات کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئین کی دسویں جدول میں واضح طور پر درج ہے کہ کسی پارلیمانی یا اسمبلی گروپ کی دو تہائی تعداد کی بنیاد پر دوسری جماعت میں انضمام نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کے لیے پوری سیاسی جماعت کے دو تہائی حصے کا انضمام ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ 20 ارکان پارلیمان نے پہلے خود کو ایک علیحدہ گروپ کے طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا اور بعد میں انہوں نے نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی آف انڈیا میں شامل ہونے اور قومی جمہوری اتحاد کا حصہ بننے کا دعویٰ کیا۔ بنرجی کے مطابق یہ ایسی جماعت ہے جس کا نام ان ارکان نے بھی پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔

ترنمول کانگریس کے رہنما نے کہا کہ اگر کوئی رکن رضاکارانہ طور پر اپنی جماعت کی رکنیت چھوڑ دیتا ہے تو آئین کے تحت وہ نااہلی کا مستحق ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص کسی جماعت کے انتخابی نشان پر کامیاب ہو کر چند برس بعد دوسری جماعت میں شامل ہونے کا اعلان کرتا ہے تو اس کی پارلیمانی رکنیت برقرار نہیں رہنی چاہیے۔

ابھیشیک بنرجی نے بتایا کہ اسپیکر اوم برلا نے انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ دوسرے فریق کا موقف سننے کے بعد دوبارہ انہیں طلب کریں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ لوک سبھا اسپیکر آئین کے مطابق فیصلہ کریں گے اور آئینی اقدار کو مجروح نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے باغی ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں ترنمول کانگریس سے اختلاف ہے تو انہیں اپنی رکنیت سے استعفیٰ دے کر بھارتیہ جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر عوام کے درمیان جانا چاہیے اور دوبارہ انتخاب لڑنا چاہیے۔

واضح رہے کہ باغی ارکان پارلیمان نے نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی آف انڈیا میں شمولیت کے بعد خود کو الگ پارلیمانی گروپ کے طور پر تسلیم کیے جانے کی درخواست کی ہے۔ اس سے قبل بھی ابھیشیک بنرجی نے اسپیکر کو خط لکھ کر کہا تھا کہ ترنمول کانگریس کے اندر کسی علیحدہ دھڑے کو کوئی سرکاری حیثیت یا سہولت نہ دی جائے کیونکہ آئین اور انسدادِ انحراف قانون کسی سیاسی جماعت کے اندر الگ گروپ بنانے کی اجازت نہیں دیتے۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined