قومی خبریں

’ایک ایسا طوفان آ رہا ہے، جو آج تک ہندوستان نے نہیں دیکھا‘، رائے بریلی میں راہل گاندھی کا خطاب

راہل گاندھی نے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’جب تک آپ یہ حکومت نہیں بدلیں گے، تب تک مہنگائی بڑھتی جائے گی، منریگا جیسے منصوبے ختم ہوتے جائیں گے، اڈانی-امبانی جیسے لوگ امیر ہوتے جائیں گے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>رائے بریلی میں پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia</p></div>

رائے بریلی میں پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia

 

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی آج بریلی میں پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے نظر آئے، جس میں پی ایم مودی کی عوام مخالف پالیسیوں کے ساتھ ساتھ ان کی کارگزاریوں کو بھی ہدف تنقید بنایا۔ انھوں نے آج رائے بریلی میں میڈیا اہلکاروں سے بات کرتے ہوئے ہندوستان میں معاشی طوفان آنے کا دعویٰ کیا تھا، یہ دعویٰ انھوں نے پارٹی کارکنان سے خطاب کے دوران بھی دہرایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ملک میں زبردست معاشی طوفان آنے والا ہے، جس میں سب سے زیادہ چوٹ ہندوستان کے مزدوروں، کسانوں اور چھوٹے تجاروں کو لگے گی۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’میں پہلے سے کہہ رہا ہوں کہ معاشی طوفان کی تیاری کیجیے، لوگوں کی حفاظت کیجیے، لیکن اس سے نریندر مودی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نریندر مودی صرف بیرون ممالک گھوم رہے ہیں۔‘‘

Published: undefined

راہل گاندھی نے پی ایم مودی پر اڈانی اور امبانی کو فائدہ پہنچانے کا سنگین الزام بھی عائد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم نریندر مودی سے روزانہ کہہ رہے ہیں ملک کے سکانوں، مزدوروں، چھوٹے تاجروں کی حفاظت کرنا شروع کیجیے۔ کیونکہ اگر حکومت ایسا نہیں کرے گی تو ملک کا زبردست نقصان ہوگا۔ لیکن نریندر مودی ناروے چلے جاتے ہیں اور کہتے ہیں اڈانی-امبانی کی مدد کرو۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’ایک طرف اڈانی اور امبانی سوشل میڈیا پر نریندر مودی کی مارکیٹنگ کرتے ہیں، دوسری طرف نریندر مودی ملک کے نوجوانوں کو ’ریل‘ دیکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔‘‘ ملک کے موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’ملک کی عوام کو بیدار ہونا پڑے گا، کیونکہ ملک کو آپ لوگ ہی بدل سکتے ہیں۔ جب تک آپ یہ حکومت نہیں بدلیں گے، تب تک مہنگائی بڑھتی جائے گی، منریگا جیسے منصوبے ختم ہوتے جائیں گے، اڈانی-امبانی جیسے لوگ امیر ہوتے جائیں گے، آپ کا پیسہ ان کی جیب میں جاتا رہے گا۔‘‘

Published: undefined

کانگریس رکن پارلیمنٹ نے پارٹی کارکنان کے سامنے میڈیا اداروں کی خستہ حالی کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ملک کی میڈیا پر اڈانی-امبانی کا مکمل کنٹرول ہے۔ وہ کبھی امبانی کی شادی دکھاتا ہے تو کبھی کرکٹ کی بات کرتا ہے۔ جب میں ان سے کہتا ہوں کہ کبھی ملک کے کسانوں اور مزدوروں کی بات بھی کر لو، تو وہ مسکرا کر کہتے ہیں– راہل جی، ہم آپ کی بات سمجھتے ہیں، لیکن ہمیں بھی فیملی چلانے کے لیے تنخواہ کی ضرورت ہے۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’ملک کے کسانوں، مزدوروں اور چھوٹے کاروباریوں کی جو بھی بچت تھی، وہ نریندر مودی نے نوٹ بندی اور غلط جی ایس ٹی لگا کر چھین لی اور امبانی-اڈانی کو سونپ دی۔ یہ سب گزشتہ 10 سالوں میں ہوا ہے۔ آج ملک میں جو بھی دولت ہے، وہ صرف 2 لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔ ملک کے بندرگاہ، ایئرپورٹ، پاور سیکٹر اور ڈیفنس سیکٹر سمیت سب کچھ نریندر مودی نے اپنے دوستوں کو تھما دیا ہے۔‘‘

Published: undefined

موجودہ وقت میں عوامی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے راہل گاندھی کہتے ہیں کہ ’’لوگوں کو کھانے کے لیے نہیں مل رہا، نوجوانوں کے پاس روزگار نہیں ہے، لوگوں کو رسوئی گیس نہیں مل رہی۔ ملک کی ایسی خراب حالت ہے اور وزیر اعظم الٹی سیدھی باتیں کرتے ہیں۔ وہ ملک کے غریبوں سے کہتے ہیں کہ الیکٹرک گاڑی خریدو، سونا مت خریدو، بیرون ملک گھومنے مت جاؤ۔ نہ جانے نریندر مودی کس دنیا میں رہتے ہیں۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’نریندر مودی نے گزشتہ 10 سالوں میں صرف نفرت پھیلانے کی سیاست کی ہے۔ آپ کی توجہ بھٹکا کر انھوں نے کسانوں، مزدوروں، چھوٹے کاروباریوں کا پیسہ چھینا اور اڈانی-امبانی کو پکڑا دیا۔‘‘

Published: undefined

پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا حوالہ دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’جب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو سبھی چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں، کیونکہ اسی سے مال آپ کے گھروں تک پہنچتا ہے۔ میں نریندر مودی سے روزانہ کہہ رہا ہوں کہ مدد کیجیے، کسانوں، مزدوروں، چھوٹے کاروباریوں کی حفاظت کیجیے، لیکن وہ لوگوں کی مدد نہیں کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ وہ پارٹی کارکنان سے یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’بی جے پی کارکنان اگر آپ کے سامنے آئیں تو آپ ان سے کہیے کہ نریندر مودی نے ملک کو فروخت کر دیا ہے۔ نریندر مودی نے امریکہ سے تجارتی معاہدہ کیا، ملک کا سارا ڈاٹا فروخت کر دیا، انرجی سیکورٹی بھی فروخت کر دی، امریکہ کے لیے ملک کا زرعی سیکٹر کھول دیا، ہر سال امریکہ سے 9.5 لاکھ کروڑ روپے کا مال خریدنے کا وعدہ کیا... یہ سب نریندر مودی نے اس لیے کیا تاکہ وہ خود کو ایپسٹین کیس اور اڈانی کیس سے بچا سکیں۔ جس دن آپ یہ بات بی جے پی کارکنان سے کہہ دیں گے، وہ بول نہیں پائے گا، بالکل خاموش ہو جائے گا۔‘‘

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined