قومی خبریں

لوک سبھا میں پیر کو پیش کی جائے گی اسپیکر اوم برلا کو ہٹانے کی تحریک، حکمراں جماعت اور اپوزیشن نے جاری کیا وِہپ

لوک سبھا کی تاریخ میں اسپیکر کے خلاف ایسی تحریک پہلے بھی لائی گئی ہیں۔ جی وی ماولنکر، حکم سنگھ اور بلرام جاکھڑ کو بی عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>لوک سبھا اسپیکر اوم برلا / آئی اے این ایس</p></div>

لوک سبھا اسپیکر اوم برلا / آئی اے این ایس

 

پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے ساتھ ہی لوک سبھا میں بڑا سیاسی ٹکراؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ پیر (7 مارچ) کو لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو عہدہ سے ہٹانے کی تحریک ایوان میں پیش کی جائے گی۔ اس تحریک کے پیش نظر حکمراں جماعت اور اپوزیشن دونوں نے اپنے اراکین پارلیمنٹ کو ایوان میں موجود رہنے کے لیے وِہپ جاری کیا ہے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ لوک سبھا کی کارروائی کی فہرست میں پیر کے روز اسپیکر کو ہٹانے سے متعلق اپوزیشن کی تحریک کو درج کیا گیا ہے۔ یہ نوٹس بجٹ سیشن کے پہلے مرحلے کے دوران اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے دیا گیا تھا۔ اس تحریک پر بحث کے دوران اوم برلا ایوان کی کارروائی کی صدارت نہیں کریں گے بلکہ اراکین پارلیمنٹ کے درمیان بیٹھیں گے۔ آئین کے التزامات کے مطابق جب لوک سبھا اسپیکر کے خلاف عہدہ سے برطرفی کی تحریک ایوان میں پیش کی جاتی ہے تب وہ ایوان کی صدارت نہیں کر سکتے۔ اس دوران وہ حکمراں جماعت کی اگلی صف میں بیٹھ سکتے ہیں اور انہیں تحریک کے خلاف اپنے دفاع کا بھی حق حاصل ہوتا ہے۔

Published: undefined

اپوزیشن نے اپنے نوٹس میں الزام عائد کیا ہے کہ صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن لیڈران کو بولنے کا مناسب موقع نہیں دیا گیا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اسپیکر نے کارروائی کے دوران کھلے عام امتیازی سلوک کا مظاہرہ کیا۔ رپورٹس کے مطابق تقریباً 118 اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے اوم برلا کو عہدہ سے ہٹانے کے لیے تحریک کا نوٹس دیا تھا۔ یہ نوٹس کانگریس رکن پارلیمنٹ اور پارٹی چیف وہپ کے سریش نے کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے سمیت کئی اپوزیشن لیڈران کی جانب سے لوک سبھا سکریٹریٹ کو سونپا۔ حالانکہ ٹی ایم سی کے اراکین پارلیمنٹ نے اس نوٹس پر دستخط نہیں کیے۔

Published: undefined

آئینی ماہر پی ڈی ٹی آچاریہ کے مطابق اسپیکر کو تحریک پر اپنی بات رکھنے اور ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ حالانکہ وہ ووٹنگ کے خودکار نظام کا استعمال نہیں کر پائیں گے اور انہیں اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے الگ سے پرچی داخل کرنی ہوگی۔ ہندوستانی آئین کے مطابق لوک سبھا اسپیکر کو ایوان میں سادہ اکثریت سے منظور شدہ تحریک کے ذریعہ عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے آئین کی دفعہ 94 اور 96 میں التزامات موجود ہیں۔ اکثریت کا حساب ایوان کی مؤثر رکن تعداد کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے، نہ کہ صرف موجود اور ووٹ دینے والے اراکین کی بنیاد پر۔

Published: undefined

قواعد کے مطابق اسپیکر کو ہٹانے کی تحریک لانے کے لیے کم از کم 2 اراکین پارلیمنٹ کے دستخط ضروری ہوتے ہیں، حالانکہ زیادہ اراکین بھی اس پر دستخط کر سکتے ہیں۔ نوٹس لوک سبھا کے جنرل سکریٹری کو دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس کی ابتدائی جانچ ہوتی ہے کہ اس میں واضح اور مخصوص الزامات موجود ہیں یا نہیں۔ جانچ مکمل ہونے کے بعد تحریک کو 14 روز بعد ایوان میں لایا جا سکتا ہے۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ لوک سبھا کی تاریخ میں اسپیکر کے خلاف ایسی تحریک پہلے بھی لائی گئی ہیں، لیکن اب تک کوئی تحریک پاس نہیں ہوئی۔ ماضی میں جی وی ماولنکر، حکم سنگھ اور بلرام جاکھڑ کو بی عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنا پڑا تھا، حالانکہ یہ تمام تحریکیں مسترد کر دی گئی تھیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined