قومی خبریں

جبل پور کشتی حادثہ میں 9 ہلاکتوں کی تصدیق، ماں کے سینے سے لپٹے 4 سال کے معصوم کو دیکھ آنکھیں بھر آئیں

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کروز پہلے ہی غیر مستحکم ہو چکا تھا، اس کے باوجود ڈرائیور نے اسے فوراً کنارے نہیں لگایا۔ اب انتظامیہ نے پورے معاملے کی جانچ کے احکامات دے دیے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>ڈوبتی ہوئی کشتی، ویڈیو گریب</p></div>

ڈوبتی ہوئی کشتی، ویڈیو گریب

 

مدھیہ پردیش کے جبل پور واقع برگی ڈیم میں پیش آیا کشتی حادثہ انتہائی دل دہلا دینے والا ثابت ہوا ہے۔ نرمدا ندی کے بیک واٹر میں تیز ہواؤں اور اونچی لہروں کے درمیان سیاحوں سے بھرا کروز اچانک ڈوب گیا۔ اس حادثہ میں اب تک 9 افراد کی لاشیں مل چکی ہیں، جبکہ 23 لوگوں کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے۔ کچھ لوگ اب بھی لاپتہ ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔ حالانکہ ان کے بچنے کی امید اب نہ کے برابر بتائی جا رہی ہے۔

Published: undefined

ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع رپورٹ کے مطابق دہلی کے رہنے والے پردیپ کمار اس حادثے میں کسی طرح بچ گئے، لیکن ان کی بیوی اور 4 سالہ بیٹا اب بھی لاپتہ ہیں۔ پردیپ نے حادثے کی ہولناک داستان سناتے ہوئے کروز انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کروز پر سیکورٹی انتظامات نہ کے برابر تھے۔ عملہ کے صرف 2 افراد موجود تھے، لیکن جب حالات بگڑے تو انہوں نے مسافروں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا۔

Published: undefined

پردیپ کے مطابق کسی کو وقت پر لائف جیکٹ تک نہیں دی گئی۔ سیاحوں نے خود ہی ایک دوسرے کو لائف جیکٹ پہنائی۔ انہوں نے بتایا کہ جب تیز لہریں اٹھنے لگیں تو کنارے پر موجود لوگوں نے بھی ڈرائیور سے کہا تھا کہ کروز کو کنارے لگا دے، لیکن ڈرائیور ابتدائی پوائنٹ پر واپس جانے پر اڑا رہا اور کچھ ہی دیر میں کروز پانی میں ڈوب گیا۔

Published: undefined

حادثے کے بعد برگی ڈیم کے اطراف چیخ و پکار مچ گئی۔ موقع پر موجود مقامی لوگوں اور بچاؤ ٹیم نے فوراً راحت و بچاؤ کا کام شروع کیا۔ اب تک 9 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔ تازہ معلومات کے مطابق غوطہ خوروں نے حادثہ کے تقریباً 12 گھنٹے بعد ایک خاتون کی لاش برآمد کی ہے۔ لاشوں کے ملنے کے ساتھ ہی اہل خانہ کی امیدیں ٹوٹتی جا رہی ہیں، جبکہ کئی خاندان اب بھی اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں۔

Published: undefined

حادثہ کے بعد مدھیہ پردیش حکومت نے فوری طور پر راحت اور بچاؤ کا کام شروع کرایا۔ کابینہ وزیر راکیش سنگھ اور وزیر دھرمیندر لودھی پوری رات جائے حادثہ پر موجود رہے اور ریسکیو آپریشن کی مسلسل نگرانی کرتے رہے۔ ماحول اس وقت جذباتی ہو گیا جب ایک ماں کی لاش نکالی گئی جس کے سینے سے 4 سال کا معصوم لپٹا ہوا تھا۔ یہ دیکھ کر کابینہ وزیر راکیش سنگھ کی بھی آنکھیں نم ہو گئیں۔ رات بھر ڈوبے ہوئے کروز کو باہر نکالنے کی کوشش کی گئی۔ لوہے کی تاروں کی مدد سے اسے کھینچا گیا، لیکن کامیابی نہیں ملی۔ اس کے بعد بھوپال اور آگرہ سے این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو طلب کیا گیا۔ این ڈی آر ایف کے ماہر غوطہ خور اب ڈوبے ہوئے کروز کے اندر لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ لاپتہ افراد کے زندہ بچنے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔

Published: undefined

ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ حادثے کے وقت نرمدا ندی کے بیک واٹر میں موسم اچانک خراب ہو گیا تھا۔ تیز ہوائیں چلنے لگیں اور پانی میں اونچی لہریں اٹھنے لگیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کروز پہلے ہی غیر مستحکم ہو چکا تھا، اس کے باوجود ڈرائیور نے اسے فوراً کنارے نہیں لگایا۔ اب انتظامیہ نے پورے معاملے کی جانچ کے احکامات دے دیے ہیں۔

Published: undefined

بتایا جا رہا ہے کہ یہ کروز 2006 سے برگی ڈیم میں چلایا جا رہا تھا۔ یہاں سیاحوں کے لیے 2 کروز، ایک ہاؤس بوٹ اور ایک منی کروز دستیاب ہیں۔ حادثہ والے کروز میں تقریباً 60 افراد کی صلاحیت تھی، جبکہ حادثہ کے وقت اس میں عملہ کے 2 اراکین اور 29 سیاح سوار تھے۔ حادثے کے وقت موقع پر موجود بہار کے مزدور کرن سنگھ اور اروند یادو نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ کرن نے بتایا کہ ’’جب ہم نے کروز کو ڈوبتے دیکھا تو اس کا نصف حصہ پانی میں سما چکا تھا۔ ہم تعمیراتی کام چھوڑ کر فوراً لائف جیکٹ اور ٹیوب لے کر دوڑے۔ ہم نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر تقریباً 12 سے 14 لوگوں کو باہر نکالا، جن میں 4 خواتین بھی شامل تھیں۔‘‘

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined