
آج آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کی ساتویں سالگرہ پر جموں و کشمیر پولیس نے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے۔ اس میں بغیر اجازت کسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہرہ یا جلوس پر روک لگا دی گئی ہے اور اصولوں کی خلاف ورزی کرنے پر سخت کارروائی کی تنبیہ دی گئی ہے۔ مختلف ضلعی پولیس ہیڈکوارٹرز کی جانب سے جاری کی گئی یہ ایڈوائزری محبوبہ مفتی کی قیادت والی پی ڈی پی کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کی اپیل کو دیکھتے ہوئے جاری کی گئی ہے۔
پولیس نے ایڈوائزری میں کہا ہے کہ ’’عام لوگوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ مجاز افسر سے قبل از وقت اجازت لیے بغیر کوئی احتجاجی مظاہرہ، ریلی، جلوس یا کسی بھی طرح کا عوامی اجتماع نہیں کیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ مقررہ قانونی دفعات کی خلاف ورزی کرنے والوں سے قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ امن، قانون و انتظام اور لوگوں کی حفاظت برقرار رکھنے کے لیے وسیع پیمانے پر سیکورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں سے تعاون کریں، امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھیں، افواہیں یا غیر مصدقہ معلومات نہ پھیلائیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن کو دیں۔
قابل ذکر ہے کہ آج ہی کے دن ٹھیک 7 سال پہلے، 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیر سے دفعہ 370 اور 35 اے کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ جموں و کشمیر اور لداخ کو الگ کرتے ہوئے دونوں کو مرکز کے زیر انتظام خطہ قرار دے دیا گیا تھا۔ بی جے پی سمیت دیگر پارٹیوں نے اسے بدلتے ہوئے ہندوستان کی تصویر اور ترقی یافتہ ہندوستان کی بنیاد قرار دیا تھا، جبکہ کانگریس، نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے اسے ان کے حقوق پر کاری ضرب ٹھہرایا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2019 سے مسلسل 5 اگست کو جشن منانے والی بی جے پی اس بار بھی بی جشن کی تیاری کر چکی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بی جے پی کارکنان پوری ریاست میں مٹھائیاں تقسیم کریں گے اور ریاست کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے فوائد بتائیں گے۔ دوسری طرف کانگریس، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی مسلسل ساتویں سال ’یوم سیاہ‘ منائیں گی۔ پوری ریاست میں مختلف پارٹیوں کے ضلعی دفاتر پر مظاہرے کر کے احتجاج درج کرایا جائے گا۔ وہ بتائیں گے کہ کس طرح کئی دہائیوں سے حاصل ان کے خصوصی اختیارات چھین لیے گئے اور انہیں بے بس کر دیا گیا۔ بی جی جے پی کے جشن اور اپوزیشن پارٹیوں کے احتجاجی مظاہرے کو پیش نظر رکھتے ہوئے پورے جموں و کشمیر میں سیکورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ سیکورٹی فورسز کی جانب سے جموں-سری نگر شاہراہ سمیت کئی مقامات پر گشت بھی کیا گیا ہے۔
نیشنل کانفرنس (این سی) جموں و کشمیر میں ریاست کا درجہ بحال کرنے کے مطالبہ کو لے کر پوری ریاست میں یوم سیاہ منائے گی۔ پارٹی مرکز کی حکومت پر ریاست کا درجہ بحال کرنے کے اپنے وعدے سے پیچھے ہٹنے کا الزام لگاتے ہوئے احتجاج کرے گی۔ این سی کے صوبائی صدر رتن لال گپتا نے کہا کہ بی جے پی مسلسل یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ کم کرنا ایک عارضی قدم تھا، لیکن اب تک اسے بحال نہ کرنا اس کے وعدوں کی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں بھی بدھ کو جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کے معاملے پر مظاہرہ ہوگا۔ اس مظاہرے میں اپوزیشن پارٹیاں شامل رہیں گی۔ مظاہرے سے متعلق اپوزیشن پارٹیوں نے رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) بدھ کو جموں و کشمیر کے تمام اضلاع میں مظاہرہ کرے گی۔ پارٹی صدر محبوبہ مفتی نے منگل کو سینئر لیڈران کے ساتھ میٹنگ کر کے مظاہرے کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ پارٹی کے اہم مطالبات دفعہ 370 کی بحالی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی ہیں۔ جنرل سکریٹری (آرگنائزیشن) جی این لون ہنجورہ کی جانب سے جاری نوٹس میں تمام عہدیداروں کو مظاہرے میں فعال طور پر شرکت کرنے اور صرف مجاز پوسٹرز کے استعمال کی ہدایات دی گئی ہیں۔ اسی سلسلے میں جموں کے گاندھی نگر واقع پارٹی دفتر پر بھی احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔ عہدیداروں کے ساتھ کارکنان یوم سیاہ منائیں گے۔
ریاست کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کی مخالفت اور مکمل ریاست کا درجہ دوبارہ بحال کرنے سمیت دیگر مطالبات کو لے کر کانگریس بھی پوری ریاست میں احتجاجی مظاہرے کرے گی۔ سری نگر اور جموں میں واقع ریاستی دفاتر پر ریاستی صدر طارق حمید کرہ اور کارگزار ریاستی صدر رمن بھلا مظاہرے کی قیادت کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی ریاست کے تمام 20 اضلاع میں پارٹی دفاتر پر ضلعی صدور اور دیگر عہدیدار یوم سیاہ منائیں گے۔ لوگوں کو بتایا جائے گا کہ کس طرح ان کے خصوصی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی۔ کئی برسوں سے حاصل ان کے خصوصی حقوق بی جے پی کی زیرِ قیادت مرکزی حکومت نے چھین لیے اور بار بار وعدہ کرنے کے باوجود مکمل ریاست کا درجہ بحال نہیں کر رہی ہے۔
جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کے 7 سال مکمل ہونے پر بی جے پی بدھ کو پوری ریاست میں مٹھائیاں تقسیم کر کے جشن منائے گی۔ تریکوٹا نگر میں واقع پارٹی ہیڈکوارٹر کو رنگ برنگی روشنیوں سے سجایا گیا ہے۔ ریاستی ترجمان ڈاکٹر طاہر چودھری نے بتایا کہ جموں میں پارٹی کے جنرل سکریٹریز کی قیادت میں دوپہر ڈھائی بجے پروگرام ہوگا، جبکہ جنرل سکریٹری (آرگنائزیشن) اشوک کول سری نگر میں منعقد ہونے والے پروگرام میں شرکت کریں گے۔ اس سے پہلے منگل کو بی جے پی ترجمان پورنیما شرما اور رجنی سیٹھی نے مشترکہ پریس کانفرنس میں دفعہ 370 ہٹائے جانے کو تاریخی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے جموں و کشمیر کو مساوات، انصاف اور ہندوستان کے ساتھ مکمل انضمام حاصل ہوا۔ انہوں نے اس فیصلے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی قیادت کی ستائش کی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔