
ڈاکٹر فاروق عبداللہ / آئی اے این ایس
جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ پر حال ہی میں ایک شادی کی تقریب کے دوران جان لیوا حملہ ہوا تھا، جس میں وہ بال بال بچ گئے تھے۔ اب جموں و کشمیر کی پولسی نے حملے کی تحقیقات کے لیے 7 رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔ اس کے متعلق افسران نے ہفتہ (14 مارچ) اطلاع دی تھی۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس بھیم سین ٹوٹی نے معاملے کی ’سنگینی اور حساسیت‘ کو مدنظر رکھتے ہوئے جموں، سانبہ اور کٹھوعہ رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل کی قیادت میں ایس آئی ٹی کی تشکیل کا حکم دیا ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ بدھ (11 مارچ) کی رات جب فاروق عبداللہ گریٹر کیلاش علاقے میں واقع ایک بینکویٹ ہال میں منعقدہ شادی کی تقریب سے نکل رہے تھے، تب ملزم نے مبینہ طور پر پیچھے سے ان پر بے حد قریب سے فائرنگ کرنے کی کوشش کی جس میں وہ بال بال بچ گئے۔ اس کے بعد ملزم کمل سنگھ (63) کو موقع پر ہی قابو کر گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے پاس سے جرم میں استعمال کی گئی ریوالور بھی برآمد کی گئی۔
Published: undefined
12 مارچ کو جاری کردہ اپنے حکم میں انسپکٹر جنرل آف پولیس نے کہا کہ ’’11 مارچ کو رات تقریباً 10 بجے جب سیکورٹی یافتہ شخصیت (فاروق عبداللہ) شادی کی تقریب سے نکل رہے تھے، تبھی ایک شخص نے ریوالور تان کر ان پر قریب سے گولی چلانے کی کوشش کی۔ حالانکہ ان کی سیکورٹی میں تعینات پولیس اہلکاروں کی فوری کارروائی کی وجہ سے یہ کوشش کامیاب نہیں ہو پائی۔ اس سلسلے میں جموں کے گنگیال پولیس تھانے میں ملزم پر بی این ایس کی دفعہ 109 اور دفعہ 25/3 کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔‘‘
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ پولیس نے ہفتے کی شام اس حکم نامے کی ایک کاپی جاری کی۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس بھیم سین ٹوٹی کی جانب سے تشکیل دی گئی اس ایس آئی ٹی میں سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سنجے شرما، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ہیڈ کوارٹر (جموں) ارشاد حسین راتھر، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اروند کمار سامبیال اور انسپکٹر سروپ سنگھ، پرمجیت سنگھ، سنجیو چِب اور شارق مجید شامل ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined