
وزیر اعظم نریندر مودی (ویڈیو گریپ)
ملک کے تقریباً 69 لاکھ پنشنرز اور فیملی پنشنرز ان دنوں ایک ایسے سوال کا جواب تلاش رہے ہیں جس کا براہ راست اثر ان کی جیب پر پڑ سکتا ہے۔ آٹھویں پے کمیشن کو لے کر ملازمین کے درمیان تو بات چیت ہو ہی رہی ہے لیکن یکم جنوری 2026 سے پہلے ریٹائر ہو چکے پنشنرز کی پنشن کا کیا ہوگا؟ اس کے متعلق تصویر ابھی صاف نہیں ہے۔ اسی تذبذب کے درمیان ریٹائرڈ ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن (آر ای ڈبلیو اے) نے وزیر اعظم مودی کو خط لکھ کر حکومت سے صورتحال صاف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
آر ای ڈبلیو اے نے مطالبہ کیا ہے کہ آٹھویں پے کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آر) میں فوری طور پر تبدیلی کی جائے۔ ایسوسی ایشن کا کا کہنا ہے کہ اس میں واضح طور پر لکھا جانا چاہیے کہ یکم جنوری 2026 سے قبل ریٹائر ہوئے پنشنرز اور فیملی پنشنرز بھی پنشن ریویژن کے دائرے میں آئیں گے۔ دراصل آٹھواں پے کمیشن ان دنوں مختلف ریاستوں میں ملازمین اور یونینوں کے ساتھ میٹنگ کر رہا ہے۔ 7 اور 8 ستمبر کو چنئی کے آئی ٹی سی گرینڈ چولا ہوٹل میں میٹنگ ہوئی اور 10 ستمبر کو پڈوچیری میں بھی پورے دن میٹنگ کا دور چلے گا۔ ان میٹنگوں میں تنخواہ، الاؤنسز اور پنشن سے متعلق معاملے پر بحث ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ پنشنرز کا تذبذب آٹھویں پے کمیشن کے نوٹیفکیشن کے ایک خاص حصے کو لے کر ہے۔ آر ای ڈبلیو اے کے مطابق نوٹیفکیشن کے پوائنٹ 2(ای) میں ڈیتھ کَم ریٹائرمنٹ گریچیوٹی (ڈی سی آر جی)، نیشنل پنشن سسٹم (این پی ایس)، یونیفائیڈ پنشن اسکیم (یو پی ایس) اور پنشن فریم ورک کے جائزے کی بات کہی گئی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس حصے میں ان امور کا ذکر ملازمین کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ یکم جنوری 2026 سے قبل ریٹائر ہوئے پنشنرز اور فیملی پنشنرز کا نام اس میں واضح طور پر نہیں لکھا گیا ہے۔ یہی بات پنشنرز کی تشویش بڑھا رہی ہے۔ انہیں ڈر ہے کہ اگر قوانین میں وضاحت نہیں ہوئی تو آٹھویں پے کمیشن کی سفارشات کا فائدہ موجودہ ملازمین تک ہی محدود نہ رہ جائے۔
آر ای ڈبلیو اے نے وزیر اعظم کو بھیجے گئے خط میں پہلے کے پے کمیشنوں کا بھی حوالہ دیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق ساتویں پے کمیشن کے ’ٹرمس آف ریفرنس‘ میں ریٹائرمنٹ سے منسلک فوائد اور پہلے سے ریٹائر پنشنرز کی پنشن میں تبدیلی کا واضح طور پر ذکر تھا۔ اسی طرح پانچویں اور چھٹے پے کمیشن کے ٹرمس آف ریفرنس میں پنشنرز اور فیملی پنشنرز لفظ صاف طور پر شامل کیے گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار قوانین میں نام واضح نہ ہونے کو لے کر سوال اٹھ رہے ہیں۔
آر ای ڈبلیو اے کا کہنا ہے کہ اس نے پہلے وزیر خزانہ اور سکریٹری خزانہ سے بھی اس معاملے پر صورتحال واضح کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اب تک حکومت کی جانب سے کوئی آفیشیل جواب نہیں ملا ہے، جس کی وجہ سے پنشنرز کے درمیان تذبذب بڑھتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا اور پنشنرز تنظیموں میں بھی اس بات کو لے کر بات چیت چل رہی ہے کہ آخر آٹھواں پے کمیشن پرانے پنشنرز کی پنشن میں تبدیلی کرے گا یا نہیں۔
قابل ذکر ہے کہ آر ای ڈبلیو اے نے وزیر اعظم مودی کے سامنے بنیادی طور پر 2 مطالبات رکھے ہیں۔ پہلا یہ کہ آٹھویں پے کمیشن کے ٹرمس آف ریفرنس میں باضابطہ طور پر تبدیلی کی جائے اور واضح طور پر لکھا جائے کہ یکم جنوری 2026 سے قبل ریٹائر ہوئے پنشنرز اور فیملی پنشنرز بھی اس کے دائرے میں ہوں گے۔ دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ جب تک ٹرمس آف ریفرنس میں تبدیلی نہیں ہوتی تب تک مرکزی حکومت ایک عبوری پریس نوٹ یا آفیشیل بیان جاری کرے۔ اس میں پنشنرز کے درمیان پھیلی غلط فہمی اور تناؤ کو دور کیا جا سکے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔