طلبا کی علامتی تصویر
ہندوستان میں تکنیکی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کی سمت میں ’آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن‘ (اے آئی سی ٹی ای) نے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے۔ کونسل نے تعلیمی سال 26-2025 کے دوران ملک بھر کے 58 انجینئرنگ اور تکنیکی کالجوں کو مرحلہ وار بند کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ ان اداروں کے خلاف کیا گیا ہے جو طلبا کے خاطر خواہ داخلہ حاصل کرنے میں ناکام رہے یا پھر اے آئی سی ٹی ای کے مقررہ تعلیمی اور بنیادی ڈھانچے کے معیار پر پورا نہیں اتر سکے۔ حالانکہ کونسل نے واضح کیا ہے کہ ان کالجوں میں پہلے سے زیر تعلیم طلبا و طالبات کی پڑھائی متاثر نہیں ہوگی اور وہ اپنا کورس اسی ادارے سے مکمل کر سکیں گے۔
Published: undefined
دی گئی جانکاری کے مطابق جن 58 انجینئرنگ اور ٹیکنیکل کالجوں کو بند کرنے کی منظوری دی گئی ہے، ان اداروں میں نئے طلبا کے داخلے بند رہیں گے، لیکن پہلے سے داخلہ لے چکے طلبا کی تعلیم جاری رہے گی۔ اے آئی سی ٹی ای نے کہا ہے کہ یہ کالج اس وقت تک کام کرتے رہیں گے جب تک موجودہ بیچ کے تمام طلبا اپنا کورس مکمل نہیں کر لیتے۔ اس انتظام کا مقصد طلبا کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے۔
Published: undefined
کونسل کے مطابق کئی اداروں میں مسلسل کم داخلے ہو رہے تھے۔ اس کے علاوہ اہل اساتذہ کی کمی، ضروری بنیادی سہولیات کا فقدان اور اے آئی سی ٹی ای کے تعلیمی و انتظامی معیارات پر عمل نہ کرنے جیسی خامیوں کے باعث یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ اسی عرصے کے دوران ملک بھر میں انجینئرنگ اور تکنیکی تعلیم سے متعلق 950 سے زائد کورس بھی بند کیے گئے ہیں۔
Published: undefined
ریاستوں کی بات کریں تو اتر پردیش اور مہاراشٹر میں سب سے زیادہ 12-12 کالجوں کو بند کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے بعد مدھیہ پردیش میں 8، تلنگانہ اور پنجاب میں 4-4 جبکہ آندھرا پردیش اور راجستھان میں 3-3 ادارے متاثر ہوئے ہیں۔ گجرات، کرناٹک، تمل ناڈو، ہریانہ، اڈیشہ، اتراکھنڈ اور مغربی بنگال میں 2-2 جبکہ پڈوچیری میں ایک کالج کو مرحلہ وار بند کیا جائے گا۔
Published: undefined
اے آئی سی ٹی ای نے واضح کیا ہے کہ مرحلہ وار کلوزنگ اور مکمل کلوزنگ 2 الگ الگ عمل ہیں۔ مرحلہ وار کلوزنگ کے تحت صرف نئے داخلے روکے جاتے ہیں، جبکہ پہلے سے زیر تعلیم طلبا کی پڑھائی جاری رہتی ہے۔ اس کے برعکس، مکمل کلوزنگ کی صورت میں ادارہ پوری طرح بند کر دیا جاتا ہے اور طلبا کو دوسرے کالجوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اس نظام کے ذریعہ کونسل ٹیکنیکل ایجوکیشن کا معیار برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ طلبا کے مفادات کا تحفظ بھی کرنا چاہتی ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined