
دہلی کی سڑکوں پر گاڑیاں / آئی اے این ایس
ہندوستان میں بڑی تعداد میں ایسی گاڑیاں سڑکوں پر چل رہی ہیں جن کا انشورنس نہیں کرایا گیا ہے۔ روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کی وزارت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں چل رہی تقریباً 44 فیصد گاڑیوں کے پاس کوئی انشورنس کور نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ تقریباً ہر 2 میں سے ایک چار پہیہ یا دو پہیہ گاڑی بغیر انشورنس کے سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں۔ یہ حقیقت پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار سے سامنے آئی ہے، جس نے سڑک کی حفاظت اور قوانین پر عمل کرنے کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
Published: undefined
یہ اعداد و شمار راجیہ سبھا میں اٹھائے گئے ایک سوال کے جواب میں سامنے آیا۔ راجیہ سبھا رکن کے آر سریش ریڈی نے بغیر انشورنس والی گاڑیوں سے ہونے والے حادثات اور متاثرین کو ملنے والے معاوضے کے متعلق سوال پوچھا تھا۔ اس کے جواب میں روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کے وزیر نتن گڈکری نے بتایا کہ یہ اعداد و شمار ’واہَن‘ ڈیٹا بیس پر مبنی ہیں۔ اس میں 6 مارچ 2026 تک ملک میں رجسٹرڈ اور فعال گاڑیوں کی معلومات شامل ہیں۔ ان اعداد و شمار میں گاڑیوں کی رجسٹریشن اور فٹنس کی صورت حال کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ موٹر وہیکل ایکٹ 1988 کے تحت عوامی مقامات پر چلنے والی ہر گاڑی کے لیے تھرڈ-پارٹی انشورنس کا ہونا لازمی ہے۔ قانون کی دفعہ 146 کے تحت یہ اصول نافذ کیا گیا ہے، جبکہ دفعہ 196 میں اس کی خلاف ورزی پر جرمانے اور سزا کے التزامات موجود ہیں۔ اس کے باوجود بڑی تعداد میں گاڑیوں کے مالکان اس قانون پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔ اس سے سڑک حادثات کے معاملات میں متاثرین کو معاوضہ ملنے میں بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
Published: undefined
اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کی وزارت نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو کئی بار مشورہ دیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ ریاستوں کو قوانین کو سختی سے نافذ کرنا چاہیے اور لوگوں کو انشورنس کی اہمیت سے متعلق آگاہ کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل ویریفیکیشن جیسی ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی زور دیا جا رہا ہے تاکہ بغیر انشورنس والی گاڑیوں کی شناخت آسانی سے ہو سکے۔
Published: undefined
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ بغیر انشورنس والی گاڑیوں سے ہونے والے حادثات کے متاثرین کے لیے امداد کے التزامات موجود ہیں۔ موٹر وہیکل ایکٹ کی دفعہ 164 اور 166 کے تحت متاثرین معاوضے کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ موٹر وہیکل ایکسیڈنٹ فنڈ کے ذریعے بھی ’ہِٹ اینڈ رن‘ اور بغیر انشورنس والے معاملات میں متاثرین کی مدد کی جاتی ہے، جس سے علاج اور معاوضہ فراہم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined