
علامتی تصویر
نوکری اور بہتر مستقبل کی تلاش میں ہر سال لاکھوں ہندوستانی سعودی عرب، یو اے ای، کویت، عمان، بحرین اور دیگر خلیجی ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ وہاں کام کر رہے ہندوستانی اپنے خاندانوں کو مالی مدد فراہم کرنے کے ساتھ ملک کی معیشت میں بھی نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ دوسری جانب پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے تازہ ترین اعداد و شمار نے ایک سنگین تصویر پیش کی ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق 2023 سے 2025 کے درمیان بیرون ملک میں بڑی تعداد میں ہندوستانی شہریوں کی موت ہوئی ہے۔ ان میں خودکشی کے معاملات کی تعداد تشویشناک ہے اور ایسے معاملات میں سب سے زیادہ حصہ خلیجی ممالک کا رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اس مدت کے دوران خلیجی ممالک میں خودکشی اور دیگر وجوہات کی وجہ سے مجموعی طور پر 4124 ہندوستانیوں کی موت ہوئی ہے۔ اسی طرح گزشتہ 3 سالوں میں بیرون ملک جان گنوانے والے ہندوستانیوں کی مجموعی تعداد 39 ہزار سے زائد رہی۔ فی الحال خلیجی ممالک میں تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی رہ رہے ہیں۔
وزیر مملکت برائے امور خارجہ کیرتی وردھن سنگھ نے پارلیمنٹ کے موجودہ اجلاس کے دوران لوک سبھا میں بتایا کہ 2023 سے 2025 کے درمیان بیرون ملک ہندوستانی شہریوں کی جانب سے خودکشی کے مجموعی طور پر 1900 سے زائد واقعات درج کیے گئے۔ ان میں سے 70 فیصد سے زیادہ معاملات خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک سے وابستہ ہیں۔ اس کے بعد ملیشیا میں 131 اور امریکہ میں 62 کیسز درج کیے گئے۔ اٹلی، کناڈا اور برطانیہ میں بھی اسی مدت کے دوران 30 سے زائد معاملات سامنے آئے۔ حالانکہ حکومت نے ان واقعات میں اضافے کی کوئی خاص وجہ نہیں بتائی ہے، لیکن ہندوستانیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا بھروسہ دلایا ہے۔
وزارت خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 3 سالوں میں خلیجی ممالک میں کل 1340 ہندوستانی شہریوں نے خودکشی کی۔ ان میں متحدہ عرب امارات میں 511، سعودی عرب میں 354، کویت میں 162، عمان میں 146، بحرین میں 101 اور قطر میں 66 واقعات درج کیے گئے۔ اسی مدت کے دوران، دیگر وجوہات کی بنا پر خلیجی ممالک میں 2784 ہندوستانیوں کی موت ہوئی۔ ان میں متحدہ عرب امارات میں 1092 اور سعودی عرب میں 1040 اموات درج کی گئیں۔ یہ اعداد و شمار وزیر مملکت برائے امور خارجہ کیرتی وردھن سنگھ نے کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ ستپال برہمچاری اور جے پرکاش کے سوال کے جواب میں لوک سبھا میں پیش کیے۔
حکومت کی جانب سے پہلے جاری کردہ اعداد و شمار کے موازنہ میں بیرون ملک رہنے والے ہندوستانیوں کی خودکشی کے واقعات میں اضافہ درج کیا گیا ہے۔ 2022 میں وزارت خارجہ نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ 2014 سے 2022 کے درمیان بیرون ملک ہندوستانی شہریوں کی خودکشی کے 4005 معاملات سامنے آئے تھے۔
حکومت نے بتایا کہ بیرون ملک کام کرنے والے ہندوستانی مزدوروں کے تحفظ کے لیے پرواسی بھارتیہ بیمہ یوجنا (پی بی بی وائی) نافذ ہے۔ یہ منصوبہ ای سی آر کیٹیگری کے تمام کارکنان کے لیے لازمی ہے۔ اس کے تحت حادثاتی موت یا مستقل معذوری کی صورت میں 10 لاکھ روپے تک کا انشورنس کور ملتا ہے۔ یہ سہولت 2 سال کے لیے 275 روپے اور 3 سال کے لیے 375 روپے کے پریمیم پر فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی دیگر فوائد دیے جاتے ہیں۔
حکومت نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ بیرون ملک ہندوستانی شہریوں کی موت کی وجوہات میں قدرتی موت، کام کی جگہ پر حادثات، خودکشی، جرائم اور دیگر وجوہات شامل ہیں۔ کام کی جگہ پر ہونے والے حادثات کے معاملات میں بھی خلیجی ممالک سب سے آگے رہے۔ سعودی عرب میں 182 اور متحدہ عرب امارات میں 128 ہندوستانیوں کی موت کام کی جگہ پر ہوئی۔ اس کے علاوہ امریکہ، کناڈا، سنگاپور اور مالدیپ میں بھی کام کی جگہوں پر پیش آنے والے حادثات میں کئی ہندوستانیوں کی جانیں گئیں۔
حکومت نے کہا کہ بیرون ملک مقیم اور وہاں کام کرنے والے ہندوستانی شہریوں کے تحفظ، انشورنس اور مدد کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مختلف ممالک کے ساتھ تال میل بڑھا کر ہندوستانی کارکنوں کے مفادات کے تحفظ اور ان کی سیکورٹی کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔