قومی خبریں

ہر 4 میں سے 3 خواتین نااہل! دہلی کی ’لکشمی یوجنا‘ میں 2500 روپے پانا کتنا مشکل؟ آئیے جانیں

وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے بتایا ہے کہ درخواست اور دستاویزات کی جانچ مکمل ہونے کے بعد رکشا بندھن، 28 اگست کو اہل خواتین کے بینک اکاؤنٹ میں 2500 روپے کی پہلی قسط براہ راست ٹرانسفر کر دی جائے گی۔

<div class="paragraphs"><p>دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا / آئی اے این ایس</p></div>

دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا / آئی اے این ایس

 

دہلی حکومت نے خواتین کو ہر ماہ 2500 دینے والی ’لکشمی یوجنا‘ کو منظوری دے دی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پہلی قسط رکشا بندھن کے موقع پر خواتین کے کھاتوں میں بھیجی جائے گی۔ اس منصوبہ کا اعلان جتنا آسان نظر آ رہا ہے اس کا فائدہ اٹھانا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ اس کے لیے کئی شرطیں رکھی گئی ہیں، جن میں آمدنی کی حد، سرکاری ملازمت، ٹیکس دیگر سرکاری منصوبوں کا فائدہ اور سب سے زیادہ زیر بحث 3 بچوں کی شرط شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں خواتین اب یہ جاننا چاہتی ہیں کہ آخر کون اس منصوبہ کا فائدہ لے سکے گا اور کون اس سے باہر ہو جائے گا۔

درج ذیل خواتین کو نہیں ملے گا ’لکشمی یوجنا‘ کا فائدہ:

  • تین سے زیادہ زندہ بچے ہونے پر منصوبہ کا فائدہ نہیں ملے گا۔

  • اگر خاندان کا کوئی بھی رکن سرکاری نوکری میں ہے تو خاتون اہل نہیں ہوں گی۔

  • جو خاتون انکم ٹیکس بھرتی ہیں، انہیں بھی منصوبہ کا فائدہ نہیں ملے گا۔

  • دوسری سرکاری پنشن یا باقاعدہ مالی امداد حاصل کرنے والی خواتین کو بھی اس سے باہر رکھا گیا ہے۔

  • دہلی کی مستقل رہائشی ہونا اور مقررہ آمدنی کی حد کے اندر ہونا لازمی ہوگا۔

’لکشمی یوجنا‘ میں سب سے زیادہ بحث اس قانون پر ہو رہی ہے، جس کے تحت 3 سے زیادہ زندہ بچوں والی خواتین کو منصوبہ کا فائدہ نہیں ملے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی کی تقریباً 15 فیصد خواتین محض اسی شرط کی وجہ سے منصوبہ سے باہر ہو سکتی ہیں۔ حکومت کی دلیل ہے کہ اس قسم کی شرط کئی سرکاری منصوبوں میں پہلے بھی لاگو رہی ہے اور اس کا مقصد منصوبوں کا فائدہ ضرورت مند خاندانوں تک محدود رکھنا ہے۔

اس منصوبہ کا فائدہ اٹھانے کے لیے خواتین کو کچھ ضروری شرطیں پوری کرنی ہوں گی۔ 21 سے 60 سال کی عمر کی خواتین ہی منصوبہ کے لیے اہل ہوں گی۔ ایک خاندان سے صرف ایک ہی خاتون کو اس منصوبہ کا فائدہ ملے گا اور اگر خاندان میں ایک سے زیادہ خواتین اہل ہیں، تو سب سے بڑی عمر والی خاتون کو ترجیح دی جائے گی۔ اس کے علاوہ اگر خاتون یا اس کے خاندان کے کسی رکن کے نام پر 4 پہیہ گاڑی ہے، تو وہ اس منصوبہ کا فائدہ نہیں اٹھا سکے گی۔ جن خواتین یا ان کے خاندان کے کسی رکن کے خلاف مجرمانہ مقدمہ درج ہے، انہیں بھی اس منصوبہ کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔ اس کا فائدہ صرف انہی خواتین کو ملے گا جو حکومت کی طے کردہ اہلیت کی شرائط کو پورا کرتی ہوں۔ اس کے لیے خاندان کی سالانہ آمدنی 2.5 لاکھ روپے سے کم ہونی چاہیے اور خاتون کم از کم 10 سال سے دہلی کی مستقل رہائشی ہو۔

دہلی حکومت کی ’لکشمی یوجنا‘ کے تحت اہل خواتین کو ہر ماہ 2500 روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔ اس منصوبہ کے لیے یکم اگست 2026 سے آن لائن درخواستوں کا عمل شروع ہوگا۔ حکومت اس کے لیے ایک آن لائن پورٹل لانچ کرے گی، جہاں خواتین درخواست دے سکیں گی۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے بتایا ہے کہ درخواست اور دستاویزات کی جانچ مکمل ہونے کے بعد رکشا بندھن، 28 اگست کو اہل خواتین کے بینک اکاؤنٹ میں 2500 روپے کی پہلی قسط براہ راست ٹرانسفر کر دی جائے گی۔ درخواست دیتے وقت آدھار کارڈ، انکم سرٹیفکیٹ، راشن کارڈ، بینک پاس بک اور پاسپورٹ سائز تصویر جیسے ضروری دستاویزات جمع کرنے ہوں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تمام درخواستوں کی جانچ کے بعد ہی اہل خواتین کے اکاؤنٹس میں رقم بھیجی جائے گی۔ دہلی حکومت کا کہنا ہے کہ ’لکشمی یوجنا‘ کا مقصد معاشی طور پر کمزور خواتین کو ہر ماہ مالی امداد فراہم کرنا ہے۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ انتخاب کے وقت ایسی کوئی شرط سامنے نہیں رکھی گئی تھی۔ ان کا الزام ہے کہ اب شرائط کا اضافہ کر کے مستفیدین کی تعداد کم کی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شرط سیاسی بحث کا مرکز بن گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق دہلی میں 73 لاکھ خواتین ووٹرس ہیں، حکومت کے حساب سے اس منصوبہ کا فائدہ صرف 17 لاکھ خواتین کو ہی ملے گا یعنی ہر 4 میں سے تقریباً ایک خاتون ہی اس منصوبہ کے اہل ہے۔

قابل ذکر ہے کہ دہلی حکومت نے ’مہیلا سمردھی یوجنا‘ کا نام بدل کر ’دہلی لکشمی یوجنا‘ کر دیا ہے۔ جس وقت اس منصوبے کی بات ہوئی تھی، اگر اس وقت کی شرطوں کی بات کریں تو منصوبہ کا فائدہ اٹھانے کے لیے خاتون کا کم از کم 10 سال سے دہلی کا رہائشی ہونا، خاندان کی سالانہ آمدنی 2.5 لاکھ روپے سے کم ہونا اور ایک خاندان سے صرف ایک ہی خاتون کا اہل ہونا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ درخواست گزار کے خلاف کوئی مجرمانہ مقدمہ درج نہیں ہونا چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔