قومی خبریں

ایس آئی آر معاملہ پر ڈی ایم کے اور عآپ سمیت 23 پارٹیوں نے چیف جسٹس آف انڈیا کو لکھا خط، ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ کا دعویٰ

اپوزیشن کی میٹنگ کے دوران تمام جماعتوں نے متفقہ طور پر 5 مسائل پر اتفاق کیا تھا۔ اس بارے میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا تھا کہ انڈیا الائنس کی میٹنگ ختم ہو گئی ہے۔ اس میں 25 جماعتوں نے حصہ لیا۔

 ڈیریک اوبرائن
ڈیریک اوبرائن 

انڈیا الائنس کی اتحادی جماعتوں نے ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) اور الیکشن سے متعلق دیگر مختلف مسائل کے حوالے سے چیف جسٹس آف انڈیا کو ایک مشترکہ خط ارسال کیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے منگل کو یہ اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ انڈیا الائنس کی میٹنگ 8 جون 2026 کو ہوئی تھی۔ اسی میٹنگ میں 21 پارٹیوں اور ایک آزاد ممبر نے حصہ لیا تھا۔ اس خط کے مندرجات کی تفصیلات شیئر نہیں کی گئی ہیں۔

Published: undefined

8 جون کو منعقدہ میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا تھا کہ چیف جسٹس کو مشترکہ طور پر خط لکھا جائے گا۔ اب اسی سلسلے میں منگل کو 23 جماعتوں اور ایک آزاد ممبر کے دستخط والا یہ خط بھیج دیا گیا ہے۔ جے رام رمیش نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں یقین کے اصول (یکجہتی، اتحاد اور لچک) پر مضبوطی سے قائم ہیں۔ اس دوران سب سے اہم بات جو سامنے آرہی ہے وہ یہ ہے کہ اس خط میں ڈی ایم کے اور عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے دستخط بھی ہیں۔ یہ دعویٰ ٹی ایم سی کے ایم پی ڈیرک اوبرائن نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس خط پر ڈی ایم کے اور اے اے پی کے دستخط ہیں۔

Published: undefined

واضح رہے کہ یہ معاملہ 8 جون کو اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگ کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔ اس میٹنگ میں تمام جماعتوں نے متفقہ طور پر 5 مسائل پر اتفاق کیا تھا۔ ایک پریس کانفرنس میں کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا تھا کہ انڈیا الائنس کی میٹنگ ختم ہو گئی ہے۔ اس میں 25 جماعتوں نے حصہ لیا۔ اس میٹنگ کے دوران سبھی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور آخر میں ہم 5 نکات پر پوری طرح متفق ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان مسائل پر لڑیں گے، کام کریں گے اور آگے بڑھیں گے۔

Published: undefined

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ملکارجن کھڑگے نے کہا تھا کہ اول، ہم نے چیف جسٹس آف انڈیا کو ای وی ایم، ووٹ چوری اور انتخابی دھاندلی کے حوالے سے خط لکھنے پر اتفاق کیا۔ یہ خط انہیں جلد ہی پیش کیا جائے گا۔ دوم، ہم نے متفقہ طور پر وزیر تعلیم کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ انہوں نے نیٹ اور سی بی ایس ای امتحانات میں شرکت کرنے والے لاکھوں طلباء کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined