قومی خبریں

دہلی فسادات: آٹو ڈرائیور کے قتل کیس میں 7 ملزمان بری، دفعہ 188 کے تحت قصوروار قرار

شمال مشرقی دہلی فسادات کے دوران آٹو ڈرائیور ببو کے قتل کے معاملے میں کڑکڑڈوما عدالت نے ثبوتوں کی کمی پر سات ملزمان کو قتل کے الزامات سے بری کر دیا، تاہم دفعہ 188 کے تحت قصوروار قرار دیا

<div class="paragraphs"><p>عدالتی فیصلہ / آئی اے این ایس</p></div>

عدالتی فیصلہ / آئی اے این ایس

 

نئی دہلی: شمال مشرقی دہلی میں 2020 کے فسادات کے دوران آٹو ڈرائیور ببو کے قتل کے معاملے میں کڑکڑڈوما عدالت نے جمعہ کو سات ملزمان کو ثبوتوں کی کمی کی بنیاد پر قتل کے الزامات سے بری کر دیا۔ تاہم، عدالت نے انہیں امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کے معاملے میں قصوروار قرار دیا ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج پروین سنگھ کی عدالت نے قتل کے الزامات سے بری کیے گئے ملزمان میں کلدیپ سنگھ، ہرجیت سنگھ عرف ہیپی، راہل عرف اجے، سچن رستوگی، بھرت بھوشن عرف لکی، سندیپ عرف سنجیو اور دھرمیندر شامل ہیں۔

عدالت نے کہا کہ دہلی پولیس یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ ان ساتوں ملزمان نے کھجوری چوک پر فسادات کے دوران ببو پر جان لیوا حملے میں حصہ لیا تھا۔ اس حملے میں زخمی ہونے والے ببو کی 27 فروری 2020 کو موت ہو گئی تھی۔

طویل قانونی کارروائی اور سماعت کے بعد عدالت نے ملزمان کو قتل کے الزامات سے بری کر دیا، لیکن امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کے معاملے میں تعزیراتِ ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 188 کے تحت انہیں قصوروار قرار دیا۔ اس دفعہ کا تعلق سرکاری ملازم کی جانب سے جاری کردہ قانونی حکم کی خلاف ورزی سے ہے۔

متوفی ببو کے بھائی کی شکایت پر درج ایف آئی آر کے مطابق، آٹو ڈرائیور ببو کہیں جا رہا تھا کہ کھجوری گول چکر کے قریب اس کی گاڑی رک گئی۔ اسی دوران اس پر حملہ کیا گیا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ 2020 کے فسادات کے دوران ببو کو چوٹیں آئیں، جس کے بعد اسے اسپتال لے جایا گیا۔ بعد میں اس کی حالت کے پیش نظر اسے گرو تیغ بہادر (جی ٹی بی) اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں 27 فروری 2020 کو اس کی موت ہو گئی۔

اس معاملے میں ملزمان کے خلاف تعزیراتِ ہند کے تحت فساد برپا کرنے، غیر قانونی اجتماع اور قتل سمیت مختلف الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ عدالت نے شواہد کا جائزہ لینے اور طویل سماعت کے بعد قتل کے الزامات ثابت نہ ہونے پر ساتوں ملزمان کو ان الزامات سے بری کر دیا، تاہم دفعہ 188 کے تحت انہیں قصوروار ٹھہرایا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔