ادبی

رمضان المبَارک: کیا کسی نے کبھی ایسا سوچا تھا؟... سہیل انجم

کورونا وائرس اور اس کے نتیجے میں نافذ لاک ڈاؤن نے اس ماہ کی عبادتوں اور اس کے معمولات کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ کیا کسی نے سوچا تھا کہ کبھی رمضان المبارک میں لوگ مسجدوں میں نہیں جائیں گے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

کورونا وائرس اور اس کی وجہ سے نافذ لاک ڈاون نے پوری دنیا کے معمولات تبدیل کر دیئے ہیں۔ ”کورونا پیریڈ“ سے قبل کی دنیا کچھ اور تھی آج کی کچھ اور ہے اور ”مابعد کورونا پیریڈ“ کچھ اور ہو جائے گی۔ معمولات زندگی میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ لوگوں کے غور و فکر کا زاویہ بھی بدل گیا ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ رابط کاری کا انداز بھی اب پہلے جیسا نہیں رہا۔ اب دوستوں کی محافل نہیں جمتیں، اب کوئی کسی سے مصافحہ نہیں کرتا، اب کوئی کسی سے بغل گیر نہیں ہوتا۔

Published: 19 Apr 2020, 6:11 PM IST

مہمان نوازی کی روایت تو بالکل اٹھ ہی گئی ہے۔ لاک ڈاون کی وجہ سے نہ کوئی کسی کے یہاں جا رہا ہے اور نہ ہی کوئی کسی کو اپنے یہاں مدعو کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ رشتے داروں کا رویہ بھی تبدیل ہو گیا ہے۔ اب کوئی کسی کو پہچانتا نہیں۔ یہ تو بالکل میدان حشر جیسی کیفیت ہوئی کہ جہاں نہ تو والدین اپنی اولاد کو پہچانیں گے او نہ ہی اولاد اپنے والدین کو۔ نہ ماں اپنے بچے کو نہ بچہ اپنی ماں کو۔ کوئی کسی کا پرسان حال نہیں ہوگا۔ آج کچھ اسی طرح کی صورت حال ہے کہ کوئی کسی کی پرسش کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اگر کوئی دوست کسی مصیبت میں ہے تو کوئی دوڑ کر اس کی اشک شوئی کرنے نہیں جاتا۔

Published: 19 Apr 2020, 6:11 PM IST

حد تو یہ ہے کہ عبادتوں کا طریقہ بھی بدل گیا ہے۔ حالانکہ عبادت ایک ایسی چیز رہی ہے کہ اس میں ذرہ برابر تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ لیکن آج حالات کے تقاضے نے عبادت کے طریقے میں بھی بنیادی تبدیلیاں کر دی ہیں۔ چونکہ انسانی جان کی قیمت سب سے زیادہ ہے اور جان جانے کا خطرہ ہو تو حرام شے بھی کم از کم اتنی کھانے کی گنجائش رکھی گئی ہے کہ جان بچ جائے۔ اسی جان کو بچانے کے لیے عبادت کے طریقے میں زبردست تبدیلی کی جا رہی ہے۔

Published: 19 Apr 2020, 6:11 PM IST

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ مسلمانان عالم کے لیے سب سے اہم مہینہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی ماہ مقدس میں اللہ کا کلام جسے ہم قرآن مجید کہتے ہیں، زمین پر اتارا گیا۔ اس ماہ کی عبادت دیگر تمام مہینوں کی عبادت سے افضل ہے۔ رمضان کا مہینہ ماہ صیام ہے۔ یعنی پورے مہینے روزے رکھے جاتے ہیں اور نماز تراویح کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس مہینے میں پوری دنیا کے مسلم معاشرے پر ایک عجیب و غریب روحانیت طاری ہو جاتی ہے۔ مسلمانوں کا کوئی معاشرہ ایسا نہیں بچتا جہاں لوگ روزوں، افطار پارٹیوں اور تراویح کا اہتمام نہ کرتے ہوں۔

Published: 19 Apr 2020, 6:11 PM IST

کورونا وائرس اور اس کے نتیجے میں نافذ لاک ڈاون نے اس ماہ کی عبادتوں اور اس کے معمولات کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ کیا کسی نے سوچا تھا کہ کبھی رمضان المبارک میں لوگ مسجدوں میں نہیں جائیں گے بلکہ گھروں میں نماز اور تراویح کا اہتمام کریں گے۔ کیا کسی نے سوچا تھا کہ مسجدوں میں زیادہ سے زیادہ حاضری کی تلقین کرنے والے اب سختی کے ساتھ یہ ہدایت جاری کریں گے کہ مسجدوں کا رخ نہ کریں۔

Published: 19 Apr 2020, 6:11 PM IST

کیا کسی نے سوچا تھا کہ رمضان المبارک میں نماز تراویح کے دوران قرآن مجید مکمل کرنے (پڑھنے یا سننے) سے بھی ایک بہت بڑی اکثریت محروم ہو جائے گی۔ کیا کسی نے سوچا تھا کہ اگر کہیں مسجدوں میں لوگ اکٹھا بھی ہوں گے تو بالکل نئے طریقے سے۔ یعنی مل مل کر صف بندی کرنے کے بجائے چار چار اور چھ چھ فٹ کے فاصلے پر کھڑے ہوں گے۔ کیا کسی نے سوچا تھا کہ نماز میں مل مل کر کھڑے ہونے کی تلقین کے بجائے دور دور کھڑے ہونے کی تلقین کی جائے گی۔

Published: 19 Apr 2020, 6:11 PM IST

ایسی بہت سی انہونی باتیں ہیں جو اس رمضان میں ہو رہی ہیں۔ ہندوستان میں تمام مسالک کے علمائے کرام و مفتیان عظام نے ایک اپیل جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ لاک ڈاون کے دوران مسجدوں کا رخ نہ کریں بلکہ اپنے اپنے گھروں میں نماز تراویح کا اہتمام کریں۔ پاس پڑوس کے گھروں سے لوگوں کو جمع کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔

Published: 19 Apr 2020, 6:11 PM IST

بازاروں میں جانے سے حتی الامکان بچیں اور خاص طور پر افطاری سے قبل خریداری کی بھیڑ سے گریز کریں۔ رمضان کی راتوں میں ادھر ادھر گھومنے سے سختی سے پرہیز کیا جائے۔ اعتکاف رمضان المبارک کی ایک خاص عبادت ہے۔ لوگ آخری عشرے میں دنیا جہان سے کٹ کر مسجدوں میں گوشۂ تنہائی میں رہتے ہیں اور اپنے رب کی زیادہ سے زیادہ عبادت کرتے ہیں۔ اس رمضان میں گھروں میں اعتکاف کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔

Published: 19 Apr 2020, 6:11 PM IST

ادھر بعض دوسرے ممالک میں جہاں رمضان میں مسجدوں میں جانے کی اجازت دی گئی ہے وہیں بہت سخت شرائط رکھی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان میں نماز تراویح کا اہتمام مسجدوں میں تو ہوگا لیکن سماجی فاصلے کے اصول کو قائم رکھنے کے ساتھ۔ لوگ دور دور کھڑے ہوں گے۔ دو مصلیوں کے درمیان دو مصلیوں کے کھڑے ہونے کی جگہ چھوڑنی ہوگی۔ اس سلسلے میں ایک چارٹ جاری کیا گیا ہے۔

Published: 19 Apr 2020, 6:11 PM IST

مسجدوں اور امام بارگاہوں میں قالین اور دریاں اٹھا دی جائیں گی تاکہ لوگوں کی سانس ان میں جذب ہو کر دوسروں کو متاثر نہ کرے۔ چٹائیاں بچھائی جا سکتی ہیں۔ فرش کی جراثیم کش ادویات سے اچھی طرح دھلائی کی جائے گی۔ پچاس سال سے اوپر اور دس سال سے کم کے لوگوں کو مسجدوں میں آنے پر پابندی ہوگی۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ گھروں سے وضو کرکے آئیں۔ مسجد میں نہ تو کسی سے مصافحہ کریں نہ معانقہ۔

Published: 19 Apr 2020, 6:11 PM IST

بعد نماز گروپ بنا کر نہ بیٹھیں بلکہ نماز ختم ہوتے ہی فوری طور پر اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو جائیں۔ مسجدوں کے باہر بھیڑ نہ لگائیں۔ اگر مسجد یا امام بارگاہ میں صحن بھی ہے تو اندر نماز کی ادائیگی کے بجائے صحن میں ادائیگی کی جائے۔ اس طرح بیس نکات پر مشتمل ایک قرارداد جاری کی گئی ہے جس میں رمضان المبارک میں مسجدوں میں نماز کی ادائیگی کے طریقے بتائے گئے ہیں۔

Published: 19 Apr 2020, 6:11 PM IST

بعض دوسرے ممالک میں تو رمضان کے پہلے سے ہی سماجی فاصلے کے ساتھ نمازیں قائم کی جا رہی ہیں۔ یعنی امام کے پیچھے چھ فٹ کے بعد ایک مصلی کھڑا ہوگا اور جتنے بھی مصلی ہوں گے سب چھ چھ فٹ کے فاصلے پر کھڑے ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا میں اس قسم کی تصاویر موجود ہیں۔

Published: 19 Apr 2020, 6:11 PM IST

کیا کسی نے کبھی سوچا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن ایسا ہو رہا ہے اور کورونا وائرس اور لاک ڈاون کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اللہ تعالی ہم تمام انسانوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور اس بحرانی دور میں ہمیں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین۔

Published: 19 Apr 2020, 6:11 PM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 19 Apr 2020, 6:11 PM IST