انٹرویو

سونیا گاندھی کی خودنوشت ’بیلانگنگ: اے جرنی آف لو‘، محبت کی کہانی سے ہندوستان سے گہری وابستگی تک کا سفر!

سونیا گاندھی کی طویل عرصے سے انتظار کی جانے والی کتاب ’بیلانگنگ‘ ایک ذاتی خودنوشت ہے، جس میں سیاست ایک پس منظر فراہم کرتی ہے یا ان کے بقول ’’ایک طرح کا خاکہ‘‘ پیش کرتی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>سونیا گاندھی اپنی کتاب دکھاتے ہوئے، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div>

سونیا گاندھی اپنی کتاب دکھاتے ہوئے، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia

 

اپنی جلد منظر عام پر آنے والی کتاب ’بیلانگنگ: اے جرنی آف لو‘ کے حوالے سے ’دی ہندو‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سونیا گاندھی نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے دور حکومت میں ’’ہمارے ملک، ہماری جمہوریت اور ہمارے اداروں کے ڈھانچے کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اس حکومت کے جانے کے بعد بھی ہمارے نظام کو دوبارہ صحت مند حالت میں لانے میں وقت لگے گا اور اس کے لیے سیاسی جماعتوں کو بہت کوششیں کرنی ہوں گی۔ لوگ اب بے چین ہونے لگے ہیں اور اس نقصان کو پہچان رہے ہیں۔ لیکن میں پُرامید ہوں اور مجھے یقین ہے کہ ہندوستان کے لوگ بہتر حکمرانی کی واپسی کا خیرمقدم کریں گے۔‘‘

جب سونیا گاندھی سے ہندوستان کی سب سے بااثر جماعت کے طور پر کانگریس کے زوال، بعض نقادوں کے اس اندرونی نقطۂ نظر کہ پارٹی اس زوال پذیری کے رجحان کو پلٹنے میں ناکام رہی ہے، اور اس کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات کے بارے میں پوچھا گیا، تو سابق کانگریس صدر نے جواب دیا کہ’’میں اتنی مایوس نہیں ہوں۔ اس بات پر غور کیجیے کہ جب سے یہ حکومت اقتدار میں آئی ہے، کانگریس پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو یکساں مواقع نہیں ملے ہیں۔ تمام اداروں، خاص طور پر الیکشن کمیشن پر ان کی مکمل گرفت، مین اسٹریم میڈیا پر ان کا کنٹرول، ان کی مالی طاقت اور مذہب کے استحصال کو بھی ذہن میں رکھیے۔ اس کے باوجود ہماری پارٹی جدوجہد کر رہی ہے اور آگے بڑھ رہی ہے۔ اس کے علاوہ، حالیہ مہینوں میں یہ بات پوری طرح ثابت ہو چکی ہے کہ کئی انتخابات میں دھاندلی کی گئی ہے اور اب لوگ اس کے بارے میں زیادہ آگاہ ہیں۔ کانگریس ہم خیال جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے اور ہمارے امکانات دن بہ دن بہتر ہو رہے ہیں۔‘‘

ہارپر کولنس انڈیا کے ذریعہ شائع ہونے والی سونیا گاندھی کی طویل عرصے سے انتظار کی جانے والی کتاب ’بیلانگنگ: اے جرنی آف لو‘ ایک ذاتی خود نوشت ہے، جس میں سیاست ایک پس منظر یا ان کے بقول ’ایک طرح کا خاکہ‘ فراہم کرتی ہے۔ انٹرویو لینے والے این رام کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس کتاب کو بنیادی طور پر ایک محبت کی کہانی کے طور پر پڑھا ہے۔ یہ راجیو اور سونیا کے درمیان محبت کے ایک غیر معمولی اور فوری طور پر قائم ہونے والے گہرے رشتے کی کہانی ہے، جو آہستہ آہستہ ایک بہت بڑی وابستگی میں تبدیل ہو گیا۔ اس رشتے نے انہیں راجیو کے خاندان، اقتدار کے اعلیٰ ترین حلقوں اور پھر ہچکچاتے ہوئے عوامی زندگی اور سیاست میں قدم رکھنے کی جانب راغب کیا اور بالآخر وہ ملک کی اہم ترین سیاسی رہنماؤں میں سے ایک بن گئیں۔

انٹرویو کے دوران این رام نے سونیا گاندھی سے پوچھا کہ ’’افسانے سے بھی زیادہ حیران کن کہانی ہے، ہے نا؟‘‘ انہوں نے جواب دیا ’’ہاں!‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہی ایک وجہ ہے کہ میں اتنے طویل عرصے تک اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔ لیکن یہ صرف ہم دونوں کی محبت کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات کی بھی کہانی ہے کہ کس طرح میرے اندر راجیو کے خاندان اور اس ملک کے لیے محبت پیدا ہوئی، جس سے وہ تعلق رکھتے تھے، اور پھر میں بھی اس ملک کا حصہ بن گئی۔ یہ اس بات کی کہانی بھی ہے کہ کس طرح اس محبت نے مجھے عوامی زندگی میں قدم رکھنے پر آمادہ کیا، جب میں نے دیکھا کہ ان تمام قربانیوں کا مقصد خطرے میں پڑ رہا ہے، جو انہوں نے دی تھیں اور پارٹی کمزور ہو رہی تھی۔ مجھے محسوس ہوا کہ مجھے کچھ کرنا ہوگا۔‘‘

راجیو گاندھی اور اندرا گاندھی، جن کے ساتھ سونیا کا غیر معمولی طور پر گہرا تعلق تھا، ان کی کہانی کی 2 مرکزی شخصیات ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ماضی پر نظر ڈالنے کے بعد وہ ان دونوں کی کون سی خصوصیات کو سب سے نمایاں سمجھتی ہیں اور ان دونوں نے ان کی زندگی اور سوچ کو کس طرح تشکیل دیا تو انہوں نے وضاحت کی کہ ’’جب میں ایک نوجوان دلہن کی حیثیت سے ہندوستان آئی تھی تو مجھے ہندوستان کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔ آج میں جو کچھ بھی ہوں اور جو کچھ جانتی ہوں، وہ سب میں نے انہی سے سیکھا۔ ان کی ہمت، دوسروں کے تئیں ان کا احساس، ایک سیکولر اور جمہوری ہندوستان سے ان کی وابستگی اور سب سے بڑھ کر فرض شناسی کا وہ جذبہ، جو ان دونوں کے لیے ہر دوسری چیز سے بڑھ کر تھا، ایسی باتیں تھیں جنہوں نے مجھے متاثر کیا اور مشکل اور تذبذب کے وقت میں مجھے ثابت قدم رکھا۔‘‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ تقریباً 60 سال قبل کیمبرج کے ایک یونانی ریستوراں میں راجیو گاندھی سے ملاقات کرنے والی نوجوان اطالوی خاتون کا کتنا حصہ آج کی سونیا میں باقی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ’’بچپن اور پرورش کے دوران میں نے جو اقدار سیکھی تھیں، وہ آج بھی میرے اندر موجود ہیں... لیکن اس وقت میں کہیں زیادہ مسکراتی اور ہنستی تھی !‘‘

مئی 1999 میں جب پارٹی کے کچھ رہنماؤں، جن میں شرد پوار بھی شامل تھے، نے ان کی غیر ملکی نژاد ہونے کا معاملہ اٹھایا اور یہ دعویٰ کیا کہ وہ ہندوستان میں کسی اعلیٰ عہدے پر فائز نہیں ہو سکتیں تو انہوں نے کانگریس صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، لیکن بعد میں اپنا استعفیٰ واپس لے لیا۔ اس بارے میں پوچھے جانے پر سونیا گاندھی نے جواب دیا کہ ’’یقیناً مجھے تکلیف ہوئی تھی... یہ میرے لیے ایک صدمے کی بات تھی کہ وہ اب بھی مجھے ایک بیرونی شخص کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘‘ تاہم ماضی پر نظر ڈالنے کے بعد وہ سمجھ سکتی ہیں کہ ’’شاید ان کی اپنی وجوہات رہی ہوں گی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اپنے اندر جھانکنے اور غور و فکر کرنے کے بعد‘‘ انہیں احساس ہوا کہ ’’میں اپنے ذاتی جذبات کو اپنے بڑے مقصد کی راہ میں حائل نہیں ہونے دے سکتی تھی۔ مجھے اپنا کام جاری رکھنا تھا۔‘‘

2004 کے لوک سبھا انتخاب میں کانگریس کی قیادت والے اتحاد کی جیت کے بعد سونیا گاندھی وزیراعظم بننے کے لیے پارٹی اور اتحاد کی واضح پسند تھیں، لیکن انہوں نے یہ پیشکش ٹھکرا دی۔ اس کے بعد پیش آنے والے ’’غیر حقیقی ڈرامے‘‘ کے دوران شدید دباؤ کے تحت انہوں نے کہا کہ ’’ٹھیک ہے‘‘، لیکن پھر اپنا فیصلہ بدل دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے کبھی سوچا کہ اگر وہ وزیراعظم بننے کی پیشکش قبول کر لیتیں تو متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) کی پالیسیاں اور کانگریس کی حکمت عملی کس طرح مختلف ہو سکتی تھیں، تو انہوں نے دوٹوک جواب دیا، ’’نہیں، بالکل نہیں۔ یہ خیال کبھی میرے ذہن میں نہیں آیا۔ ہمارا تجربہ مجموعی طور پر بہت مثبت رہا۔ ہم نے ایک ٹیم کے طور پر کام کیا اور ہمارے کردار الگ الگ تھے۔ وہ (منموہن سنگھ) حکومت کی قیادت کر رہے تھے اور میں پارٹی کی قیادت کر رہی تھی۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔