انٹرویو

انٹرویو: ’آج 90 فیصد اردو کتابوں کا حال دوسروں کے چبائے ہوئے لقمے کو ہضم کر لینے جیسا ہے‘، ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی

ڈاکٹر فاروق اعظم کا کہنا ہے کہ اگر ہمیں حالات کو بہتر کرنا ہے تو پہلے اسکول اور پھر کالج و یونیورسٹی کے تعلیمی معیار کو بلند کرنا ہوگا۔ یعنی پہلے زبان کو درست کرنا ہوگا پھر ادب کو معیاری بنانا ہوگا۔

<div class="paragraphs"><p>ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی</p></div>

ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی

 

ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی کی پیدائش 5 جولائی 1985 کو بہار کے ضلع کھگڑیا میں جمال پور گوگری واقع مشکی پور گاؤں میں ہوئی۔ ان کا مکمل نام محمد فاروق اعظم ہے، جبکہ والدین کے نام محمد معین الدین اور جہاں آرا ہیں۔ ڈاکٹر فاروق اعظم علم و ادب سے گہرا شغف رکھتے ہیں، جس کا ثبوت منظر عام پر آ چکیں ان کی 8 کتابیں ہیں۔ مطالعہ اور مضمون نگاری کے ساتھ ساتھ خدمت خلق ان کے پسندیدہ مشاغل میں شامل ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے حفظ قرآن بھی کیا ہے۔

Published: undefined

ڈاکٹر فاروق نے ابتدائی تعلیم اپنے نانیہال (امرتھ، ضلع جموئی) واقع ’مدرسہ اسلامیہ عربیہ‘ میں حاصل کی، اور پھر ’مدرسہ محمودیہ‘ (مبارک پور، ضلع سہرسہ) سے حفظ قرآن کی تکمیل کے بعد تجوید و قرأت اور فارسی کی بنیادی تعلیم ’جامعہ عربیہ خادم الاسلام‘ (ہاپوڑ، اتر پردیش) سے حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کی بات کریں تو 2007 میں انھوں نے تاریخی دینی دانش گاہ ’دارالعلوم دیوبند‘ (اتر پردیش) سے فضیلت کی ڈگری حاصل کی، اور پھر راجدھانی دہلی کا رخ کیا۔ ’جامعہ ملیہ اسلامیہ‘ سے انھوں نے 2010 میں بی اے (اسلامیات) کی سند حاصل کی، اور پھر ’جواہر لعل نہرو یونیورسٹی‘ سے 2012 میں ایم اے، 2014 میں ایم فل اور 2019 میں پی ایچ ڈی اردو سبجیکٹ میں کیا۔

Published: undefined

ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی کی پہلی کتاب ’مناظر گیلانی‘ نام سے 2007 میں منظر عام پر آئی، جو کہ علامہ سید مناظر احسن گیلانی کے احوال و اشعار کا مجموعہ ہے۔ ان کی دیگر تصنیفات میں ’آؤ قلم پکڑنا سیکھیں‘، ’تخلیق کی دہلیز پر‘، ’منٹو کے نادر خطوط‘، ’آسماں کیسے کیسے‘ (خاکے)، ’اجالے اپنی یادوں کے‘ (یادداشت)، ’اردو شاعری میں طنز و مزاح‘ وغیرہ شامل ہیں۔ انھیں دہلی اردو اکادمی اور بہار اردو اکادمی سے مختلف کاوشوں کے لیے مجموعی طور پر 4 بار ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ جے این یو کی طرف سے بھی انھیں ’سجاد ظہیر ایوارڈ‘ (برائے ایم اے ٹاپر، 2012) حاصل ہوا۔ ’للت نارائن متھلا یونیورسٹی‘ سے ملحق ’گنیش دَت کالج، بیگوسرائے‘ میں ان کی تقرری بطور اسسٹنٹ پروفیسر 6 ستمبر 2024 میں ہوئی۔

Published: undefined

اس شخصیت کے بارے میں کچھ بتائیں، جن کے نام سے ’گنیش دَت کالج، بیگوسرائے‘ منسوب ہے۔

سر گنیش دت (1943-1868) ایک معروف شخصیت رہی ہے، جن کے نام سے منسوب اس کالج کا قیام 1945 میں ہوا۔ کالج کا یومِ تاسیس ہر سال 13 جنوری کو منایا جاتا ہے، جو دراصل گنیش دت کا یومِ پیدائش بھی ہے اور اسی تاریخ کو کالج قائم بھی ہوا تھا۔ سر گنیش دت قانون داں، ماہرِ تعلیم، سیاست داں اور جدید بہار کے عظیم معمار تھے۔ برطانوی عہد میں بہار و اڑیسہ کے شعبہ تعلیم اور صحت میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔ وہ 1923 سے 1937 تک ریاست بہار و اڑیسہ کے وزیرِ بلدیات بھی رہے۔ انھوں نے اپنی آمدنی کا بڑا حصہ تعلیم و صحت کے فروغ کے لیے وقف کردیا تھا۔ پٹنہ میڈیکل کالج، دربھنگہ میڈیکل کالج اور رانچی کے مینٹل ہاسپیٹل کے قیام اور فنڈنگ میں ان کا بنیادی کردار رہا ہے۔ سر گنیش دَت نے تو پٹنہ واقع اپنا مکان (کرشنا کنج) بھی پٹنہ یونیورسٹی کو عطیہ کر دیا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ دیش کا کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے، اس لیے وہ مفت تعلیم کے حامی تھے۔ انھوں نے عام اسکولوں کے ساتھ ساتھ نابینا اور گونگے بہرے بچوں کے اسکولوں کی بھی مالی سرپرستی کی۔ برطانوی حکومت نے اس حسن کارکردگی کو دیکھتے ہوئے 1928 میں انھیں ’سر‘ کا خطاب عطا کیا تھا۔

’گنیش دت کالج‘ کے بانیوں اور یہاں کے تعلیمی نظام سے متعلق کچھ بتائیں۔

’گنیش دت کالج‘ (جی ڈی کالج) بہار کا ایک قدیم اور ممتاز تعلیمی ادارہ ہے۔ اس کے بانیوں میں بابو وشوناتھ سنگھ شرما اور صوبہ بہار کے سابق وزیر آبپاشی و برقی  رام چرتر سنگھ کے نام اہم ہیں۔ 25 ایکڑ اراضی پر پھیلا جی ڈی کالج اپنی ایک الگ شناخت رکھتا ہے۔ یہاں آرٹ، سائنس اور کامرس تینوں فیکلٹیز قائم ہیں، جن کے تحت تقریباً 18 مضامین میں بی اے اور ایم اے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس وقت طلبا کی مجموعی تعداد تقریباً 30 ہزار ہے۔ کالج میں ایک بڑا میدان، ایک شاندار لائبریری، 2 آڈیٹوریم اور کئی چھوٹی بڑی عمارتیں ہیں۔ اسپورٹس کے ساتھ ساتھ این ایس ایس اور این سی سی کی  سرگرمیاں بھی یہاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ طلبا ان دونوں شعبوں میں حصہ لے کر قومی سطح پر اپنا اور کالج کا نام روشن کر رہے ہیں۔ اس کالج کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ  یہاں آرکیالوجیکل میوزیم (جیسوال آرکیالوجیکل اینڈ ہسٹوریکل سوسائٹی اینڈ میوزیم، جی ڈی کالج، بیگوسرائے، بہار) بھی ہے، جس کی بنیاد معروف مورخ اور اسی کالج کے تاریخ کے پروفیسر ’پروفیسر رادھا کرشن چودھری‘ کے ہاتھوں 1947 میں ڈالی گئی تھی۔ یہ کالج ابتدا میں پٹنہ یونیورسٹی سے ملحق تھا، پھر بہار یونیورسٹی سے منسلک رہا۔ چند برسوں تک اس کا الحاق بھاگلپور یونیورسٹی سے بھی رہا۔ بالآخر 1976 سے تا حال یہ کالج للت نارائن متھلا یونیورسٹی دربھنگہ سے ملحق ہے۔

’گنیش دت کالج‘ کے شعبہ اردو کی تاریخ پر مختصر روشنی ڈالیے۔ اس شعبے سے کن اہم شخصیات کا تعلق رہا ہے؟

’گنیش دت کالج‘ کے قیام کے ابتدائی سالوں سے ہی یہاں اردو کی تعلیم کا انتظام رہا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ 2000ء تک شعبۂ اردو کی ترقیاتی رفتار کچھ دھیمی رہی۔ اولین اساتذہ پروفیسر ایس اے ایف عالم اور پروفیسر ابراہیم کا وقت زیادہ تر انتظامی امور کی انجام دہی میں صرف ہوا، لیکن ڈاکٹر جمال اویسی، ڈاکٹر سحر افروز اور ڈاکٹر نسرین سلطانہ کے شعبۂ اردو سے وابستہ ہونے کے بعد ترقی کی رفتار میں بڑی تیزی آئی اور ایک وقت طلبا کی جو تعداد معمولی تھی، وہ سینکڑوں تک پہنچ گئی۔ فی الوقت بی اے اور ایم اے میں طلبا کی مجموعی تعداد تقریباً ایک ہزار ہے۔ اس شعبہ کے تحت اب تک درجن بھر پی ایچ ڈی کے مقالوں  پر ڈگریاں تفویض کی جا چکی ہیں۔ حالیہ برسوں میں کئی طلبا و طالبات نے نیٹ اور جے آر ایف کے امتحانات پاس کیے ہیں۔ یہ شعبہ وقتاً فوقتاً کچھ ایسے پروگرام بھی کراتا رہتا ہے جس سے طلبا کے اندر کی پوشیدہ علمی و ادبی صلاحیتیں اجاگر ہوں اور وہ زبان و ادب کے فروغ میں سنجیدہ کوششوں کا حصہ بن سکیں۔ ستمبر 2024 تک اساتذہ میں ایک مستقل اور 2 گیسٹ لکچرر تھے (ڈاکٹر عبد اللہ اور ڈاکٹر الفت حسین)، تینوں نے اپنے خلوص، محنت اور جد و جہد سے شعبہ کو آگے بڑھانے اور بلندیوں پر پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ گزشتہ 2 برسوں سے خاکسار (ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی) کے علاوہ ڈاکٹر سحر افروز اور ڈاکٹر مسرور احمد حیدری پوری تندہی کے ساتھ طلبا و طالبات کو تعلیم سے آشنا کرنے اور شعبہ اردو کو بلند مقام عطا کرنے میں مصروف ہیں۔

موجودہ دور میں کئی لوگ اُردو کی زبوں حالی پر ماتم کناں نظر آتے ہیں۔ آپ کی نظر میں اس کی کیا وجہ ہے؟ کیا ’گنیش دَت کالج‘ کے شعبۂ اردو میں طلبا و طالبات اُردو کو لے کر سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں؟

بلاشبہ کسی بھی زبان کے فروغ و ترقی میں حکومت کا بڑا کردار ہوتا ہے، لیکن یہ سوچنا غلط ہے کہ اس کی ذمہ داری محض حکومت کی ہے۔ میرے خیال میں محض رونا دھونا اپنی ذمہ داری سے راہِ فرار اختیار کرنا ہے، اس لیے حرکت میں آنے کی ضرورت ہے کیونکہ حرکت ہی میں برکت ہے۔

جہاں تک اردو کے تئیں طلبا و طالبات کے رجحان کا سوال ہے، صد فیصد کو ’بہت سنجیدہ‘ نہیں کہا جا سکتا۔ البتہ طلبا و طالبات کا ایک بڑا حصہ ایسا ہے جو بڑی صلاحیتوں کے مالک ہیں، بس انھیں نکھارنے والا اور تراشنے والا چاہیے۔ میں نے جب بھی طلبا و طالبات کو لکھنے کے لیے کوئی دلچسپ موضوع دیا، تو انھوں نے اچھے مضامین اور اچھی کہانیاں لکھیں۔ اس لیے ہمیں مایوس ہونے کی جگہ سخت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔

5. تصنیف و تالیف سے آپ کا رشتہ بہت گہرا ہے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ بڑی تعداد میں اُردو کی غیر معیاری کتابیں منظر عام پر آ رہی ہیں، اور اس کی ایک بڑی وجہ تعلیمی اداروں میں اردو کی غیر معیاری تعلیم ہے؟

جی بالکل، میں آپ کے اس خیال سے پوری طرح متفق ہوں۔ 10 فیصد کو منہا کر دیں تو آج 90 فیصد اردو کتابوں کا حال دوسروں کے چبائے ہوئے لقمے کو ہضم کر لینے جیسا ہے۔ اس کے پس پردہ کئی اسباب و عوامل ہیں۔ سب سے پہلے تو گھر سے اردو کا بڑی تیزی سے غائب ہونا، دوسرے اسکولی سطح پر تعلیم کا ستیاناس ہونا، اور تیسرے نمبر پر کالج و یونیورسٹی کا نام آتا ہے۔ سچ پوچھیے تو بی اے، ایم اے اور پی ایچ ڈی میں حروف تہجی کا درس تو دیا نہیں جائے گا، اس جگہ تو زبان سے آگے طلبا ادب کی سرحد میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ریسرچ میں بھلا صحتِ الفاظ اور املا کی درستی کا کیا موقع ہے۔ اس کے باوجود ہمیں یہ سب کچھ پڑھانا اور بتانا پڑتا ہے۔ اس صورتِ حال میں تصنیف و تالیف کا کیسا کچومر بن سکتا ہے، آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اگر ہمیں حالات بہتر کرنے ہیں تو پہلے اسکول اور پھر کالج و یونیورسٹی کے تعلیمی معیار کو بلند کرنا ہوگا۔ یعنی پہلے زبان کو درست کرنا ہوگا پھر ادب کو معیاری بنانا ہوگا، تب کہیں ہماری ریسرچ اور کتابیں بھی معیاری اور قابلِ قبول ہو پائیں گی۔ اسکولی تعلیم جب معیاری ہوگی تو مستقبل کے اساتذہ بھی لائق و فائق تیار ہوں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined