
ڈاکٹر نعمان قیصر
ڈاکٹر نعمان قیصر کی پیدائش 31 دسمبر 1977 کو بہار کے ضلع ارریہ واقع محل گاؤں میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام محمد الیاس اور والدہ کا نام شمیمہ خاتون ہے، جو دنیائے فانی کو الوداع کہہ چکے ہیں۔ ڈاکٹر نعمان قیصر کا اصل نام نعمان عالم ہے اور انھیں مطالعہ، شاعری، موسیقی و خدمت خلق سے حد درجہ دلچسپی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’کتابیں اور شعر میرے دل کے قریب ہیں، ادب میری پسندیدہ دلچسپی ہے، اور مطالعہ و شاعری مجھے روحانی مسرت دیتے ہیں۔‘‘ ادب سے ڈاکٹر نعمان کی دلچسپی کا اندازہ ان کی شائع کتابوں ’ادب کائنات‘ (ادبی مضامین کا مجموعہ، 2018)، ’ندا کی تخلیقی صدا‘ (ترتیب، 2020) اور ’وہ جو شمس تھا سر آسماں‘ (ترتیب، 2021) سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ ’ندا کی تخلیقی صدا‘ کے لیے 2020 میں انھیں اترپردیش اردو اکادمی (لکھنؤ) نے ایوارڈ سے بھی نوازا۔
Published: undefined
شعبۂ اردو، پٹنہ کالج میں طلبا کے درمیان ڈاکٹر نعمان قیصر
ڈاکٹر نعمان قیصر نے عالمیت کی سند جامعۃ الفلاح، بلریا گنج، اعظم گڑھ سے حاصل کی۔ بعد ازاں بی اے، ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگری علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تفویض ہوئی۔ پی ایچ ڈی کا موضوع ’بیسویں صدی میں غیر افسانوی نثر کے ارتقاء میں علی گڑھ کا حصہ‘ تھا اور نگراں پروفیسر شہاب الدین ثاقب تھے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے انھیں ’رادھا کرشنن پوسٹ ڈاکٹرل فیلوشپ‘ بھی ملا۔ یہاں ان کا موضوع تھا ’اردو ناول کے فروغ میں غیر مسلم قلم کاروں کا حصہ‘ اور نگراں تھے معروف و ممتاز شاعر و ادیب پروفیسر شہپر رسول۔
Published: undefined
شعبۂ اردو، پٹنہ کالج میں طلبا و طالبات کلاس کرتے ہوئے
ڈاکٹر نعمان قیصر نے تدریسی میدان میں قدم رکھنے سے قبل میدانِ صحافت میں کئی اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔ وہ 2006 سے 2010 تک روزنامہ ’راشٹریہ سہارا‘ میں سب ایڈیٹر رہے، اور 2010 سے 2014 تک ’عالمی سہارا‘ اردو چینل میں ایسو سی ایٹ پروڈیوسر کی ذمہ داری سنبھالی۔ ’ڈی ڈی اردو کے پروگرام ’کتاب کائنات‘ کے وہ پروڈیوسر بھی رہے۔ شعبۂ اردو، پٹنہ کالج، پٹنہ یونیورسٹی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نعمان کی تقرری 4 اکتوبر 2024 کو ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’جب دہلی سے رخصت ہونے کا وقت آیا تو دل و زبان پر بے اختیار ذوق کا یہ مصرع جاری ہو گیا– کون جائے ذوقؔ پر دلی کی گلیاں چھوڑ کر۔‘‘
Published: undefined
طلبا و طالبات کے ساتھ ڈاکٹر نعمان قیصر (نیلی شرٹ میں)
پٹنہ کالج اور اس کے شعبۂ اردو کی تاریخ پر مختصر روشنی ڈالیں۔اس شعبہ سے کئی علمی شخصیتیں وابستہ رہی ہیں، کچھ ان کے بارے میں بھی بتائیں۔
پٹنہ کالج بہار کا ایک قدیم، تاریخی اور ممتاز تعلیمی ادارہ ہے، جس کا قیام 9 جنوری 1863ء کو عمل میں آیا۔ یہ ادارہ نہ صرف اعلیٰ تعلیم کا اہم مرکز رہا ہے بلکہ بہار کی کئی ممتاز یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کی بنیاد بھی سمجھا جاتا ہے۔ ابتدا میں یہ ادارہ کلکتہ یونیورسٹی سے ملحق تھا، لیکن یکم اکتوبر 1917ء میں پٹنہ یونیورسٹی کے قیام کے بعد اسے اس سے ملحق کر دیا گیا۔ پٹنہ یونیورسٹی بہار کی پہلی اور برصغیر ہند و پاک کی گیارہویں قدیم ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ ابتدا میں یہ ایک الحاقی یونیورسٹی تھی جو اسکول سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک کے امتحانات کی نگرانی کرتی تھی، لیکن 1952ء میں اسے تدریسی اور رہائشی یونیورسٹی کا باقاعدہ درجہ دے دیا گیا۔
شعبۂ اردو، پٹنہ کالج کی تاریخ انتہائی تابناک ہے۔ ماضی میں اردو کے کئی بڑے قلم کار اس شعبے سے وابستہ رہے۔ پٹنہ کالج میں شعبۂ اردو کا قیام 1920 کے آس پاس عمل میں آیا۔ پروفیسر عظیم الدین احمد پہلے صدر شعبہ بنے (آپ اردو کے ممتاز ناقد پروفیسر کلیم الدین احمد کے والد تھے)۔ ان کے بعد شعبے کی سربراہی ممتاز فکشن رائٹر اور محقق پروفیسر اختر اورینوی نے کی۔ شعبے کے دیگر اساتذہ میں پروفیسر محمد صدرالدین، پروفیسر محمد مطیع الرحمٰن، پروفیسر ممتاز احمد، علامہ جمیل مظہری، پروفیسر ایم وائی خورشیدی، پدم شری کلیم عاجز، پروفیسر ثریا جبیں، پروفیسر اعجاز علی ارشد اور پروفیسر اشرف جہاں تک اردو قلم کاروں کی ایک کہکشاں ہے جن کے علم و فکر کی خوشبو سے دنیائے اردو معطر و منور ہے۔
ایک ادبی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نعمان قیصر
آپ تدریسی میدان میں آنے سے قبل اُردو صحافت سے جڑے ہوئے تھے۔ صحافتی میدان سے نکل کر اُستاد بننے کا تجربہ کیسا رہا؟
درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہونے سے قبل میں نے برسوں دشت صحافت کی خاک چھانی۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا، دونوں سے وابستگی رہی۔ عملی اور صحافتی زندگی کا آغاز اردو روزنامہ ’راشٹریہ سہارا‘ سے کیا، جس کے بعد ’عالمی سہارا اردو‘ چینل اور پھر ’ڈی ڈی اردو‘ سے تقریباً 10 برس تک وابستہ رہا۔ ’راشٹریہ سہارا‘ سے یہ انسلاک میرے لیے انتہائی خوشگوار تجربہ ثابت ہوا۔ پڑھنا، لکھنا اور علمی و ادبی شخصیات سے ملاقات ہمیشہ میرے لیے قلبی مسرت کا باعث رہے ہیں اور خوش قسمتی سے صحافت کا پیشہ ان تینوں عناصر کا حسین امتزاج ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ صحافت سے میری وابستگی شوقیہ نہ تھی، خانگی حالات اور معاشی تقاضے مجھے اس میدان میں لے آئے تھے۔ یہی سبب ہے کہ تقریباً 18 برس تک صحافت سے وابستہ رہنے کے باوجود میرا دل درس و تدریس ہی کی طرف مائل رہا۔ چنانچہ جب فضل باری تعالیٰ سے اسسٹنٹ پروفیسر کے منصب پر تقرری عمل میں آئی تو یوں محسوس ہوا جیسے میری ایک دیرینہ آرزو کو تعبیر مل گئی ہو۔
اگرچہ دہلی سے ایک گہری وابستگی قائم ہو چکی تھی، لیکن تعلیم و تعلم کا میدان اپنی روحانیت، تقدس اور معنویت کے اعتبار سے ہمیشہ میرے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ یہ محض معلومات کی منتقلی کا نام نہیں، بلکہ انسانی اذہان و افکار کی تربیت، کردار کی تعمیر و تشکیل اور معاشرے کی اصلاح کا ایک مقدس فریضہ ہے جسے انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت سے نسبت حاصل ہے۔ شاید یہی سبب ہے کہ یہ پیشہ مجھے بے حد عزیز ہے اور اس کے لیے میں ہر دوسری مصروفیت اور پیشے کو ترک کرنے کے لیے آمادہ ہوں۔
شعبۂ اردو کے طلبا و طالبات میں اُردو کے تئیں کس طرح کا رجحان دیکھتے ہیں؟ کیا ان کے اندر آپ اردو سے محبت کا جذبہ دیکھتے ہیں، یا پھر کثرت ایسے طلبا کی ہے جو صرف ڈگری حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
میرے خیال سے اس سوال کا جتنا تعلق طلبا سے ہے، اتنا ہی اساتذہ سے بھی۔ طلبا گیلی مٹی کی مانند ہوتے ہیں، انھیں جس سانچے میں ڈھالا جائے، ان کی جیسی تربیت کی جائے، اس میں وہ بہ آسانی ڈھل جاتے ہیں۔ اگر استاذ باصلاحیت اور باذوق ہے، اس کو شعر و ادب کی شُد بُد ہے، تو وہ طلبا میں شعر و ادب کے تئیں دلچسپی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ کلاس کے سارے طلبا شعر و ادب کے دلدادہ ہو جائیں، لیکن اگر کلاس کے 25 فیصد طلبا میں ادب سے دلچسپی پیدا ہو جائے تو یہ بڑی بات ہوگی۔ مجھے اس بات کا دعویٰ قطعی نہیں ہے کہ میں نے طلبا میں شعر و ادب کا گہرا ذوق پیدا کر دیا، لیکن مجھے اس بات کی خوشی ضرور ہے کہ شعبۂ اردو پٹنہ کالج میں طلبا کی بڑی تعداد ایسی ہے جو زبان و ادب کے تئیں سنجیدہ ہے۔ مادیت اور صارفیت کے اس عہد میں اردو زبان و ادب کی تعلیم کا حصول ان کے نزدیک کارِ زیاں ہرگز نہیں ہے۔ طلبا کو احساس کمتری سے نکالنا اور ان میں اردو کے تئیں اعتماد پیدا کرنا بہت ضروری ہے۔
بیشتر کالجز اور یونیورسٹیز میں شعبۂ اردو کی حالت بہت خستہ ہے، آپ کے یہاں کیسے حالات ہیں؟ کیا کالج انتظامیہ اس شعبہ کے مسائل پر نظر رکھتی ہے؟
شعبۂ اردو پٹنہ کالج کی حالیہ 10 برس کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں تھی تو اس کے لیے یونیورسٹی و کالج انتظامیہ کم، ارباب حل و عقد زیادہ ذمہ دار ہیں۔ کیونکہ وہاں 2003 کے بعد کوئی بحالی نہیں ہوئی تھی۔ جو اساتذہ تھے، ان میں سے بیشتر ریٹائر ہو چکے تھے۔ ان کی سبکدوشی کے بعد وہاں تعلیمی صورتحال میں بہت حد تک گراوٹ آ گئی۔ لیکن اس کے باوجود پٹنہ یونیورسٹی نے بہار کی جامعات میں اپنی تعلیمی ساکھ بچانے کی کوشش کی۔ پٹنہ کالج کے شعبۂ اردو میں گیسٹ فیکلٹی اور جز وقتی اساتذہ کی خدمات لی گئیں اور چراغ کی لو کو بجھنے سے بچایا گیا۔ یہ کالج انتظامیہ کی دلچسپی ہی ہے کہ ابھی پٹنہ کالج میں 3 مستقل اور ایک جز وقتی استاذ تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔
پٹنہ کالج میں 2020 میں ڈاکٹر بالمیکی رام کی تقرری ہوئی تو انھوں نے شعبے کی فعالیت پر زور دیا۔ انھوں نے طلبا کا شعبۂ اردو سے ٹوٹے ہوئے رشتے کو بحال کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ بحیثیت صدر شعبہ یہ ان کی بڑی حصولیابی ہے۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر عبدالباسط حمیدی اور ڈاکٹر نرجس فاطمہ کی کوششوں سے پٹنہ کالج میں اردو کی مجموعی فضا اطمینان بخش ہے۔ میں بھی اس معاملے میں اپنی حد تک پوری سرگرمی کا مظاہرہ کرتا ہوں۔
آپ نے راجدھانی دہلی میں طویل عرصہ گزارا ہے اور وہاں ادبی سرگرمیوں کا حصہ بھی رہے۔ اب بہار کی راجدھانی پٹنہ میں اُردو کی خدمت کر رہے ہیں۔ آپ نے اُردو زبان کو کہاں زیادہ خوشحال پایا؟
میں نے زندگی کے تقاضوں اور معاشی ضرورتوں کے تحت میر و غالب کی سر زمین یعنی شاہجہان آباد میں عمر عزیز کے کم و پیش 18 سال گزارے۔ یہاں کی شعری و ادبی، تہذیبی و ثقافتی اداروں کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ ادبی شخصیتوں سے ملنے اور ان کی صحبت سے فیض حاصل کرنے کا موقع بھی یہاں میسر آیا۔ دہلی صرف ہندوستان کا دل ہی نہیں تہذیب و ثقافت کا سرچشمہ بھی ہے۔ یہ شہر اردو تہذیب و ثقافت اور لسانی تکثیریت کے اعتبار سے عالم میں انتخاب کا درجہ رکھتا ہے۔ یہاں جے این یو، ڈی یو اور جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسی مرکزی جامعات ہیں جہاں آئے دن اردو کے سمینار اور سمپوزیم ہوتے ہیں۔ قومی کونسل، دلی اردو اکادمی، غالب انسٹی ٹیوٹ اور غالب اکیڈمی کے علاوہ بہت سی انجمنیں اور ادارے ہیں جن کے بینر تلے آئے دن شعری و ادبی تقریبات ہوتی رہتی ہیں۔ شاہجہان آباد کے بالمقابل عظیم آباد چھوٹا شہر ہے لیکن اس کے باوجود یہاں بھی اردو شعر و ادب کا ماحول ہے، یہاں بھی آئے دن شعری و ادبی محفلیں برپا ہوتی رہتی ہیں۔ اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ دہلی کے بعد بہار ایسی ریاست ہے جہاں اردو پریمیوں کی ایک بڑی تعداد رہتی اور بستی ہے۔ بہار کے محبان اردو اپنی اس پیاری زبان سے نہ صرف محبت کرتے ہیں بلکہ اس کی تشہیر و تبلیغ کے لیے ہمیشہ کوشاں بھی رہتے ہیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined