انٹرویو

انٹرویو: محمد رکن الدین نہ ہی اُردو کو زوال پذیر مانتے ہیں، نہ ہی جدید ٹیکنالوجی سے دور

<div class="paragraphs"><p>ماریشس میں ایک ادبی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے محمد رکن الدین</p></div>

ماریشس میں ایک ادبی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے محمد رکن الدین

 

نئی نسل کے اساتذہ سے انٹرویو پر مبنی سلسلہ ’سوال استاد سے‘ کی چوتھی قسط میں ڈاکٹر محمد رکن الدین سے خصوصی گفتگو ہوئی۔ وہ شعبۂ اُردو، ستیہ وَتی کالج (دہلی یونیورسٹی) سے منسلک ہیں اور ایسی سوچ کے خلاف ہیں کہ اُردو زبان زوال کی شکار ہے۔ وہ طلبا میں اُردو کے تئیں محبت بھی محسوس کرتے ہیں اور اُن میں اُردو کا روشن مستقبل بھی دیکھتے ہیں۔ اس گفتگو میں انھوں نے درس و تدریس کے طریقۂ کار اور جدید ٹیکنالوجی پر بے باک بات چیت کی۔

Published: undefined

محمد رکن الدین کا مختصر تعارف

محمد رکن الدین کی پیدائش 1990 میں بہار کے سیتامڑھی واقع حسن پور (بسبٹہ بازار، میجر گنج) میں ہوئی۔ والد محمد صفی اللہ انصاری کا پیشہ کاشتکاری ہے، جبکہ والدہ جمیلہ خاتون گھریلو ذمہ داریاں سنبھالتی ہیں۔ محمد رکن الدین نے ابتدائی تعلیم حسن پور کے ہی مدرسہ عربیہ رضا العلوم میں حاصل کی، جہاں ناظرہ قرآن ختم کیا اور اس کے بعد درس نظامی کی ابتدا ہوئی۔ اولیٰ اور ثانیہ کی تعلیم کے لیے انھوں نے فیض آباد کے روناہی واقع جامعہ اسلامیہ کا رخ کیا۔ اعظم گڑھ کے مایہ ناز دینی درسگاہ جامعہ اشرفیہ، مبارک پور سے فضیلت کی تعلیم حاصل کی۔ اتر پردیش مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے مولوی، منشی، کامل، عالم اور فاضل کے امتحانات پاس کیے۔ اسی دوران 2009 میں شبلی نیشنل کالج، اعظم گڑھ میں بی اے (اردو، عربی، تاریخ) میں داخلہ لیا۔ بعد ازاں 2011 میں ایم اے (اردو) کے لیے مشہور و مقبول جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں داخلہ لیا۔ یہاں سے 2013 میں ایم فل (اردو) اور 2015 میں پی ایچ ڈی (اردو) کے لیے منتخب ہوئے۔ انھوں نے 2018 میں ’ایڈوانس ڈپلوما اِن ماس میڈیا اِن اردو‘ مکمل کیا، اور پھر 2020 میں جے این یو نے پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی۔

محمد رکن الدین ایک فعال شخصیت کے مالک ہیں جو تعلیم کے دوران مختلف سرگرمیوں سے جڑے رہے۔ انھوں جدید دور کی ضرورتوں کو سمجھتے ہوئے نئی ٹیکنالوجی سے بھی آشنائی حاصل کی اور درس و تدریس کو ایک نئی جہت دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ محمد رکن الدین نے 2021 سے 2023 تک وزارت داخلہ، حکومت ہند کے ماتحت ایک تربیتی ادارے میں بحیثیت ریسرچ ایسو سی ایٹ کام کیا، اور پھر انھیں جنوری 2024 میں دہلی یونیورسٹی کے ’ستیہ وَتی کالج‘ میں شعبۂ اردو میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر مستقل تقرری ملی۔ وہ 3 کتابوں ’سید تقی عابدی: بحیثیت نقاد و محقق‘، ’تحقیقی کاوشیں‘ اور ’2019 کی تخلیقی، تنقیدی اور تحقیقی نگارشات‘ کے مصنف بھی ہیں۔ چند کتابیں زیر طبع ہیں، جن میں ’مہجری محقق و نقاد، نئی بستیوں کے اردو شعبے‘ خاص طور سے قابل ذکر ہے۔ ’اردو اسپیکنگ یونین‘، ماریشس نے 2022 میں انھیں تشجیعی انعام سے نوازا ہے۔

————————————————

Published: undefined

ستیہ وَتی کالج کے شعبۂ اُردو سے جڑ کر آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟ یہ شعبہ جوائن کرنے کے بعد کیا آپ نے کوئی مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کی؟

شعبۂ اردو، ستیہ وتی کالج، دہلی یونیورسٹی سے منسلک ہوتے ہی ہماری پہلی کوشش یہ رہی کہ اردو زبان و ادب کی تعلیم کے لیے بہتر ماحول بنایا جائے۔ چونکہ پہلے سے ہی شعبۂ اردو تجربہ کار اساتذہ کی موجودگی میں بہت متحرک تھا، اس لیے آسانیاں میسر ہوئیں۔ میں نے اپنی تدریسی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبا و طالبات پر محنت شروع کی۔ جلد ہی ہماری کوششیں کامیاب ہوئیں اور بچے مستقل کلاس میں آنے لگے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ کالج کا ماحول اردو کے لیے بہت سازگار ہونے لگا۔ سینئر اساتذہ اور دیگر رفیق کار اس کوشش میں شانہ بہ شانہ کھڑے رہے۔ آج کالج میں شعبۂ اردو دیگر شعبوں کی طرح ہی بہت متحرک و فعال ہے۔

ستیہ وَتی کالج سے جڑے آپ کو ابھی چند سال ہی ہوئے ہیں، کیا کبھی ایسا لگا کہ شعبۂ اُردو کو دیگر شعبوں کے مقابلے زیادہ چیلنجز کا سامنا ہے؟

ستیہ وَتی کالج کا شعبۂ اردو ایک فعال شعبہ ہے۔ دہلی یونیورسٹی میں ’قومی تعلیمی پالیسی 2020‘ نافذ ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی میں بنیادی مضامین اور اختیاری مضامین کے علاوہ کچھ کورسیز ہیں جن کا انتخاب تمام طلبا و طالبات کو کرنا ہوتا ہے۔ ان میں خصوصاً ’مہارت افزا کورس‘ (Skill Enhancement Cource)، ’قدر افزا کورس‘ (Value Addition Course) شامل ہیں۔ اسی طرح ’عمومی اختیاری کورس‘ (Generic Elective) اور ’صلاحیت افزا کورس‘ (Ability Enhancement Course) بھی ہیں۔ یہ تمام کورسیز شعبۂ اردو کے علاوہ تمام ڈسپلن کے طلبا و طالبات کے لیے ضروری ہیں۔ شعبۂ اردو نے قومی تعلیمی پالیسی کے تحت بہت سارے کورسیز کو متعارف کرایا ہے۔ ان تمام کورسیز کے تحت تقریباً 2000 طلبا و طالبات شعبۂ اردو کی طرف سے جاری کردہ کورسیز اختیار کرتے ہیں۔ کالج میں شعبۂ اردو کی ایک خاص اہمیت ہے اور طلبا و طالبات شعبۂ اردو کے کورسیز کو بہت دلچسپی کے ساتھ اختیار کرتے ہیں۔ اس تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ شعبۂ اردو بہتر کام کر رہا ہے۔ یہاں دیگر شعبوں کے مقابلے اردو کو کسی بھی طرح کی مشکلات یا چیلنجیز کا سامنا نہیں ہے۔

اُردو کے تئیں طلبا کی دلچسپی کیسی ہے؟ کئی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اُردو زوال پذیر ہے۔ آپ اپنے طلبا کو پیش نظر رکھتے ہوئے اُردو کا مستقبل کیسا دیکھتے ہیں؟

اردو زوال پذیر ہرگز نہیں ہے۔ شعبۂ اردو کے تمام کورسیز میں تقریباً 2000 سے 2500 طلبا و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ہر سال اچھی خاصی تعداد میں بچے اردو آنرس میں بھی داخلہ لیتے ہیں اور ریگولر کلاسیز میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ لہٰذا میں اس خیال سے بالکل متفق نہیں ہوں کہ اردو زوال پذیر ہے۔ اردو زبان و ادب میں سند حاصل کرنے کے بعد بچوں کے لیے مواقع کی کمی نہیں ہے۔ اسکول، کالج، یونیورسٹی، سول سروسز، حکومتی ادارے اور میڈیا ہاؤسیز میں اردو کے لیے بہت مواقع ہیں۔ گویا اس طرح کے خیالات کی حمایت کسی بھی صورت میں نہیں کی جانی چاہیے کہ اردو زوال پذیر ہے۔ بچے اردو زبان و ادب کو لے کر بہت مثبت سوچ رکھتے ہیں اور مستقبل میں بھی اردو میں کیرئیر بنانے کے لیے سنجیدگی کا مظاہر ہ کر رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ نئی نسل اس طرح کے خیالات کو غلط ثابت کرے گی۔

مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں شعبۂ اُردو آج بھی جدید ٹیکنالوجی سے دور دکھائی پڑتا ہے۔ اس معاملے میں آپ کا کیا تجربہ ہے اور کیا آپ کوئی مشورہ اُردو داں طبقہ کو دینا چاہیں گے؟

میرا سوال تو یہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ کیا مشین ہی جدید ٹیکنالوجی ہے؟ یا اس کے برعکس زبان و ادب، تہذیب و ثقافت بھی کوئی چیز ہے؟ ان تمام کے لیے سماج و معاشرے میں کوئی جگہ ہے یا نہیں؟ اگر جگہ ہے تو اس سوال کا جواب آپ کو مل گیا ہوگا۔ رہی بات کالجوں اور یونیورسٹیوں کا شعبۂ اردو جدید ٹیکنالوجی سے دور ہے، تو میں اس سے اتفاق نہیں رکھتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دیگر شعبے، خاص طور پر ہیومنیٹیز اور سول سائنسز نے کس طرح جدید ٹیکنالوجی کو اپنایا ہے؟ مذکورہ شعبوں نے جس رفتار سے جدید ٹیکنالوجی میں ترقی کی ہے، اسی رفتار سے شعبۂ اردو نے بھی ترقی کی ہے۔ ہمارے پاس ہزاروں ڈیجیٹل لائبریریاں ہیں۔ تمام طرح کے ڈیجیٹل ٹولس اور سسٹم ہیں، جس میں ہم اردو کا استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے اردو دیگر شعبوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ کتب، رسائل، مضامین اور تمام طرح کے مواد آج ہمارے اسکرین پر موجود ہیں۔ دنیا میں سوشل میڈیا کے کردار پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ یورپ کے کئی ممالک نے اسکول میں موبائل، لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے کردار پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ مارک زکربرگ لاس اینجلس کی عدالت میں کھڑے ہیں۔ والدین بچوں کے مستقبل کو لے کر فکر مند ہیں۔ ہزاروں بچے انٹرنیٹ پر موجود مواد اور اس کے الگورتھم کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھونے کے درپے ہیں۔ آپ غور کیجیے کہ زبان اور ادب پر اس طرح کے سوالات کبھی کھڑے نہیں کیے گئے ہیں۔ اس لیے جب تک دنیا ہے اس وقت تک زبان و ادب کی اہمیت برقرار رہے گی۔

آپ نے خواجہ محمد اکرام الدین کی سرپرستی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، جو اُردو میں یونیکوڈ اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی مہارت رکھتے ہیں۔ آپ نے ان سے کتنا استفادہ کیا، اور اپنے طلبا کو کس طرح مستفید کرتے ہیں؟

ہر انسان کی زندگی میں استاد کی حیثیت بہت اہم ہے۔ میں نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں اپنا نگراں پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین کو منتخب کیا۔ ان کی سدا بہار شخصیت سے ہر اردو داں واقف ہے۔ انہوں نے اردو کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مجھے بھی ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ ادب اور ٹیکنالوجی کی سمجھ اور اس میدان میں کام کرنے کی ترغیب بھی انہیں سے ملی۔ پھر انہیں کی سرپرستی میں ورلڈ اردو ایسوسی ایشن، نئی دہلی کا قیام عمل میں آیا، جس کا مقصد دنیا کے مختلف گوشوں میں موجود اردو کے اساتذہ، ادیبوں، شاعروں، فکشن نگاروں، صحافیوں، طلبا و طالبات اور قلم کاروں سے رابطہ و اشتراک اور باہمی تعاون کی سمت میں ایک نئی پہل ہے۔ ورلڈ اردو ایسو سی ایشن کا میں ڈائریکٹر ہوں اور بحیثیت ڈائریکٹر عالمی اردو برادری کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم مہیا کرانا ہماری ذمہ داری ہے۔ اسی کے ساتھ ورلڈ اردو ایسو سی ایشن کے ترجمان ماہنامہ ’ترجیحات‘، جو اردو کا واحد آن لائن رسالہ ہے، میں ایڈیٹر کی ذمہ داری بھی میرے ہی سر پر ہے۔ اس رسالہ میں مہجری ادیب اور نوجوان نسل کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ آن لائن اردو پڑھانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ’آن لائن اردو لرننگ‘ بھی ہے۔ اس طرح سے اردو میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر استاد محترم کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہوں اور اپنے بچوں کو بھی ان تمام چیزوں کی ترغیب دیتا رہتا ہوں۔ میری بھی یہی کوشش ہے کہ استاد محترم کی ادبی و تکنیکی وراثت کو نئی نسل تک بہتر انداز میں پہنچا سکوں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined