انٹرویو

انٹرویو: ’منی پور میں تشدد کی اصل وجہ ہے اقتدار میں شراکت داری نہ ہونا‘، رام موئیوا

منی پور میں تشدد کی اصل وجہآبادیاتی عدم توازن اور منشیات کی اسمگلنگ کے علاوہ اقتدار میں شراکت داری کی کمی اور ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلنے کے جذبے کا فقدان ہے۔

<div class="paragraphs"><p>رام موئیوا، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

رام موئیوا، تصویر سوشل میڈیا

 

تنگ کھل ناگا برادری کے رامن گیننگ عرف رام موئیوا 35 سالوں تک آئی اے ایس افسر رہے اور 2019 میں شمال مشرقی کونسل کے سکریٹری کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ 2022 میں وہ ناگا پیپلز فرنٹ کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ 2023 میں جب میتیئی اور کوکی-زو برادریوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، تب اُخرل ضلع میں ناگا غیر جانبدار رہے تھے۔ آج اُخرل اور کامجونگ اضلاع منی پور میں جاری تشدد کے مرکز میں ہیں۔ انسانی حقوق کی وکیل، مصنفہ اور کارکن نندیتا ہکسر سے گفتگو کرتے ہوئے موئیوا نے ان پیچیدگیوں کو واضح کیا۔ پیش ہیں گفتگو کے اہم اقتباسات:

Published: undefined

ناگا اور کوکی-زو، دونوں کا کہنا ہے کہ منی پور اور مرکز کی یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے پہاڑی اضلاع کے ساتھ امتیازی سلوک کیا۔ کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں؟

اس مسئلے کو درست تناظر میں سمجھنے کے لیے اس حقیقت پر غور کیجیے کہ شمال مشرقی ہندوستان کی تمام پہاڑی قبائلی برادریوں کو ریاست کا درجہ ملا ہے، جس کی ابتدا 1963 میں ناگالینڈ، 1972 میں میگھالیہ، 1975 میں سکم، اور 1987 میں اروناچل پردیش اور میزورم سے ہوئی۔ دیگر قبائلیوں (جن میں آسام کے میدانی علاقوں کے بوڈو، کاربی اور دیماسا، نیز تریپورہ کے پہاڑی قبائل شامل ہیں) کو آئین کی چھٹی فہرست کے تحت علاقائی کونسلوں کا فائدہ ملا۔ افسوس کی بات ہے کہ منی پور کے پہاڑی قبائل کو مقامی خود مختاری تک سے محروم رکھا گیا ہے۔ منی پور میں نام نہاد خود مختار ضلعی کونسل (اے ڈی سی) مکمل طور پر بے اختیار ہے۔

حال ہی میں، انکم ٹیکس کے ایک ریٹائرڈ چیف کمشنر نے وادی اور پہاڑی اضلاع کے درمیان بجٹ مختص کرنے اور سرمایہ کاری میں شدید عدم مساوات کے بارے میں اپنی رپورٹ وزیر اعلیٰ کو پیش کی۔ 25-2024 میں وادی میں سرمایہ جاتی اخراجات 5,215 کروڑ روپے (93 فیصد) تھے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں یہ صرف 378 کروڑ روپے (7 فیصد) تھے۔ اسی عرصے کے دوران محاصل کے اخراجات وادی میں 22,632 کروڑ روپے (85 فیصد) اور پہاڑی علاقوں میں محض 4,041 کروڑ روپے (15 فیصد) تھے۔

اس الزام میں کتنی حقیقت ہے کہ سیکورٹی فورسز، خصوصاً آسام رائفلز، تنگ کھُل ناگا لوگوں کو کوکی شدت پسندوں کے حملوں سے بچانے میں ناکام رہی ہیں؟

مجھے ایسی شکایات موصول ہوئی ہیں کہ آسام رائفلز اور ہندوستانی فوج نے میانمار سے کوکی شدت پسندوں کو اُخرل ضلع تک پہنچایا۔ 7 مئی کو جب میانمار کے کے این اے-بی (کوکی نیشنل آرمی-برما) شدت پسندوں نے سرحدی دیہات چورو، وانگلی اور ناملی پر حملہ کیا تو صبح 4 بجے سے 7 بجے تک گھر جلتے رہے، لیکن الویو میں واقع آسام رائفلز کی چوکی (جو چورو سے محض چند سو میٹر کے فاصلے پر ہے) نے مداخلت کرنے کی زحمت نہیں کی۔

میں 9 مئی کو منی پور کے وزیر داخلہ کے ساتھ اس سرحدی علاقے کے دورے پر گیا تھا۔ ہم جہاں بھی گئے، خواتین نے آنسوؤں اور غصے کے ساتھ مطالبہ کیا کہ سرحدی علاقوں میں آسام رائفلز کی جگہ ریاستی فورسز کو تعینات کیا جائے۔ موقع سے برآمد ہونے والی وہ گولیاں، جو کوکی شدت پسند استعمال کر رہے تھے، ہندوستانی اسلحہ ساز کارخانوں کی بنی ہوئی تھیں؛ وہ تمام فوجی معیار کی تھیں اور کھلے بازار میں دستیاب نہیں ہیں۔ وہ جن ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہیں، ان میں زیادہ تر لائٹ مشین گن (ایل ایم جی)، ایس ایل آر اور دوربین سے لیس اسلحہ شامل ہے، جیسا کہ ہندوستانی فوجی استعمال کرتے ہیں۔ یہ انہیں کہاں سے ملتا ہے؟

اُخرل کی ایس پی کی گاڑی کو مونگ کوٹ چیپو کے کوکیوں نے قومی شاہراہ-202 پر ہندوستانی فوج کی ناک کے نیچے بری طرح نقصان پہنچایا۔ انہوں نے مداخلت کرنے اور ایس پی، جو ایک خاتون ہیں، کو بچانے کی زحمت نہیں کی۔ ضلعی انتظامیہ کے سربراہ، ڈپٹی کمشنر کو واپس امپھال بھیج دیا گیا، جہاں سے انہیں اُکھرول ضلعی ہیڈکوارٹر پہنچنے کے لیے ہیلی کاپٹر کا سہارا لینا پڑا۔ سوشل میڈیا پر میں نے فوجی جوانوں کی ویڈیوز دیکھی ہیں جو (فروری میں) لیتن میں ناگاؤں کے گھروں کو جلانے میں کوکی شدت پسندوں کا ساتھ دے رہے تھے۔ میں نے ان الزامات سے منی پور میں ہندوستانی فوج کے افسران کو آگاہ کیا ہے۔

میتیئی-کوکی تشدد کے دوران ناگا غیر جانب دار تھے۔ اب انہیں تشدد کے اس دور میں کیوں گھسیٹا گیا ہے؟

کوکی سرداروں اور پادریوں نے مجھے بتایا کہ اُکھرول میں اقلیت ہونے کے ناطے، جہاں کوکی آبادی ایک فیصد سے بھی کم ہے، وہ تنگ کھُل ناگاؤں سے لڑنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے بتایا کہ گھروں کو جلانے اور بے گناہوں کے قتل کا یہ پورا کام بے گھر افراد، جن میں سے کئی میانمار سے ہیں، اور ماؤنٹ سینائی میں قائم ایس او او (سسپنشن آف آپریشن) کیمپ میں پناہ لینے والے کوکی شدت پسندوں نے انجام دیا ہے۔

ناگا اکثریتی علاقوں میں کوکی بستیاں کیوں بڑھ رہی ہیں؟ کیا وہ میانمار سے ہیں یا ہندوستان سے؟

یہ بالکل ممکن ہے کہ کچھ کوکی زبان بولنے والے لوگ میانمار سے ہجرت کرکے آئے ہوں۔ مجھے ایک رپورٹ ملی ہے کہ میانمار کے کوکی اُکھرول اور کامجونگ اضلاع میں افیون کی کاشت کر رہے ہیں؛ وہ کوکی گاؤں کے سربراہ کو ’ٹیکس‘ کے طور پر سالانہ ایک کلوگرام افیون اور ’کوکی وار چیسٹ‘ (جنگی فنڈ) کو ایک کلوگرام افیون ادا کرتے ہیں۔

کیا فوجی حکومت اور ظلم و ستم سے بچ کر آنے والے میانماری پناہ گزینوں اور ہندوستان میں مستقل طور پر آباد ہونے کے واضح مقصد سے آنے والے غیر قانونی تارکین وطن میں فرق ہونا چاہیے؟

منی پور حکومت نے میانمار کے حقیقی پناہ گزینوں کو ضروری مدد فراہم کی ہے۔ وزیر داخلہ کے ساتھ سرحدی علاقے کے اپنے حالیہ دورے میں ہم ان پناہ گزینوں سے ملے، جن میں سے تقریباً 300 افراد ریاستی حکومت کے علم میں ناملی تنگ کھُل گاؤں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

میرا خیال ہے کہ آپ نے کامجونگ ضلع میں ہندوستان-میانمار سرحد پر واقع تین ناگا دیہات کا دورہ کیا، جن پر میانمار کے کوکی شدت پسندوں اور مبینہ طور پر برمی پیپلز ڈیفنس فورس نے حملہ کیا تھا؟

سرحدی دیہات پر درحقیقت میانمار کے کوکی شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا۔ تاہم اس کے مقصد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ کامجونگ منی پور کے لیے سب سے زیادہ محاصل پیدا کرنے والا علاقہ بن گیا تھا، جس کی بنیادی وجہ سپاری، لکڑی، مویشیوں اور دیگر اشیا کی فروغ پاتی سرحدی تجارت تھی۔ ہمیں شبہ ہے کہ شدت پسند اس تجارت کا رخ کوکی-زو اکثریتی ضلع چوراچاندپور کی طرف موڑنا چاہتے تھے۔

صحافیوں اور ماہرین تعلیم کے زمینی مطالعات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ سرحدی دیہات میں منشیات کی اسمگلنگ بڑھی ہے اور اس میں تمام برادریاں شامل ہیں۔ کوکیوں کو نارکو-دہشت گرد کہنا کس حد تک درست ہے؟

یہ سچ ہے کہ اخبارات اکثر منی پور، آسام، میزورم اور ناگالینڈ میں کوکیوں کی جانب سے منشیات کی اسمگلنگ کی خبریں شائع کرتے ہیں۔ اُکھرول اور کامجونگ میں افیون کی کاشت نے ماحولیات کو تباہ کر دیا ہے۔ وہ تمام غیر متاثرہ جنگلات، جنہیں دیکھتے ہوئے میں بڑا ہوا ہوں، اب غیر قانونی افیون کی کاشت کے باعث اجڑ چکے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ افیون کی کاشت تمام برادریاں کر رہی ہیں۔ یہاں تک کہ ہندوستانی فوج اور منی پور کی ریاستی فورسز کے اہلکاروں کے بھی منشیات کی اسمگلنگ کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں، لیکن میں نے اب تک گرفتار کیے گئے ایسے افسران کو سزا ملنے کا کوئی واقعہ نہیں دیکھا۔

ہندوستان-میانمار سرحد کا تعین انگریزوں نے مقامی لوگوں سے مشورہ کیے بغیر کیا تھا۔ اب ہندوستانی حکومت وہاں دیوار تعمیر کرنا چاہتی ہے۔

انگریزوں کی کھینچی ہوئی مصنوعی سیاسی سرحد ناگا لوگوں کے لیے ایک المیہ تھی اور ہم آج بھی اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ میانمار اور ہندوستان کے ناگا ایک ہی انتظامیہ کے تحت اکٹھے رہنا چاہتے ہیں۔ مثالی طور پر ہمیں دیواریں گرا دینی چاہئیں، جیسے مشرقی اور مغربی جرمنی کے درمیان برلن کی دیوار گرائی گئی تھی۔

ہم کسی مثالی دنیا میں نہیں رہ رہے۔ شاید بعض اضلاع (چوراچاندپور، چندیل اور تنگنوپال) میں، جہاں غیر قانونی تارکین وطن کی بڑی دراندازی ہے، ’حفاظتی باڑ‘ کی ضرورت ہے۔ تاہم اُکھرول میں باڑ لگانے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ناگا سرحد کے دونوں طرف رہتے ہیں اور ناگا ثقافت میں ہجرت کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔

جب ہم کوکی کہتے ہیں تو اس میں کئی برادریاں شامل ہوتی ہیں۔ براہِ کرم بتائیں کہ تنگ کھُلوں پر حملے کون سے کوکی کر رہے ہیں۔ یہ اور بھی الجھا دینے والی بات ہے کیونکہ تنگ کھُل 2023 میں کوکی-زو لوگوں کو پناہ دے رہے تھے اور اب بھی دے رہے ہیں۔

کوکی ایک عمومی اصطلاح ہے اور تھاڈو اس کے تحت آنے والے نمایاں قبائل میں سے ایک ہیں۔ تاہم بعض تھاڈو دانشوروں نے واضح کیا ہے کہ وہ خود کو کوکی کے طور پر شناخت نہیں کرنا چاہتے۔ میرا ماننا ہے کہ تنگ کھُلوں پر حالیہ حملے تھاڈو اور کوکی دونوں قبائل نے کیے ہیں۔ جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں، نہ عام کوکی اور نہ ہی عام تنگ کھُل تشدد میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ کوکی شدت پسند اور بے گھر افراد ہیں جو تباہی مچا رہے ہیں۔

کیا آپ کے پاس منی پور میں امن کے لیے کوئی روڈ میپ ہے؟

ہمیں صرف علامات سے نمٹنا بند کرنا چاہیے۔ منی پور میں تشدد کی بنیادی وجہ، آبادیاتی عدم توازن اور منشیات کی اسمگلنگ کے علاوہ، اقتدار میں شراکت داری اور ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلنے کے جذبے کا فقدان ہے۔

مخلوط آبادیوں کے پُرامن طور پر ایک ساتھ رہنے اور خوش حال ہونے کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ میگھالیہ میں آٹھ وزرائے اعلیٰ رہ چکے ہیں، جن میں چار گارو اور چار خاصی تھے۔ نائب وزیر اعلیٰ ایک چھوٹے قبیلے، جینتیا سے ہیں۔ سکم میں راجیہ سبھا کے رکن ہمیشہ اقلیتی برادری، بھوٹیا یا لیپچا سے ہوتے ہیں۔ سنگاپور کے صدر ہمیشہ اقلیتی برادری، ملائی یا تمل نسل سے ہوتے ہیں۔ ہمیں ان بہترین روایات اور کامیاب مثالوں کو دہرانا چاہیے؛ منی پور کے لیے آگے بڑھنے کا یہی راستہ ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined