انٹرویو

انٹرویو: ڈاکٹر عالمگیر ساحل پورے شد و مد کے ساتھ کوئلانچل میں کر رہے اُردو ادب کی آبیاری

’’طلبا میں اردو زبان و ادب کے تئیں حقیقی لگن پیدا کرنا اور اسے برقرار رکھنا عصرِ حاضر میں ایک بڑا علمی چیلنج ہے، جسے میں محض روایتی لکچر کے بجائے تخلیقی و عملی حکمت سے حل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عالمگیر ساحل</p></div>

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عالمگیر ساحل

 

ڈاکٹر عالمگیر ساحل کا مختصر تعارف:

ڈاکٹر محمد عالمگیر انصاری، جو عالمگیر ساحلؔ کے نام سے مشہور ہیں، جھارکھنڈ کی مشہور ’بنود بہاری مہتو کوئلانچل یونیورسٹی‘ میں 10 مارچ 2022 سے تدریسی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ انھوں نے شعبۂ اردو میں طلبا و طالبات کے درمیان ایک خوشگوار ماحول پیدا کیا ہے تاکہ ان میں ادب کے تئیں دلچسپی پیدا ہو اور ایک ایسا تنقیدی شعور بیدار کیا جائے جس سے وہ ادب کو زندگی کے بدلتے ہوئے تناظر میں سمجھ سکیں۔ شعر و سخن، ادبی صحافت اور تحقیق و تنقید عالمگیر ساحل کے پسندیدہ مشاغل ہیں، اس لیے وہ تدریسی ذمہ داری نبھانے کے ساتھ ساتھ ادبی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ ان کی اہم ادبی کاوشوں میں ’ندا فاضلی کی شاعری میں ہندوستانی کلچر کی عکاسی‘ (تنقید)، ’ندا کے چار رنگ‘ (تنقید)، ’مطالعات‘ (تنقیدی مضامین کا مجموعہ)، ’شعبہ اردو رانچی یونیورسٹی کے معروف قلمکار‘ (ترتیب مع مقدمہ)، ’دھوپ کی مسافت‘ (شعری مجموعہ) وغیرہ شامل ہیں۔ ادبی صحافت کی بات کریں، تو وہ سہ ماہی ’عہد نامہ‘ (معاون مدیر)، 15 روزہ ’کہاں ہم لوگ‘ (معاون مدیر)، سہ ماہی ’موج ادب‘ (مالک و مدیر اعلیٰ کی حیثیت سے، اس کے 2 شمارے منظر عام پر آئے)، سہ ماہی ’امید سحر‘ (مالک و مدیر اعلیٰ کی حیثیت سے، اس کے 26 شمارے منظر عام پر آ چکے ہیں) وغیرہ سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے ادبی کارناموں کو پیش نظر رکھتے ہوئے جنوری 2026 میں انھیں ’ڈاکٹر حیرت فرخ آبادی ایوارڈ‘ سے سرفراز کیا گیا۔

Published: undefined

20 مارچ 1984 کو رانچی واقع بریاتو کے ستار کالونی میں پیدا ہوئے عالمگیر ساحل کے تعلیمی سفر میں اُردو کو خاص مقام حاصل رہا ہے۔ انھیں اردو اور عربی کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی ملی، اور پھر ضلع اسکول بریاتو سے میٹرک کی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں انٹرمیڈیٹ کے لیے انھوں نے رانچی کالج کا رخ کیا اور وہیں سے بی اے (اردو) تک کی تعلیم مکمل کی۔ اردو سے بے انتہا محبت کرنے والے عالمگیر ساحل نے آگے کی تعلیم کے لیے شعبۂ اُردو، رانچی یونیورسٹی کا انتخاب کیا۔ یہاں سے ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر پوری طرح اردو کے فروغ میں مصروف ہو گئے۔

——————————————————————

Published: undefined

بنود بہاری مہتو کوئلانچل یونیورسٹی کی تاریخ  پر مختصر روشنی ڈالیں، یہ یونیورسٹی کن معنوں میں اہمیت کی حامل ہے؟

بنود بہاری مہتو کوئلانچل یونیورسٹی، دھنباد کا قیام 13 نومبر 2017 کو عمل میں آیا جو اس خطے کے عوام کی دیرینہ جدوجہد کا ثمرہ ہے۔ اس یونیورسٹی کا نام جھارکھنڈ کے عظیم عوامی رہنما اور تحریکِ تعلیم کے علمبردار بنود بہاری مہتو کے نام پر رکھا گیا ہے، جن کا مشہور نعرہ ’پڑھو اور لڑو‘ آج بھی یہاں کے طلبا کے لیے مشعل راہ ہے۔ یہ یونیورسٹی بنیادی طور پر ونوبا بھاوے یونیورسٹی، ہزاری باغ سے الگ ہو کر تشکیل پائی تاکہ دھنباد اور بوکارو جیسے صنعتی اور معدنی وسائل سے مالا مال اضلاع کے طلبا کو ان کی دہلیز پر اعلیٰ تعلیم کی جدید سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ جغرافیائی اعتبار سے یہ خطہ ’کوئلانچل‘ یعنی ’کوئلے کی سرزمین‘ کے طور پر جانا جاتا ہے، جہاں محنت کش طبقہ اور قبائلی آبادی بڑی تعداد میں بستی ہے۔ ایسے ماحول میں ایک آزاد اور مکمل یونیورسٹی کا قیام اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ یہاں کے ہونہار طلبا کو دور دراز کے بڑے شہروں میں جانے کے بجائے اپنے ہی علاقے میں بین الاقوامی معیار کی تعلیم میسر آ سکے۔

یہ یونیورسٹی محض ایک انتظامی اکائی نہیں ہے بلکہ یہ کوئلانچل کے پسماندہ اور وسائل سے محروم طبقات کے لیے سماجی و اقتصادی ترقی کا ایک روشن مینار ہے۔ اس کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہو جاتی ہے کہ یہ علاقہ کثیر لسانی اور کثیر تہذیبی شناخت رکھتا ہے۔ یہاں اردو، ہندی، بنگالی اور مختلف مقامی زبانیں بولنے والے ایک ہی چھت کے نیچے پڑھائی کرتے ہیں۔ یونیورسٹی ان تمام لسانی اکائیوں کے درمیان ایک فکری ربط پیدا کرنے کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔ بالخصوص اردو زبان و ادب کے حوالے سے یہ ادارہ ایک کلیدی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ دھنباد اور گرد و نواح میں اردو بولنے اور سمجھنے والوں کی ایک بڑی علمی و ادبی تاریخ رہی ہے۔ یہاں کے تعلیمی نظام میں جدیدیت اور روایت کا حسین سنگم ملتا ہے جو طلبا کو مسابقتی امتحانات اور روزگار کے بازار میں اپنی جگہ بنانے کے قابل بناتا ہے۔

شعبۂ اردو میں تدریس کے دوران آپ کو کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور آپ ان کا حل کس طرح نکالتے ہیں؟

شعبۂ اردو میں تدریس کے فرائض انجام دینا جہاں ایک علمی اعزاز ہے وہیں کئی تعلیمی اور نفسیاتی چیلنجز سے بھی بھرپور ہے۔ سب سے بڑا چیلنج طلبا کی لسانی بنیاد کا کمزور ہونا ہے۔ کوئلانچل کے اس صنعتی خطے میں اکثر طلبا ایسے بیک گراؤنڈ سے آتے ہیں جہاں اردو ان کی مادری زبان تو ہے، لیکن ادبی زبان کے محاسن، فصاحت و بلاغت اور گرامر کی پیچیدگیوں سے وہ کماحقہٗ واقف نہیں ہوتے۔ خاص طور پر کلاسیکی شاعری کی تفہیم ابتدا میں کافی خشک اور مشکل ثابت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ جدید دور میں ڈیجیٹل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات کی وجہ سے طلبا میں سنجیدہ مطالعے کی روایت کمزور پڑ رہی ہے، جس کی وجہ سے ان کے ذخیرۂ الفاظ میں کمی اور فکری گہرائی میں فقدان نظر آتا ہے۔

ان چیلنجز کے حل کے لیے میں نے ایک کثیر الجہتی اور عملی حکمت اختیار کی ہے۔ لسانی مہارتوں کی بہتری کے لیے ہم کلاسز میں محض نصابی اسباق پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ باقاعدہ املا، تلفظ اور لغت کے درست استعمال کی مشق کرواتے ہیں۔ جہاں تک عروض اور شعری و فنی مباحث کا تعلق ہے، میں نے اسے سہل بنانے کے لیے ’بزم ادب‘ کے نام سے ماہانہ نشست کا آغاز کیا ہے جہاں خشک نظریات کے بجائے عملی طور پر اشعار کی تقطیع اور اوزان کی مشق کرائی جاتی ہے۔ دوسرا اہم حل ٹیکنالوجی کا ادبی استعمال ہے۔ ہم طلبا کو جدید تحقیقی ویب سائٹس اور آن لائن لائبریریز سے متعارف کرواتے ہیں تاکہ وہ کتابوں کی دستیابی کے مسائل سے اوپر اٹھ کر تازہ ترین تحقیقی مقالات تک رسائی حاصل کر سکیں۔ میرا مقصد محض ڈگری دلوانا نہیں، بلکہ طلبہ میں ایک ایسا تنقیدی شعور بیدار کرنا ہے کہ وہ ادب کو زندگی کے بدلتے ہوئے تناظر میں سمجھ سکیں۔

طلبا میں اردو زبان و ادب کے تئیں دلچسپی بڑھانے کے لیے آپ کون سی تدریسی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں؟

طلبا میں اردو زبان و ادب کے تئیں حقیقی لگن پیدا کرنا اور اسے برقرار رکھنا عصرِ حاضر میں ایک بڑا علمی چیلنج ہے، جسے میں محض روایتی لکچر کے بجائے تخلیقی اور عملی حکمت سے حل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میری پہلی ترجیح یہ ہوتی ہے کہ اردو ادب کو ماضی کا قصہ سمجھنے کے بجائے اسے موجودہ زندگی اور عصری مسائل سے جوڑ کر پیش کیا جائے۔ جب میں میرؔ، غالبؔ، فیضؔ یا اقبالؔ کی شاعری پڑھاتا ہوں تو اس کی تفہیم محض لغوی معنوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ میں ان کے اشعار کو آج کے نفسیاتی اور فکری تناظر میں واضح کرتا ہوں تاکہ طالب علم کو محسوس ہو کہ یہ کلام ان کی اپنی زندگی کی ترجمانی کر رہا ہے۔

شعبۂ اردو میں ہم باقاعدگی سے ادبی سیمینار، ادبی کوئز، افسانہ خوانی وغیرہ منعقد کرتے ہیں، جن سے خشک نصابی اسباق میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ میں ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ذرائع کا بھرپور استعمال کرتا ہوں۔ ریختہ جیسی ویب سائٹس، ای-لائبریریز اور دستاویزی فلموں کے ذریعے طلبا کو اردو کی وسعت کا احساس دلایا جاتا ہے۔ میرا مقصد یہ ہے کہ طالب علم اردو کو محض ایک اختیاری مضمون کے طور پر نہ پڑھے بلکہ اسے اپنی تہذیبی شناخت اور اظہار کا بہترین وسیلہ سمجھ کر اس سے عشق کرنے لگے۔

کیا تدریس کے دوران آپ مرد طالب علم اور خاتون طالب علم میں کسی طرح کا فرق محسوس کرتے ہیں؟

برسوں کے تدریسی مشاہدے اور کلاس روم کے تجربات کی روشنی میں مرد اور خاتون طلبہ کے درمیان بعض رویوں اور تعلیمی سرگرمیوں کا فرق میں نے واضح طور پر محسوس کیا ہے۔ اگر ہم کلاس میں شرکت اور حاضری کی بات کریں تو عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ طالبات زیادہ سنجیدہ اور پابند وقت نظر آتی ہیں۔ اردو زبان و ادب کے تئیں ان کا لگاؤ شعوری اور تخلیقی سطح پر زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ وہ لکچرز کو غور سے سننے، اہم نکات کو قلمبند کرنے اور نصابی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے میں زیادہ مستعد ہوتی ہیں، جبکہ لڑکوں میں کبھی کبھی لاابالی پن یا حاضری کے معاملے میں قدرے غیر سنجیدگی دیکھنے کو ملتی ہے۔

جہاں تک پروجیکٹ ورک اور تحقیقی اسائنمنٹس کا تعلق ہے، طالبات کا کام زیادہ سلیقہ مند اور جمالیاتی حسن سے بھرپور ہوتا ہے۔ وہ باریکیوں پر توجہ دیتی ہیں اور دیے گئے کام کو وقت مقررہ پر ختم کرتی ہیں۔ اس کے برعکس مرد طلبا میں اگرچہ فکری بے باکی اور زبانی بحث و مباحثے کی صلاحیت زیادہ نمایاں ہوتی ہے لیکن تحریری کام میں وہ اکثر اختصار یا عجلت سے کام لیتے ہیں۔ کلاس روم میں ہونے والی علمی گفتگو میں مرد طلبہ عموماً زیادہ متحرک رہتے ہیں اور سوالات اٹھانے میں جھجک محسوس نہیں کرتے، جبکہ طالبات ابتدا میں قدرے کم گو ہوتی ہیں لیکن جب وہ اظہارِ خیال کرتی ہیں تو ان کے استدلال میں متن کا گہرا مطالعہ اور متانت جھلکتی ہے۔

ڈاکٹر عالمگیر ساحل (ہرے لباس میں) طلبا و طالبات کے ساتھ

کوئلانچل یونیورسٹی کا مجموعی تعلیمی ماحول اردو زبان و ادب کی ترقی میں کس حد تک معاون ثابت ہو رہا ہے؟

ہمارے یہاں اردو شعبہ محض ایک روایتی نصابی ضرورت نہیں بلکہ ایک متحرک ادبی اکائی بن چکا ہے، جہاں طلبا کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے بھرپور مواقع میسر ہیں۔ کالج کا ماحول کثیر لسانی ہونے کے باوجود اردو کے لیے ایک خاص کشش رکھتا ہے۔ نئی تعلیمی پالیسی اور جدید نصاب کے نفاذ کے بعد دیگر مضامین کے طلبا کا  اوپن الیکٹیو (Open Elective) کے طور پر اردو کا انتخاب کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہاں کا علمی ماحول اردو کی خوشبو سے معطر ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے ادبی تقریبات، سمینارز اور مشاعروں کے انعقاد کے لیے ملنے والا بھرپور تعاون اس ترویجی عمل کو مزید مہمیز کرتا ہے۔

اس صنعتی خطے میں، جہاں عام طور پر تکنیکی اور کاروباری رجحانات کا غلبہ رہتا ہے، ہمارا ادارہ انسانی اقدار اور ادبی لطافتوں کا تحفظ کر رہا ہے۔ یونیورسٹی کی لائبریری میں اردو کی معیاری کتب اور عصری رسائل کی موجودگی طلبا میں ذوقِ مطالعہ کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ اساتذہ اور طلبا کے درمیان ہونے والی غیر رسمی ادبی نشستیں اور علمی مکالمے اردو زبان کی تفہیم کو محض امتحانی ضرورت سے نکال کر فکری گہرائی تک لے جاتے ہیں۔ دھنباد جیسے علاقے میں، جہاں اردو کو کئی سماجی و لسانی چیلنجز کا سامنا رہا ہے، یونیورسٹی کا یہ علمی وقار اور ادبی سرگرمیاں اردو کی بقا اور ترقی میں ایک سنگِ میل ثابت ہو رہی ہیں۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined